قومی زبان

بے وفاؤں کو وفاؤں کا خدا ہم نے کہا

بے وفاؤں کو وفاؤں کا خدا ہم نے کہا کیا ہمیں کہنا تھا اے دل اور کیا ہم نے کہا لب کو غنچہ زلف کو کالی گھٹا ہم نے کہا دل نے ہم کو جو بھی کہنے کو کہا ہم نے کہا کس قدر مجبور ہوں گے اس گھڑی ہم اے خدا جب ترے بے فیض بندوں کو خدا ہم نے کہا داد دینا تم ہماری چشم پوشی کی ہمیں راہ میں جو گم تھے ...

مزید پڑھیے

رنج کی خوگر طبیعت ہو گئی

رنج کی خوگر طبیعت ہو گئی لیجئے جینے کی صورت ہو گئی آپ ناحق ہو رہے ہیں شرمسار میری جو ہونی تھی حالت ہو گئی ہو گئے دیوانے ہم اچھا ہوا روز کے جھگڑوں سے فرصت ہو گئی ایک کانٹا سا کھٹکتا ہے مدام دل کی دشمن دل کی حسرت ہو گئی مے کشی کی کیا کہوں رہبرؔ کہ یہ ہوتے ہوتے میری عادت ہو گئی

مزید پڑھیے

پڑی رہے گی اگر غم کی دھول شاخوں پر

پڑی رہے گی اگر غم کی دھول شاخوں پر اداس پھول کھلیں گے ملول شاخوں پر ابھی نہ گلشن اردو کو بے چراغ کہو کھلے ہوئے ہیں ابھی چند پھول شاخوں پر نکل پڑے ہیں حفاظت کو چند کانٹے بھی ہوا ہے جب بھی گلوں کا نزول شاخوں پر ہوا کے سامنے ان کی بساط ہی کیا تھی دکھا رہے تھے بہاریں جو پھول شاخوں ...

مزید پڑھیے

جس نے بخشی ہے فغاں اس کو سنا بھی نہ سکوں

جس نے بخشی ہے فغاں اس کو سنا بھی نہ سکوں کیسا نغمہ ہے جسے ساز پہ گا بھی نہ سکوں دل میں اک اس کے سوا دوسری تصویر نہیں اس کے آئینے کو اس کو ہی دکھا بھی نہ سکوں تم انا چھوڑ کے آؤ تو بھلا دوں ہر رنج حرف قسمت کا نہیں ہوں کہ مٹا بھی نہ سکوں سوچ لے اب بھی تیرے ہاتھ ہے دونوں کا سکوں ورنہ ...

مزید پڑھیے

رنگ و بو کے جہاں کے تھے ہی نہیں

رنگ و بو کے جہاں کے تھے ہی نہیں اس زمیں آسماں کے تھے ہی نہیں راہ و منزل الگ رہے اپنے ہم کسی کارواں کے تھے ہی نہیں برق کو بھی رہا یہی افسوس ہم کسی آشیاں کے تھے ہی نہیں ہم نے سمجھا تھا ان کو کیوں اپنا وہ جو مہماں یہاں کے تھے ہی نہیں منزلیں آسماں سے آگے تھیں ہم زمان و مکاں کے تھے ہی ...

مزید پڑھیے

کوئی دشمن بھلا بھاتا کسے ہے

کوئی دشمن بھلا بھاتا کسے ہے بنانا دوست بھی آتا کسے ہے فنا ہو کر بقا پاتا ہے انساں ہنر جینے کا یہ آتا کسے ہے ابھی تک ایک تھے اور ایک ہیں ہم ارے ناداں تو بہکاتا کسے ہے تو پہلے خود عمل پیرا تو ہو جا عبث یہ وعظ فرماتا کسے ہے ہمارا کام تو کار جنوں ہے خرد کے ساتھ الجھاتا کسے ہے ہیں ...

مزید پڑھیے

ہم تو شاید یہاں کے تھے ہی نہیں

ہم تو شاید یہاں کے تھے ہی نہیں اس زمیں آسماں کے تھے ہی نہیں تنہا تنہا ہی طے کیا ہے سفر ہم کسی کارواں کے تھے ہی نہیں اپنے دل میں نہ دی جگہ اس نے ہم مکیں اس مکاں کے تھے ہی نہیں موسم گل میں بھی نہ کھل پائے پھول جو گلستاں کے تھے ہی نہیں تم کو ساحل اماں وہ کیا دیتے جو کہ قائل اماں کے ...

مزید پڑھیے

دکھ میں میرا ہوا کرے کوئی

دکھ میں میرا ہوا کرے کوئی میرے سنگ سنگ چلا کرے کوئی میں ازل سے ہوں آج تک تنہا میرے دکھ کی دوا کرے کوئی فلسفے تو سمجھ سے باہر ہیں سادی باتیں کیا کرے کوئی میرا دکھ بھی بھلا کوئی دکھ ہے تیرے دکھ کی دوا کرے کوئی یوں تو کہنے کو سب ہی ہیں اپنے اپنا سچ مچ ہوا کرے کوئی قتل اس نے کیا ہے ...

مزید پڑھیے

دامن صد چاک کو اک بار سی لیتا ہوں میں

دامن صد چاک کو اک بار سی لیتا ہوں میں تم اگر کہتے ہو تو کچھ روز جی لیتا ہوں میں بے سبب پینا مری عادات میں شامل نہیں مست آنکھوں کا اشارہ ہو تو پی لیتا ہوں میں گیسوؤں کا ہو گھنا سایہ کہ شدت دھوپ کی وہ مجھے جس رنگ میں رکھتا ہے جی لیتا ہوں میں آتے آتے آ گئے انداز جینے کے مجھے اب تو ...

مزید پڑھیے

منتظر بیٹھے ہوئے ہیں شام سے

منتظر بیٹھے ہوئے ہیں شام سے اور ہم واقف بھی ہیں انجام سے مل گئے جب تم تو کیسا کام پھر گھر سے ہم نکلے تھے یوں تو کام سے آ مری گہرائیوں میں ڈوب جا کہہ رہی ہے یہ صراحی جام سے بھر گیا کانٹوں سے دامن پیار میں دل مرا واقف نہ تھا انجام سے رفتہ رفتہ صبح تک سب بجھ گئے وہ دئے جو جل اٹھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1704 سے 6203