قومی زبان

زمانے والوں کے چہروں پہ کتنے ڈر نکلے

زمانے والوں کے چہروں پہ کتنے ڈر نکلے فلک کی چاہ میں جب بھی زمیں کے پر نکلے بھٹکنا چاہوں بھی تو دنیا مختصر نکلے جدھر بڑھاؤں قدم تیری رہ گزر نکلے یشودھرا کی طرح نیند میں چھلی گئی تو میں چاہتی ہوں مرے خواب سے یہ ڈر نکلے کبھی خیال میں سوچو وہ رات کا چہرہ کہ جس گھڑی وہ دعا کرتی ہے ...

مزید پڑھیے

جب سے وہ دور ہو گیا مجھ سے

جب سے وہ دور ہو گیا مجھ سے کھو گیا میرا ہی پتہ مجھ سے میرا نقصان ہر طرح سے ہے مانگتا ہے وہ مشورہ مجھ سے کیا مری اہمیت بڑھی ہے ادھر شہر میں کیوں ہیں سب خفا مجھ سے اور کچھ رخ نکالنے کے لئے سننا چاہے گا واقعہ مجھ سے میری دنیا مرا جہان ہے وہ جس کی دنیا ہے کچھ جدا مجھ سے ہائے کس پھول ...

مزید پڑھیے

اچانک سامنے وہ آ گیا تو

اچانک سامنے وہ آ گیا تو پلٹ دے میرا ہر اک فیصلہ تو مسلسل آزماتے جا رہے ہو اگر نکلا کبھی وہ بے وفا تو جلا کرتی ہے جس کے ساتھ شب بھی وہ تارا جلتے جلتے بجھ گیا تو فلک کی بے رخی سے تنگ آ کر زمیں نے کر لیا کچھ فیصلہ تو مرا سایہ جو مجھ سے کھو گیا تھا کسی دن راہ چلتے مل گیا تو ہوا سے ...

مزید پڑھیے

فرشتے دھیان لگائے اترنے لگتے ہیں

فرشتے دھیان لگائے اترنے لگتے ہیں جو ساتھ تم ہو تو لمحے سنورنے لگتے ہیں وہ ایک یاد کی دستک جو دل پہ ہوتی ہے مرے خزانے کے موتی بکھرنے لگتے ہیں اس اک نگاہ کی تاثیر یوں سمجھ لیجے ہم اپنے آپ سے ملنے میں ڈرنے لگتے ہیں یہ آئنے کے علاوہ صفت کسی میں نہیں سنورنے والے سراپا بکھرنے لگتے ...

مزید پڑھیے

لگانے لگتی ہے دنیا عجیب عجیب قیاس

لگانے لگتی ہے دنیا عجیب عجیب قیاس تبھی تو اوڑھا ہوا ہے اداسیوں کا لباس ہزار بار ہی اچٹا ہے میرا دل اس سے ہزار بار ہی یہ دنیا مجھ کو آئی راس زمیں پہ رات بچھی ہے ادھر شکستہ امید فلک پہ چاند اگا ہے ادھر اداس اداس بڑھی ہوئی ہے صباؔ آج اس کی یاد کی لو چمک اٹھی ہے مرے دل میں پھر بجھی ...

مزید پڑھیے

خزاں بلائے مگر روکے ہیں بہار مجھے

خزاں بلائے مگر روکے ہیں بہار مجھے میں ٹھہری رت ہوں کبھی آ کے تو گزار مجھے میں عکس تھی تو تری دسترس سے باہر تھی ہوئی ہوں روپ تو حاصل ہوں اب نکھار مجھے میں ڈھل چکی ہوں کسی سانچے میں بہت پہلے نہ اور بننے کی کچھ چاک سے اتار مجھے نہ جانے کتنے نئے رنگ مجھ میں اگتے ہیں وہ ایک لمس بنا ...

مزید پڑھیے

مجھ سے ہی کھویا ہے یقیں شاید

مجھ سے ہی کھویا ہے یقیں شاید دیکھوں ہوگا یہیں کہیں شاید تھک چکی ہیں اداسیاں مجھ سے دستکیں اور دیں کہیں شاید کیا کبھی بے وفا وہ نکلے گا دل نے جھٹ سے کہا نہیں شاید وقت کمزور ہی کو چنتا ہے اور کمزور تھے ہمیں شاید اتنے تارے کہاں سے اگتے ہیں آسماں پر بھی ہے زمیں شاید

مزید پڑھیے

مدتوں خوب آزماتی ہے

مدتوں خوب آزماتی ہے پھر محبت سمجھ میں آتی ہے روپ اپنا اجالنے کے لئے زندگی دھوپ میں نہاتی ہے سب چراغوں کو ڈس چکی آندھی ایک دن خود سے ہار جاتی ہے سارا عالم دہائی دیتا ہے رات جب داستاں سناتی ہے کوئی مایوسیوں کو سمجھائے چاہ خود راستہ بناتی ہے کوئی ان بن ہوئی ہے گلشن سے کیوں صباؔ ...

مزید پڑھیے

کسی کے نام کو لکھتے ہوئے مٹاتے ہوئے

کسی کے نام کو لکھتے ہوئے مٹاتے ہوئے تمام رات کٹی خود کو آزماتے ہوئے کہا یہ رات نے مجھ سے مجھے سلاتے ہوئے تو تھک گئی ہے بہت حال دل سناتے ہوئے میں کیوں سمیٹ نہیں پاتی ہوں کبھی اس کو بکھر رہا ہے جو ہر پل مجھے سجاتے ہوئے یہ چاہتی تھی کہ میں طے کروں سفر اس کا جو تھک گیا ہے مرا حوصلہ ...

مزید پڑھیے

دلوں سے ہوتی ہوئی روح تک اتر آئی

دلوں سے ہوتی ہوئی روح تک اتر آئی کسی کی یاد بھی آئی تو کس قدر آئی تمام رات نہاتی رہی تھی بارش میں تبھی تو اتنی چمکتی ہوئی سحر آئی کسی نے دل کی کہانی سنائی کچھ ایسے کہ لب خموش ہوئے اور آنکھ بھر آئی تلاش کرتی رہی میں بھی چار سو اس کو نگاہ وہ بھی مجھے ڈھونڈھتی نظر آئی بہت دنوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1629 سے 6203