قومی زبان

لفظ ہو پائی نہیں پھر بھی معانی میں ہوں میں

لفظ ہو پائی نہیں پھر بھی معانی میں ہوں میں یعنی کردار نہیں اور کہانی میں ہوں میں میری پہچان حوالوں ہی سے دی جاتی ہے سیدھا اک نام نہیں ہوتا ہے یعنی میں ہوں میں موج دریا کی تمہیں ساتھ لئے چلتی ہے اور ادھر جھیل کے ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوں میں منزلیں گم ہیں قدم ٹھہرے ہوئے ہیں پھر ...

مزید پڑھیے

سایہ سا اک خیال کی پہنائیوں میں تھا

سایہ سا اک خیال کی پہنائیوں میں تھا ساتھی کوئی تو رات کی تنہائیوں میں تھا ہر زخم میرے جسم کا میرا گواہ ہے میں بھی شریک اپنے تماشائیوں میں تھا غیروں کی تہمتوں کا حوالہ بجا مگر میرا بھی ہاتھ کچھ مری رسوائیوں میں تھا ٹوٹے ہوئے بدن پہ لکیروں کے جال تھے قرنوں کا عکس عمر کی ...

مزید پڑھیے

کتنی ٹھنڈی تھی ہوا قریۂ برفانی کی

کتنی ٹھنڈی تھی ہوا قریۂ برفانی کی جم گئی دل میں کسک شام زمستانی کی حادثہ کوئی نیا راہ پہ گزرا ہوگا دھول ہر چہرے پہ بکھری ہے پریشانی کی میں جہاں جاؤں وہیں موت کی تحویل میں ہوں تیغ اک لٹکی ہے ہر سانس پہ نگرانی کی میرے تیور پہ مرا نام و نسب کندہ ہے دل کا آئینہ ہے تختی مری پیشانی ...

مزید پڑھیے

کھنڈر میں دفن ہوئی ہیں عمارتیں کیا کیا

کھنڈر میں دفن ہوئی ہیں عمارتیں کیا کیا لکھی ہیں کتبۂ دل پر عبارتیں کیا کیا حصار برف میں رہنا کبھی سرابوں میں سفر کے شوق نے سونپی سفارتیں کیا کیا تلاش لفظ میں عمروں کی کاوشوں کا ثمر اندھیرے غار میں گھومیں بصارتیں کیا کیا کہیں بدن کے ہیں سودے کہیں ضمیروں کے ہوئی ہیں شہر میں اب ...

مزید پڑھیے

آس حسن گمان سے ٹوٹی

آس حسن گمان سے ٹوٹی شاخ پھل کے نشان سے ٹوٹی مل گئی خاک ہو کے مٹی میں اینٹ جو بھی مکان سے ٹوٹی عرض احوال نا شناسوں سے رگ انا کی زبان سے ٹوٹی جس پہ دار و مدار کشتی تھا ڈور وہ بادبان سے ٹوٹی مسئلے دوستی کے حل نہ ہوئے گفتگو درمیان سے ٹوٹی دست دشمن سے تیر کیا چھوٹا ایک بجلی کمان سے ...

مزید پڑھیے

کسی دراز میں رکھنا کہ طاق پر رکھنا

کسی دراز میں رکھنا کہ طاق پر رکھنا مرے خطوط محبت سنبھال کر رکھنا کسی بھی دور میں شاید میں تیرے کام آؤں جدا ہو شوق سے کچھ رابطہ مگر رکھنا گھٹائیں یاس کی چھائیں گی چھٹ بھی جائیں گی ہجوم درد میں قابو حواس پر رکھنا خدا کرے کہ ملے تجھ کو منزل مقصود فراز پا کے نشیبوں پہ بھی نظر ...

مزید پڑھیے

گرم ہر لمحہ لہو جسم کے اندر رکھنا

گرم ہر لمحہ لہو جسم کے اندر رکھنا خشک آنکھیں ہوں مگر دل میں سمندر رکھنا بات نکلے گی جوں ہی گھر سے پرائی ہوگی پاؤں کچھ سوچ کے دہلیز سے باہر رکھنا ظلمت شب میں کہیں خود ہی نہ ٹھوکر کھائے دشمن جاں کے بھی رستے میں نہ پتھر رکھنا زر، زمیں، زور کا سودا جو سمائے سر میں روبرو نقشۂ انجام ...

مزید پڑھیے

نیا پلان

آؤ نیا منصوبہ بنائیں دنیا کو اک راہ دکھائیں جنگ کے بادل دور کریں ہم ظلمت کو پر نور کریں ہم امن کا پرچم لہرائیں ہم ناسمجھوں کو سمجھائیں ہم ظلم کی ہر بنیاد مٹائیں آؤ نیا منصوبہ بنائیں سوکھ رہی ہے ڈالی ڈالی زرد ہے باغوں کی ہریالی کوئل بلبل چپ ہیں سارے تتلی بھونرے ہیں دکھیارے سوکھی ...

مزید پڑھیے

وہ جو ہر وقت سوچتا ہے مجھے

وہ جو ہر وقت سوچتا ہے مجھے خود سے بچھڑا ہوا ملا ہے مجھے ایک آہٹ سی آتی رہتی ہے کوئی تو ہے جو ڈھونڈھتا ہے مجھے اپنا آغاز ہو نہ ہو لیکن اپنے انجام کا پتہ ہے مجھے گہرے پانی کی اور بڑھتے ہی خود بہ خود دریا روکتا ہے مجھے حال دل جب سنانا چاہا تو اس نے ہنس کے کہا پتہ ہے مجھے خود پر آخر ...

مزید پڑھیے

وسعت شوق سے اک شمع جلائی نہ گئی

وسعت شوق سے اک شمع جلائی نہ گئی وہ بھی کیا بات تھی جو ہم سے بنائی نہ گئی گر مخالف تھے مرے لفظ ترے ہر خط کے ہم سے پر خط میں ترے آگ لگائی نہ گئی ڈور اوروں کی ہتھیلی میں رکھی ہے ہم نے زندگی تیری پتنگ ہم سے اڑائی نہ گئی تم گئے رونق دنیا بھی گئی ساتھ ترے ہم سے پھر بزم محبت بھی سجائی نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1630 سے 6203