لاؤ لشکر جاہ و حشمت ہے یہاں
لاؤ لشکر جاہ و حشمت ہے یہاں شاہ کوئی کب سلامت ہے یہاں بارگاہ درہم و دینار ہے ہر کوئی مسکین صورت ہے یہاں بے زبانی پر مری بولا خدا لب کشائی کی اجازت ہے یہاں اے فصیل شہر تو رہیو گواہ صاحب عالم کی حرمت ہے یہاں شہر کیا ہے ایک دشت بے حسی گاؤں تو پھر بھی غنیمت ہے یہاں ہم کریں گے جو ...