قومی زبان

محبت میں خوشی بھی کہکشاں معلوم ہوتی ہے

محبت میں خوشی بھی کہکشاں معلوم ہوتی ہے یہ ہستی اب ہمیں لطف جہاں معلوم ہوتی ہے ہے گزری کیا سے کیا عشق و محبت کے تناظر میں محبت خارج از سود و زیاں معلوم ہوتی ہے ہم اس دنیا میں رہ کر آخرت کی بات کرتے ہیں ہمیں تو یہ زمیں اب آسماں معلوم ہوتی ہے یہ ہے اب شاعری مجذوب کی سن لو ذرا ...

مزید پڑھیے

روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے

روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے ایک دیوانہ مسافر ہے مری آنکھوں میں وقت بے وقت ٹھہر جاتا ہے چل پڑتا ہے اپنی تعبیر کے چکر میں مرا جاگتا خواب روز سورج کی طرح گھر سے نکل پڑتا ہے روز پتھر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیں روز شیشوں سے کوئی کام نکل ...

مزید پڑھیے

چراغوں کو اچھالا جا رہا ہے

چراغوں کو اچھالا جا رہا ہے ہوا پر رعب ڈالا جا رہا ہے نہ ہار اپنی نہ اپنی جیت ہوگی مگر سکہ اچھالا جا رہا ہے وہ دیکھو میکدے کے راستے میں کوئی اللہ والا جا رہا ہے تھے پہلے ہی کئی سانپ آستیں میں اب اک بچھو بھی پالا جا رہا ہے مرے جھوٹے گلاسوں کی چھکا کر بہکتوں کو سنبھالا جا رہا ...

مزید پڑھیے

بیر دنیا سے قبیلے سے لڑائی لیتے

بیر دنیا سے قبیلے سے لڑائی لیتے ایک سچ کے لئے کس کس سے برائی لیتے آبلے اپنے ہی انگاروں کے تازہ ہیں ابھی لوگ کیوں آگ ہتھیلی پہ پرائی لیتے برف کی طرح دسمبر کا سفر ہوتا ہے ہم اسے ساتھ نہ لیتے تو رضائی لیتے کتنا مانوس سا ہمدردوں کا یہ درد رہا عشق کچھ روگ نہیں تھا جو دوائی ...

مزید پڑھیے

لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں

لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں مے کدہ ظرف کے معیار کا پیمانہ ہے خالی شیشوں کی طرح لوگ اچھلتے کیوں ہیں موڑ ہوتا ہے جوانی کا سنبھلنے کے لیے اور سب لوگ یہیں آ کے پھسلتے کیوں ہیں نیند سے میرا تعلق ہی نہیں برسوں سے خواب آ آ کے مری ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو

آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو راہ کے پتھر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں منزلیں راستے آواز دیتے ہیں سفر جاری رکھو ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو آتے جاتے پل یہ کہتے ہیں ہمارے کان میں کوچ کا اعلان ...

مزید پڑھیے

محبتوں کے سفر پر نکل کے دیکھوں گا

محبتوں کے سفر پر نکل کے دیکھوں گا یہ پل صراط اگر ہے تو چل کے دیکھوں گا سوال یہ ہے کہ رفتار کس کی کتنی ہے میں آفتاب سے آگے نکل کے دیکھوں گا مذاق اچھا رہے گا یہ چاند تاروں سے میں آج شام سے پہلے ہی ڈھل کے دیکھوں گا وہ میرے حکم کو فریاد جان لیتا ہے اگر یہ سچ ہے تو لہجہ بدل کے دیکھوں ...

مزید پڑھیے

تخلیق

یہ کاغذ پر مرے دل کا لہو ہے یہ نظمیں خون سے لکھی ہیں میں نے یہ یادیں ہیں مرے بیتے دنوں کی یہ سرمایہ ہے میری زندگی کا ہے لفظوں میں مقفل روح میری جو میرے بعد بھی زندہ رہے گی مری تخلیق پایندہ رہے گی

مزید پڑھیے

آغوش احتیاط میں رکھ لوں جگر کہیں

آغوش احتیاط میں رکھ لوں جگر کہیں ڈرتا ہوں لے اڑے نہ کسی کی نظر کہیں غربت میں اجنبی کا بھی ہوتا ہے گھر کہیں دن بھر کہیں گزاریے یا رات بھر کہیں اغیار ہوں کہیں بت شوریدہ سر کہیں سب کچھ ہو آہ میں تو ہو اپنی اثر کہیں یوں اف نہ باغ دہر میں بربادی ہو کوئی بلبل کا آشیاں ہے کہیں بال و پر ...

مزید پڑھیے

یہ قطرۂ شبنم نہیں اے سوز جگر آج

یہ قطرۂ شبنم نہیں اے سوز جگر آج ڈوبی ہوئی آئے ہے پسینوں میں سحر آج بے وجہ نہیں فطرت شوخی کا گزر آج تم آنکھ ملا کر جو چراتے ہو نظر آج وہ آئے عیادت کو تو آئی ہے قضا بھی مہماں ہوئے اک وقت میں دو دو مرے گھر آج ارمان نکلنے دیے کس سوختہ دل کا ہے وصل کی شب بول نہ اے مرغ سحر آج وہ کعبۂ دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1753 سے 6203