قومی زبان

ہے سمندر سامنے پیاسے بھی ہیں پانی بھی ہے

ہے سمندر سامنے پیاسے بھی ہیں پانی بھی ہے تشنگی کیسے بجھائیں یہ پریشانی بھی ہے ہم مسافر ہیں سلگتی دھوپ جلتی راہ کے وہ تمہارا راستہ ہے جس میں آسانی بھی ہے میں تو دل سے اس کی دانائی کا قائل ہو گیا دوستوں کی صف میں ہے اور دشمن جانی بھی ہے پڑھ نہ پاؤ تم تو یہ کس کی خطا ہے دوستو ورنہ ...

مزید پڑھیے

پردہ رخ فطرت سے ہٹا کر نہیں دیکھا

پردہ رخ فطرت سے ہٹا کر نہیں دیکھا منظر پہ نظر تھی پس منظر نہیں دیکھا انصار کے خنجر پہ مہاجر کا لہو ہے تاریخ نے ایسا کبھی منظر نہیں دیکھا پتھر کی سیاست سے جو محفوظ رہا ہو ایسا کسی شیشے کا مقدر نہیں دیکھا تھی دسترس فکر میں وہ ساعت خوش رنگ خوشبو کا بدن تھا اسے چھو کر نہیں ...

مزید پڑھیے

حریص شب کبھی آسودۂ سحر نہ ہوا

حریص شب کبھی آسودۂ سحر نہ ہوا یہ کاروبار ہوس ہے جو مختصر نہ ہوا کسی سے ہو نہ سکا خود گزیدگی کا علاج یہ زہر وہ ہے کہ تریاک کا اثر نہ ہوا سبھوں کو بھول گیا کاروبار ہستی میں میں اپنے آپ سے اک پل بھی بے خبر نہ ہوا جو آج تک مرے لمس قلم سے ہے محروم وہ حرف حرف تو ہے حرف معتبر نہ ...

مزید پڑھیے

حسرت سکۂ بخیل نہ کر

حسرت سکۂ بخیل نہ کر اپنے کشکول کو ذلیل نہ کر کچھ نہ بولیں گے مدعی کے خلاف دوستوں کو کبھی وکیل نہ کر بحث جاری رہے تو بہتر ہے میرے دعوے کو بے دلیل نہ کر میں فراست گزیدگی کا شکار مجھ کو فرزانہ و عقیل نہ کر ہاتھ اونچا رہے کشادہ رہے جیب کو کیسۂ بخیل نہ کر کوئی حد ہے تری ضرورت ...

مزید پڑھیے

یہ زندگی سزا کے سوا اور کچھ نہیں

یہ زندگی سزا کے سوا اور کچھ نہیں ہر سانس بد دعا کے سوا اور کچھ نہیں بکھری ہیں راستوں پہ سفر کی کہانیاں دنیا نقوش پا کے سوا اور کچھ نہیں بچوں کی لاش چاک ردا اور بریدہ سر ہر شہر کربلا کے سوا اور کچھ نہیں زنبیل زندگی میں بڑوں کا دیا ہوا کچھ سکۂ دعا کے سوا اور کچھ نہیں یہ تجربہ مرا ...

مزید پڑھیے

مری زباں کی عبارت ہے گفتگو تیری

مری زباں کی عبارت ہے گفتگو تیری مرے فسانے کا عنواں ہے آرزو تیری عبث کہ مجھ پہ ہے الزام خود فراموشی حرم سے دیر میں لائی ہے جستجو تیری فریب نکہت گل سے بچا کے دامن دل زبان خار سے سنتا ہوں گفتگو تیری حجاب میں بھی تجھے بے حجاب دیکھ لیا ہر ایک پھول میں چہرہ ترا ہے بو تیری زمانہ طالب ...

مزید پڑھیے

کسی بھی موڑ پہ روکا نہ گمرہی سے مجھے

کسی بھی موڑ پہ روکا نہ گمرہی سے مجھے کوئی گلہ بھی نہیں اپنی زندگی سے مجھے سبھوں سے ملتا ہوں بیگانۂ طلب ہو کر نہ دوستی سے غرض ہے نہ دشمنی سے مجھے سفر سے پہلے ضروری ہے مدعائے سفر پتا چلا یہ ستاروں کی کجروی سے مجھے فقیر شہر تو ہوں میں گدائے راہ نہیں کرم کی بھیک نہ دے ایسی بے رخی ...

مزید پڑھیے

بن موسم کے پانی برسے ساون ساون دھوپ

بن موسم کے پانی برسے ساون ساون دھوپ ہم مٹھی بھر دھوپ کو ترسیں آنگن آنگن دھوپ روپ جلالی رنگ جمالی یہ کیسا سنجوگ چھت پر چاندنیٔ شب اتری ہے چلمن چلمن دھوپ گود میں بھر لوں دل میں چھپا لوں یہی ہے من کی چاہ جاڑے کے ٹھٹھرے ہوئے دن میں ساجن ساجن دھوپ کٹیا ہی پر کیوں ہوتا ہے سورج کا ...

مزید پڑھیے

اس صدی کا جب کبھی ختم سفر دیکھیں گے لوگ

اس صدی کا جب کبھی ختم سفر دیکھیں گے لوگ وقت کے چہرے پہ خاک رہ گزر دیکھیں گے لوگ تخم ریزی کر رہا ہوں میں اسی امید پر پھولتے پھلتے ہوئے کل یہ شجر دیکھیں گے لوگ عقل انسانی کی جس دن انتہا ہو جائے گی ختم ہوتے چاند سورج کا سفر دیکھیں گے لوگ کانچ کی دیوار پتھر کے ستوں لوہے کی چھت ہر جگہ ...

مزید پڑھیے

عیب جو مجھ میں ہیں میرے ہیں ہنر تیرا ہے

عیب جو مجھ میں ہیں میرے ہیں ہنر تیرا ہے میں مسافر ہوں مگر زاد سفر تیرا ہے تیشہ دے دے مرے ہاتھوں میں تو ثابت کر دوں سینۂ سنگ میں خوابیدہ شرر تیرا ہے تو یہ کہتا ہے سمندر ہے قلمرو میں مری میں یہ کہتا ہوں کہ موجوں میں اثر تیرا ہے تو نے روشن کئے ہر طاق پہ فرقت کے چراغ جس میں تنہائیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1706 سے 6203