کسی نے کیسے نبھائی ہے آسماں سے نہ پوچھ
کسی نے کیسے نبھائی ہے آسماں سے نہ پوچھ نہ پوچھ طائر گم کردہ آشیاں سے نہ پوچھ سحر بجائے خود اک داستاں نہ ہو جائے حکایت شب رفتہ مری اذاں سے نہ پوچھ ترے جمال کو محشر سمجھ رہے ہیں لوگ امڈ کے آئی ہے خلقت کہاں کہاں سے نہ پوچھ جواب اور تو مل جائیں گے سبھی لیکن مرا قصور ہی ارباب دو ...