قومی زبان

آئنہ سامنے رکھو گے تو یاد آؤں گا

آئنہ سامنے رکھو گے تو یاد آؤں گا اپنی زلفوں کو سنوارو گے تو یاد آؤں گا رنگ کیسا ہو یہ سوچو گے تو یاد آؤں گا جب نیا سوٹ خریدو گے تو یاد آؤں گا بھول جانا مجھے آسان نہیں ہے اتنا جب مجھے بھولنا چاہو گے تو یاد آؤں گا دھیان جائے گا بہرحال مری ہی جانب تم جو پوجا میں بھی بیٹھو گے تو یاد ...

مزید پڑھیے

تم پسینہ مت کہو ہے جانفشانی کا لباس

تم پسینہ مت کہو ہے جانفشانی کا لباس دھوپ میں چلتے ہوئے رکھتے ہیں پانی کا لباس پردہ پوشی کم سے کم ہوتی ہے ہر کردار کی پیرہن لفظوں کا بنتا ہے کہانی کا لباس پھر اجالے سے سفر ہوگا اندھیرے کی طرف جب اتاریں گے بدن سے عمر فانی کا لباس ساتھ چلتے ہیں چہکتے بولتے الزام بھی بے شکن ہوتا ...

مزید پڑھیے

قطرہ ہوں میں وسعت دے دریا کر دے

قطرہ ہوں میں وسعت دے دریا کر دے تو چاہے تو ساگر کو صحرا کر دے تلخی کا احساس مٹا دے دنیا سے یارب تو ہر پیڑ کا پھل میٹھا کر دے یہ خواہش تو صدیوں سے ہے نسلوں کی خود ظاہر ہو یا مجھ کو افشا کر دے زرد چٹانیں کاٹ رہا ہوں صحرا میں گرد کی چادر پھیلا کر سایہ کر دے لاج بچا لے میری کج دستاری ...

مزید پڑھیے

مرا خواب تمنا ساعت بیدار جیسا ہے

مرا خواب تمنا ساعت بیدار جیسا ہے مگر اک اک نفس چلتی ہوئی تلوار جیسا ہے نظر اپنی نواح رنگ سے آگے نہیں بڑھتی پس منظر یقیناً سایۂ دیوار جیسا ہے دل آزاری مری فطرت میں شامل ہے نہ عادت میں تمہیں معلوم ہی ہوگا مرا کردار جیسا ہے تمنائی تو ہیں لیکن کوئی آگے نہیں بڑھتا مری شہرت کا ...

مزید پڑھیے

نہ گل کھلے نہ شگوفوں پہ تازگی آئی

نہ گل کھلے نہ شگوفوں پہ تازگی آئی خزاں کے بعد چمن میں بہار بھی آئی ہجوم غم میں کہاں فرصت تبسم بھی ذرا بھی یاد نہیں کب مجھے ہنسی آئی کوئی بھی جادۂ نو خود بخود نہیں بنتا یہ بات سمجھو گے جس روز کج روی آئی میں اک شجر ہوں اٹھاتے ہیں فائدہ سب لوگ نہ دشمنی مرا شیوہ نہ بے رخی آئی ہمارے ...

مزید پڑھیے

زندگی یہ ہے تو سزا کیا ہے

زندگی یہ ہے تو سزا کیا ہے یہ تو معلوم ہو خطا کیا ہے آگ دل میں لگا کے پوچھتے ہو اے دوانے تجھے ہوا کیا ہے ہم نے دیکھا ہے اس حسیں کا جمال ہم نہیں جانتے خدا کیا ہے فرش تا عرش جا کے لوٹ آیا عشق کی آخر انتہا کیا ہے دیکھنا دل کا میرے خوں تو نہیں تیرے دامن پہ یہ لگا کیا ہے کر رہا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

کیا ہم نے جو ان سے کچھ خطاب آہستہ آہستہ

کیا ہم نے جو ان سے کچھ خطاب آہستہ آہستہ انہوں نے بھی دیا ہم کو جواب آہستہ آہستہ تصور میں وہ چہرہ رفتہ رفتہ اس طرح آئے کہ جیسے آتا ہے آنکھوں میں خواب آہستہ آہستہ بت خاموش کو جب میں نے چھیڑا کچھ شرارت سے دکھایا اس نے بھی کچھ اضطراب آہستہ آہستہ توجہ جب نہ دی ہم نے بزرگوں کی نصیحت ...

مزید پڑھیے

اپنا خورشید اور اپنا ہی قمر پیدا کر

اپنا خورشید اور اپنا ہی قمر پیدا کر تو محبت کا شجر ہے تو ثمر پیدا کر ہر بشر تجھ کو نظر آنے لگے اپنی طرح اپنے اندر تو وہ ہی قلب و نظر پیدا کر یہ تو ممکن ہی نہیں ہے وہ نہ چاہے تجھ کو ہاں مگر اس کے لئے تو بھی جگر پیدا کر منتظر ہوگا ترے واسطے ساحلؔ اے دوست پہلے طوفان سے لڑنے کا ہنر ...

مزید پڑھیے

دشمنوں سے رہ خفا اک حد تلک

دشمنوں سے رہ خفا اک حد تلک دوستوں سے بھی نبھا اک حد تلک ہم نوالا ہم پیالہ کوئی ہو راز اس کو بھی بتا اک حد تلک جان دے کر واسطے ماں باپ کے قرض ہوتا ہے ادا اک حد تلک دوریاں مانا بہت اچھی نہیں قربتیں پھر بھی بڑھا اک حد تلک حق میں ہے بیمار کے لازم دعا کام آتی ہے دوا اک حد تلک جس کو تو ...

مزید پڑھیے

نگاہ طور پہ ہے اور جمال سینے میں

نگاہ طور پہ ہے اور جمال سینے میں یہ کیفیت ہے ترا نام لے کے پینے میں جنوں کو ہوش کہاں سانولے مہینے میں کھلا ہوا ہے چمن آرزو کا سینے میں چمن میں جب بھی ترے پیرہن کی بو آئی بہار بھیگ گئی شرم سے پسینے میں یوں ہی نہیں ہے سرور شب فراق اے دوست کٹی ہے رات ستاروں کا نور پینے میں تری نگاہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1705 سے 6203