قومی زبان

تمہاری یاد

رات کے سرمئی اندھیروں میں سانس لیتے ہوئے سویروں میں آب جو کے حسیں کناروں پر خواب آلود رہ گزاروں پر گلستانوں کی سیر گاہوں میں زندگی کی حسین راہوں میں مئے رنگیں کا جام اٹھاتے وقت رنج و غم کی ہنسی اڑاتے وقت شادمانی میں غم کے طوفاں میں رونق شہر میں بیاباں میں رقص کرتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

تیرے خوشبو میں بسے خط

پیار کی آخری پونجی بھی لٹا آیا ہوں اپنی ہستی کو بھی لگتا ہے مٹا آیا ہوں عمر بھر کی جو کمائی تھی گنوا آیا ہوں تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں تو نے لکھا تھا جلا دوں میں تری تحریریں تو نے چاہا تھا جلا دوں میں تری تصویریں سوچ لیں میں نے مگر اور ہی ...

مزید پڑھیے

نئی دنیا

دل مجبور تو مجھ کو کسی ایسی جگہ لے چل جہاں محبوب محبوبہ سے آزادانہ ملتا ہو کسی کا نرم و نازک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر نکل سکتا ہو بے کھٹکے کوئی سیر گلستاں کو نگاہوں کے جہاں پہرے نہ ہوں دل کے دھڑکنے پر جہاں چھینی نہ جاتی ہو خوشی اہل محبت کی جہاں ارماں بھرے دل خون کے آنسو نہ روتے ...

مزید پڑھیے

اب کے اس طرح ترے شہر میں کھوئے جائیں

اب کے اس طرح ترے شہر میں کھوئے جائیں لوگ معلوم کریں ہم کھڑے روئے جائیں ورق سنگ پہ تحریر کریں نقش مراد اور بہتے ہوئے دریا میں ڈبوئے جائیں سولیوں کو مرے اشکوں سے اجالا جائے داغ مقتل کے مرے خون سے دھوئے جائیں کسی عنوان چلو تازہ کریں ظلم کی یاد کیوں نہ اب پھول ہی نیزوں میں پروئے ...

مزید پڑھیے

دل میں تو بہت کچھ ہے زباں تک نہیں آتا

دل میں تو بہت کچھ ہے زباں تک نہیں آتا میں جتنا چلوں پھر بھی یہاں تک نہیں آتا لوگوں سے ڈرے ہو تو مرے ساتھ چلے آؤ اس راستے میں کوئی مکاں تک نہیں آتا اس ضد پہ ترا ظلم گوارا کیا ہم نے دیکھیں کہ تجھے رحم کہاں تک نہیں آتا ایک ایک ستارہ مری آواز پہ بولا میں اتنی بلندی سے وہاں تک نہیں ...

مزید پڑھیے

شام کٹھن ہے رات کڑی ہے

شام کٹھن ہے رات کڑی ہے آؤ کہ یہ آنے کی گھڑی ہے وہ ہے اپنے حسن میں یکتا دیکھ کہاں تقدیر لڑی ہے میں تم کو ہی سوچ رہا تھا آؤ تمہاری عمر بڑی ہے کاش کشادہ دل بھی رکھتا جس گھر کی دہلیز بڑی ہے پھر بچھڑے دو چاہنے والے پھر ڈھولک پر تھاپ پڑی ہے وہ پہنچا امدادی بن کر جب جب ہم پر بپھر پڑی ...

مزید پڑھیے

کیا کیا سوال میری نظر پوچھتی رہی

کیا کیا سوال میری نظر پوچھتی رہی لیکن وہ آنکھ تھی کہ برابر جھکی رہی میلے میں یہ نگاہ تجھے ڈھونڈتی رہی ہر مہ جبیں سے تیرا پتہ پوچھتی رہی جاتے ہیں نامراد ترے آستاں سے ہم اے دوست پھر ملیں گے اگر زندگی رہی آنکھوں میں تیرے حسن کے جلوے بسے رہے دل میں ترے خیال کی بستی بسی رہی اک حشر ...

مزید پڑھیے

مچلتے گاتے حسیں ولولوں کی بستی میں

مچلتے گاتے حسیں ولولوں کی بستی میں رہے تھے ہم بھی کبھی منچلوں کی بستی میں خوشی کے بھاگتے لمحے ادھر کا رخ نہ کریں خوشی کا کام ہی کیا دل جلوں کی بستی میں جو آ کے بیٹھا وہ دامن پہ داغ لے کے اٹھا بچا ہے کون بھلا کاہلوں کی بستی میں گزر گیا ہوں کبھی بے خراش کانٹوں سے چھلے ہیں پیر کبھی ...

مزید پڑھیے

مہتاب نہیں نکلا ستارے نہیں نکلے

مہتاب نہیں نکلا ستارے نہیں نکلے دیتے جو شب غم میں سہارے نہیں نکلے کل رات نہتا کوئی دیتا تھا صدائیں ہم گھر سے مگر خوف کے مارے نہیں نکلے کیا چھوڑ کے بستی کو گیا تو کہ ترے بعد پھر گھر سے ترے ہجر کے مارے نہیں نکلے بیٹھے رہو کچھ دیر ابھی اور مقابل ارمان ابھی دل کے ہمارے نہیں ...

مزید پڑھیے

کیا آج ان سے اپنی ملاقات ہو گئی

کیا آج ان سے اپنی ملاقات ہو گئی صحرا پہ جیسے ٹوٹ کے برسات ہو گئی ویران بستیوں میں مرا دن ہوا تمام سنسان جنگلوں میں مجھے رات ہو گئی کرتی ہے یوں بھی بات محبت کبھی کبھی نظریں ملیں نہ ہونٹ ہلے بات ہو گئی ظالم زمانہ ہم کو اگر دے گیا شکست بازی محبتوں کی اگر مات ہو گئی ہم کو نگل سکیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1703 سے 6203