کیوں نہ ہم یاد کسی کو سحر و شام کریں
کیوں نہ ہم یاد کسی کو سحر و شام کریں ہو نہ اتنا بھی محبت میں تو کیا کام کریں ہائے تربت پہ مری ناز سے کہنا ان کا آپ لیٹے ہوئے اب حشر تک آرام کریں اس زمانے میں ترے بادیہ پیما بھی عجب جم کے بیٹھیں جو کہیں مثل نگیں نام کریں کعبہ و دیر کا مٹ جائے جہاں سے جھگڑا جلوۂ حسن حقیقت وہ اگر عام ...