قومی زبان

کسی نے کیسے نبھائی ہے آسماں سے نہ پوچھ

کسی نے کیسے نبھائی ہے آسماں سے نہ پوچھ نہ پوچھ طائر گم‌ کردہ‌ آشیاں سے نہ پوچھ سحر بجائے خود اک داستاں نہ ہو جائے حکایت شب رفتہ مری اذاں سے نہ پوچھ ترے جمال کو محشر سمجھ رہے ہیں لوگ امڈ کے آئی ہے خلقت کہاں کہاں سے نہ پوچھ جواب اور تو مل جائیں گے سبھی لیکن مرا قصور ہی ارباب دو ...

مزید پڑھیے

ہو بزدلی کا بہانا تو صبر کیا ٹوٹے

ہو بزدلی کا بہانا تو صبر کیا ٹوٹے اگر ہے ضبط تو اب اس کی انتہا ٹوٹے نئے چراغ جلیں دھندھ کی ردا ٹوٹے یہ میرے خواب تھے لیکن یہ بارہا ٹوٹے مری طلب میں کمی ہے نہ حوصلوں میں مگر یہ حسرتوں کی تمنا ہے دل مرا ٹوٹے ہے بے رخی بھی تری کچھ تو آندھیوں کی طرح چراغ دل کی میرے جس میں التجا ...

مزید پڑھیے

اڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک

اڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک یہ اور خاک ہے اک دشت بے کنار کی خاک یہ میں نہیں ہوں تو پھر کس کی آمد آمد ہے خوشی سے ناچتی پھرتی ہے ریگزار کی خاک ہمیں بھی ایک ہی صحرا دیا گیا تھا مگر اڑا کے آئے ہیں وحشت میں بے شمار کی خاک ہمیں مقیم ہوئے مدتیں ہوئیں لیکن سروں سے اب بھی نکلتی ...

مزید پڑھیے

یہ عمل موجۂ انفاس کا دھوکا ہی نہ ہو

یہ عمل موجۂ انفاس کا دھوکا ہی نہ ہو زندگی عشرت احساس کا دھوکا ہی نہ ہو جیسے اک خواب ہوا عہد گزشتہ کا ثبات دم آئندہ مری آس کا دھوکا ہی نہ ہو یہ نگیں بھی نہ ہو بس معجزۂ تار نظر یہ ہنر شیشہ و الماس کا دھوکا ہی نہ ہو مرے تخئیل کے ہی عکس نہ ہوں سبزہ و گل دہر اوہام کا وسواس کا دھوکا ...

مزید پڑھیے

سائے کے حق میں کچھ نہیں میرے بیان میں

سائے کے حق میں کچھ نہیں میرے بیان میں جو آپ چھپتا پھرتا ہے ہر سائبان میں یہ چھوٹے چھوٹے شوق بھی اس کو روا نہیں جس کو بڑا بنایا گیا خاندان میں مجھ کو ہے آدمی سے توقع خلوص کی سونا تلاش کرتا ہوں مٹی کی کان میں قد سے نہیں بنائی ہے پہچان جست سے یہ فرق ہے ہماری تمہاری اٹھان میں مٹی ...

مزید پڑھیے

چلا رہی ہیں جس پہ زبانیں لہو لگی

چلا رہی ہیں جس پہ زبانیں لہو لگی یہ وہ صدا تھی جو مجھے بار گلو لگی کیا کیا نہ مس کیا تجھے میں نے فراق میں لیکن تری کمی جو ترے روبرو لگی میں تب قرار دوں گا تجھے اپنا ہم سخن جب میری خامشی بھی تجھے گفتگو لگی اب گھر کے رہ گیا ہوں عجب ازدحام میں ہر آرزو کی پشت سے ہے آرزو لگی اے حسرت ...

مزید پڑھیے

پھر جو کٹتی نہیں اس رات سے خوف آتا ہے

پھر جو کٹتی نہیں اس رات سے خوف آتا ہے سو ہمیں شام ملاقات سے خوف آتا ہے مجھ کو ہی پھونک نہ ڈالیں کہیں یہ لفظ مرے اب تو اپنے ہی کمالات سے خوف آتا ہے کٹ ہی جاتا ہے سفر سہل ہو یا مشکل ہو پھر بھی ہر بار شروعات سے خوف آتا ہے وہم کی گرد میں لپٹے ہیں سوال اور ہمیں کبھی نفی کبھی اثبات سے ...

مزید پڑھیے

چراغ آنکھ کی سب بولیاں سمجھتے ہیں

چراغ آنکھ کی سب بولیاں سمجھتے ہیں یہ ہم سے پوچھ جو ایسی زباں سمجھتے ہیں بہا کے لے گیا سب خد و خال عہد شباب ہم آئینے کو بھی آب رواں سمجھتے ہیں ہمیں ازل سے محبت سکھائی جاتی ہے ہم اہل حرف یہی اک زباں سمجھتے ہیں جہاں یقیں کے تجسس کی آنکھ بند نہ ہو اسے علاقۂ وہم و گماں سمجھتے ...

مزید پڑھیے

اگر آدمی وقت کا راز پا لے

اگر آدمی وقت کا راز پا لے تو ممکن ہے لمحہ بھی صدیوں کو جا لے میں الفاظ کی کنجیاں ڈھالتا ہوں کھلیں گے کسی روز ابجد کے تالے گزرتا ہوا وقت رک سا گیا ہے پرندے ہیں دو چونچ میں چونچ ڈالے زمیں کی کمر تو ہے پہلے سے کوزہ وہی بوجھ رکھیو جسے یہ اٹھا لے یہ ہجرت بھی جیسے عبث کی گئی ہو یہاں ...

مزید پڑھیے

شمعیں جگنو چاند کے ہالے جمع کرو

شمعیں جگنو چاند کے ہالے جمع کرو بوجھل ہے شب نرم اجالے جمع کرو پینا ہے زہراب ہلاہل مجھ کو بھی میرے یارو پیار کے پیالے جمع کرو شاید خود کو دہرائے تاریخ وفا اپنی بزم میں ہم سے جیالے جمع کرو اور بڑھائیں شان چمن کی جن کے زخم آج وہ کانٹوں کے متوالے جمع کرو سکھ کی منزل کے ساتھی تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1739 سے 6203