دریا تھے بند کوزے میں ہم ہو کے رہ گئے
دریا تھے بند کوزے میں ہم ہو کے رہ گئے یہ کیا کہ اپنے آپ میں کم ہو کے رہ گئے ہر وقت گرم رہتے تھے ہم ریت کی طرح پانی کا لمس ملتے ہی نم ہو کے رہ گئے چاہا کہ ابتدا میں کروں اس کی داستاں لکھنے چلا تو ہاتھ قلم ہو کے رہ گئے خاموشیوں میں گم ہوئی دل کی ہر ایک چوٹ گزرا وہ غم کہ پیکر غم ہو کے ...