قومی زبان

دریا تھے بند کوزے میں ہم ہو کے رہ گئے

دریا تھے بند کوزے میں ہم ہو کے رہ گئے یہ کیا کہ اپنے آپ میں کم ہو کے رہ گئے ہر وقت گرم رہتے تھے ہم ریت کی طرح پانی کا لمس ملتے ہی نم ہو کے رہ گئے چاہا کہ ابتدا میں کروں اس کی داستاں لکھنے چلا تو ہاتھ قلم ہو کے رہ گئے خاموشیوں میں گم ہوئی دل کی ہر ایک چوٹ گزرا وہ غم کہ پیکر غم ہو کے ...

مزید پڑھیے

میں اپنی بلندی کو بھی کھو کر نہیں گرتا

میں اپنی بلندی کو بھی کھو کر نہیں گرتا ٹوٹا ہوا تارہ ہوں زمیں پر نہیں گرتا ہر شاخ سے جڑ پھوٹ کے گرتی ہے زمیں میں برگد ہوں میں آندھی میں اکھڑ کر نہیں گرتا وہ پیڑ ثمر دار کہیں گھر میں نہیں ہے آنگن میں مرے اب کوئی پتھر نہیں گرتا اس محفل یاراں سے اگر جاتے ہو جاؤ اک اینٹ کھسکنے سے ...

مزید پڑھیے

کسی کے ساتھ بھی اس نے وفا نبھائی کیا

کسی کے ساتھ بھی اس نے وفا نبھائی کیا بس اس سوال پہ دیتا رہوں دہائی کیا جسے نہ ہوش ہے خود کا نہ فکر دنیا کی تو اس کو سوچئے پرواہ جگ ہنسائی کیا اب آسمان ملے یا ملے قفس ہم کو وہ ساتھ ہوں تو ہمیں قید کیا رہائی کیا انہوں نے خط نہیں بھیجا پہ یہ بتا قاصد انہیں ہماری کبھی یاد بھی نہ آئی ...

مزید پڑھیے

در حقیقت ہے یہ سازش حادثہ کہنے کو ہے

در حقیقت ہے یہ سازش حادثہ کہنے کو ہے اب ہمارے پاس کیا اس کے سوا کہنے کو ہے کیا جنوں ہے راہ منزل میں چبھے ہر خار کو پاؤں کا ہر آبلہ بھی مرحبا کہنے کو ہے ہم کو ہے تسلیم تیری بات لیکن جان لے یہ سراسر ضد ہے تیری التجا کہنے کو ہے یہ ترے تیر نظر اس پہ تری ظلمی ادا دل کا ہر اک زخم تیرا ...

مزید پڑھیے

ہزاروں الجھنیں ہے اس دل خوددار کے آگے

ہزاروں الجھنیں ہے اس دل خوددار کے آگے مگر یہ ہار جاتا ہے ترے اصرار کے آگے تری زلفوں کے آگے یہ گھٹائیں ہاتھ ملتی ہیں گلوں کے رنگ پھیکے ہیں ترے رخسار کے آگے محبت کا کروں اظہار لیکن سوچ لوں پہلے کہوں گا کیا اچانک میں ترے انکار کے آگے ہوائیں ہیں مخالف پر رکھی ہے تھام کر ہم نے ہماری ...

مزید پڑھیے

غیر ممکن ہے کہ توہین وفا ہو جاؤں

غیر ممکن ہے کہ توہین وفا ہو جاؤں میں تو مر جاؤں اگر اس سے جدا ہو جاؤں میں ترے عشق میں برباد ہوں مجروح بھی ہوں اور کیا تو ہی بتا اس کے سوا ہو جاؤں مری حسرت ہے کہ آغوش میں لے لوں تجھ کو یا ترے جسم سے لپٹے وہ ردا ہو جاؤں اپنی بربادی کا الزام لگاؤں کس پر کوئی اپنا تو رہے جس سے خفا ہو ...

مزید پڑھیے

ہو دوا میرے مرض کی تو مجھے لا کر دے

ہو دوا میرے مرض کی تو مجھے لا کر دے یا مرے حق میں دعا ہی تو خدارا کر دے تو بھلے آ نہ مگر دل کی تسلی کے لئے بے رخی یوں نہ دکھا کوئی بہانا کر دے اس سے پہلے کہ شکایت مری پہنچے تجھ تک تو مجھے بزم سے جانے کا اشارہ کر دے پتھروں کو ہے یہ ڈر دور مناسب میں کہیں ان کو چھو کر نہ کوئی رام اہلیا ...

مزید پڑھیے

بے زباں اردو

ہوئی جاتی ہے نذر شورش آہ و فغاں اردو کہے کس سے یہاں اپنے غموں کی داستاں اردو معاذ اللہ ہے دام ہوس میں قید برسوں سے کہاں سے ڈھونڈ کے لائے اب اپنا مہرباں اردو اجازت لب کشائی کی نہ حق فریاد کرنے کا خود اپنے ہی وطن میں ہو گئی ہے بے زباں اردو وہی کرتے ہیں کوشش آج اردو کو مٹانے کی سکھاتی ...

مزید پڑھیے

عورت

دنیا کے لئے تحفۂ نایاب ہے عورت افسانۂ ہستی کا حسیں باب ہے عورت دیکھا تھا جو آدم نے وہی خواب ہے عورت بے مثل ہے آئینہ آداب ہے عورت قائم اسی عورت سے محبت کی فضا ہے عورت کی عطا اصل میں احسان خدا ہے ہے ماں تو دل و جاں سے لٹاتی ہے سدا پیار ممتا کے لئے پھرتی ہے دولت سر بازار آسان بناتی ہے ...

مزید پڑھیے

قطب مینار

اے قطب مینار اے بھارت کی عظمت کے نشاں ہر گھڑی سایہ فگن رہتا ہے تجھ پر آسماں تیرے ہر اک سنگ میں پنہاں ہے تیری داستاں دیدۂ حیرت سے تکتے ہیں تجھے اہل جہاں سر بلندی پر تری ہم ہندیوں کو ناز ہے تو ہماری خوش نما تاریخ کا غماز ہے تیرا مسکن ارض دلی رشک حسن کوہ قاف چاند سورج روز تیرے گرد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1740 سے 6203