تمہاری یاد
رات کے سرمئی اندھیروں میں سانس لیتے ہوئے سویروں میں آب جو کے حسیں کناروں پر خواب آلود رہ گزاروں پر گلستانوں کی سیر گاہوں میں زندگی کی حسین راہوں میں مئے رنگیں کا جام اٹھاتے وقت رنج و غم کی ہنسی اڑاتے وقت شادمانی میں غم کے طوفاں میں رونق شہر میں بیاباں میں رقص کرتی ہوئی ...