قومی زبان

میرا وطن

جہاں کا چپہ چپہ گلستاں ہے جہاں کی سر زمیں رشک جناں ہے تصدق جس پہ حسن آسماں ہے ہمالہ جس کی عظمت کا نشاں ہے جہاں گنگا جہاں جمنا رواں ہے وہی میرا وطن ہندوستاں ہے جہاں رنگین ہوتی ہیں فضائیں بسی رہتی ہیں خوشبو میں ہوائیں دکھاتے ہیں پہاڑ اور بن ادائیں جہاں جھرنے کی موجیں گنگنائیں جہاں ...

مزید پڑھیے

رام

آئینۂ خلوص و محبت یہاں تھے رام امن اور شانتی کی ضمانت یہاں تھے رام سچائیوں کی ایک علامت یہاں تھے رام یعنی دل و نگاہ کی چاہت یہاں تھے رام قدموں سے رام کے یہ زمیں سرفراز ہے ہندوستاں کو ان کی شجاعت پہ ناز ہے ان کے لئے گناہ تھا یہ ظلم و انتشار ایثار ان کا سارے جہاں پر ہے آشکار دامن ...

مزید پڑھیے

پاسبان اردو

کہیں نہ کیوں اے قوی تجھے ہم بصدق‌ دل پاسبان اردو بنا ہے تیری ہی سعی و کاوش سے سیفیہ گلستان اردو نفس نفس میں ترے یقیناً بسی ہے بوئے زبان اردو تری نوا ہے نوائے اردو ترا بیاں ہے بیان اردو دکھائیں بھوپال کو ترے ہی جنوں نے جہد‌ و عمل کی راہیں وگرنہ مایوس ہو چکے تھے یہاں کے چارہ گران ...

مزید پڑھیے

ہر ایک سانس میں کچھ درد درد لگتا ہے

ہر ایک سانس میں کچھ درد درد لگتا ہے مرا وجود ہی اب گرد گرد لگتا ہے تمہارے قرب میں گرمی بہت غضب کی تھی ہوا کا ہاتھ مگر سرد سرد لگتا ہے نہ جانے آئی کہاں سے بھکاریوں کی یہ بھیڑ گداگر آج مجھے فرد فرد لگتا ہے اسی میں دیکھی تھی تصویر کائنات کبھی وہ آئینہ کہ جو اب گرد گرد لگتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

جب جب رفاقتوں سے گزرنا پڑا مجھے

جب جب رفاقتوں سے گزرنا پڑا مجھے پر خار وادیوں میں اترنا پڑا مجھے عہد تغیرات میں جینے کے نام پر اپنی روایتوں سے مکرنا پڑا مجھے دریا کے شور و شر سے میں خائف نہ تھا مگر ساحل کے انتشار سے ڈرنا پڑا مجھے بچپن کے سب نقوش نگاہوں میں پھر گئے کچھ دن جو اپنے گاؤں ٹھہرنا پڑا مجھے اک لمحۂ ...

مزید پڑھیے

کس لیے جشن انا محفل ادراک میں ہے

کس لیے جشن انا محفل ادراک میں ہے میری تاریخ مرے دامن صد چاک میں ہے پھر اٹھا جوش جنوں جذبۂ منصور لیے پھر انا الحق کی صدا کوچہ سفاک میں ہے موت انجام ہے ماحول ہے غفلت کا یہاں وقت ہر لمحہ شکاری کی طرح تاک میں ہے فتح تقدیر کا اعجاز سمجھنے والے فتح پوشیدہ تری جرأت بے باک میں ہے

مزید پڑھیے

رہ جنوں میں کبھی کامیاب ہم بھی تھے

رہ جنوں میں کبھی کامیاب ہم بھی تھے کبھی حوالۂ دشت و سراب ہم بھی تھے تری نگاہ نے گوہر بنا دیا ورنہ حصار موج میں مثل حباب ہم بھی تھے جنوں نے ہم کو بھی بخشی تھی شان دربدری جہان فکر میں خانہ خراب ہم بھی تھے ہمارے ظرف کو رتبوں سے تولنے والو اسی دیار میں عزت مآب ہم بھی تھے اندھیرے ہو ...

مزید پڑھیے

خیال میں ترے پیکر کو چوم لیتے ہیں

خیال میں ترے پیکر کو چوم لیتے ہیں ہم اہل ظرف ہیں پتھر کو چوم لیتے ہیں بڑھا گئے تھے وہ عزت ہمارے گھر کی کبھی اس احترام میں ہم در کو چوم لیتے ہیں حیات نو کی جھلک جو ہمیں دکھاتا ہے نظر سے ہم اسی منظر کو چوم لیتے ہیں غریب خانے میں ہوتی ہے روشنی جس سے ہم اس چراغ منور کو چوم لیتے ...

مزید پڑھیے

تخت نشینوں کا کیا رشتہ تہذیب و آداب کے ساتھ

تخت نشینوں کا کیا رشتہ تہذیب و آداب کے ساتھ یہ جب چاہیں جنگ کرا دیں رستم کی سہراب کے ساتھ ظلم و تشدد کے شیدائی شاید تجھ کو علم نہیں تیرے بھی سپنے ٹوٹیں گے میرے ہر اک خواب کے ساتھ کنکر پتھر کی تعمیریں مذہب کا مفہوم نہیں ذہنوں کی تعمیر بھی کیجے گنبد اور محراب کے ساتھ قاتل بن کر ...

مزید پڑھیے

قلم خاموش ہے الفاظ کی تاثیر بولے ہے

قلم خاموش ہے الفاظ کی تاثیر بولے ہے ہماری صفحۂ قرطاس پر تحریر بولے ہے خدارا اب مجھے آزاد کر دو قید پیہم سے مچل کر پاؤں میں لپٹی ہوئی زنجیر بولے ہے عجب معمار ہیں جن کی سمجھ میں یہ نہیں آتا عمارت کتنی مستحکم ہے خود تعمیر بولے ہے یہی محسوس ہوتا ہے اجنتا کی گپھاؤں میں کہ ہر تصویر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1741 سے 6203