قومی زبان

لاؤ لشکر جاہ و حشمت ہے یہاں

لاؤ لشکر جاہ و حشمت ہے یہاں شاہ کوئی کب سلامت ہے یہاں بارگاہ درہم و دینار ہے ہر کوئی مسکین صورت ہے یہاں بے زبانی پر مری بولا خدا لب کشائی کی اجازت ہے یہاں اے فصیل شہر تو رہیو گواہ صاحب عالم کی حرمت ہے یہاں شہر کیا ہے ایک دشت بے حسی گاؤں تو پھر بھی غنیمت ہے یہاں ہم کریں گے جو ...

مزید پڑھیے

صبح نشور کیوں مری آنکھوں میں نور آ گیا

صبح نشور کیوں مری آنکھوں میں نور آ گیا تیری نقاب الٹ گئی یا کوہ طور آ گیا وہ بھی عجیب وقت تھا مجھ پہ حیات تنگ تھی لیکن اسی عذاب میں جینا ضرور آ گیا تم نے تو کوہ قاف میں عمر عزیز کاٹ دی لیکن وہ طفل کیا کرے جس کو شعور آ گیا اس عرصۂ حجاب کی آخر کو حد بھی ہے کہیں تیری تلاش میں کوئی ...

مزید پڑھیے

شوق سے آئے برا وقت اگر آتا ہے

شوق سے آئے برا وقت اگر آتا ہے ہم کو ہر حال میں جینے کا ہنر آتا ہے غیب سے کوئی نہ دیوار نہ در آتا ہے جب کئی در سے گزرتے ہیں تو گھر آتا ہے آج کے دور میں کس شے کی تمنا کیجے ہوتا کچھ اور ہے کچھ اور نظر آتا ہے پہلے اک ہوک سی اٹھتی ہے لب ساحل پر پھر کہیں جا کے سمندر میں بھنور آتا ہے خود ...

مزید پڑھیے

مری دن کے اجالوں پر نظر ہے

مری دن کے اجالوں پر نظر ہے ستاروں کا کرشمہ رات بھر ہے وہ ہنستا ہے مگر رخسار نم ہیں یہ شاید پچھلے موسم کا اثر ہے کسی کی عیب جوئی ہی کیا کر ابھی کے دور میں یہ بھی ہنر ہے یہاں کے سارے موسم ایک سے ہیں یہی اس شہر کی تازہ خبر ہے سپاہی جنگ سے کب لوٹتے ہیں وہ کوئی اور ہے زندہ اگر ...

مزید پڑھیے

گھر سے نکل کے آئے ہیں بازار کے لئے

گھر سے نکل کے آئے ہیں بازار کے لئے یہ بھیڑ بھاڑ اچھی ہے بیکار کے لئے ہم یار کے لئے ہیں نہ دیدار کے لئے ٹیرس پہ آ کے بیٹھے ہیں اخبار کے لئے دل جوئی کر رہا ہے بہت دیر سے طبیب کیا آخری دوا ہے یہ بیمار کے لئے میں نے تو اس دیار میں سب کچھ لٹا دیا دنیا سفر پہ جاتی ہے گھر بار کے لئے میرے ...

مزید پڑھیے

چاند تاروں نے کوئی شے تو چھپائی ہوئی ہے

چاند تاروں نے کوئی شے تو چھپائی ہوئی ہے ورنہ کیوں رات پریشانی میں آئی ہوئی ہے اس میں تبدیلی مری آنکھوں کو منظور نہیں وہ جو تصویر مرے دل نے بنائی ہوئی ہے مرنے دیتی ہے نہ جینے کی اجازت ہے مجھے ایک شے ایسی میری جاں میں سمائی ہوئی ہے ہم بناتے ہیں کوئی راہ گزر روز نئی روز دیوار ...

مزید پڑھیے

درد بیتاب ہے الفاظ میں ڈھلنے کے لئے

درد بیتاب ہے الفاظ میں ڈھلنے کے لئے راستہ چاہیے سب کو ہی نکلنے کے لئے ختم ہو جاتا ہے سب کچھ کبھی اک لمحے میں اور اک لمحہ ہی کافی ہے سنبھلنے کے لئے ایسی بارش کی زمیں غرق ہوئی جاتی ہے ابر کچھ وقت تو دے دیتا سنبھلنے کے لئے میں دیا ہوں میری فطرت ہے اجالا کرنا وہ سمجھتے ہیں کہ مجبور ...

مزید پڑھیے

روشنی میری ہوا چاہتی ہے

روشنی میری ہوا چاہتی ہے بس وہ دروازہ کھلا چاہتی ہے قتل ہونے سے بچا چاہتی ہے میری تنہائی دعا چاہتی ہے بیل ضدی ہے جنوں کی میری وہ لپٹنے کو ہوا چاہتی ہے گھر کا دروازہ کبھی کھلتا نہیں پھر بھی دہلیز دیا چاہتی ہے میری تخلیق خفا ہے مجھ سے میری پہچان جدا چاہتی ہے دل یہ چاہے کہ میں ...

مزید پڑھیے

تھا خفا مجھ سے بد گمان بھی تھا

تھا خفا مجھ سے بد گمان بھی تھا اور وہی مجھ پہ مہربان بھی تھا جب ستاروں کی زد میں آئی میں تب لگا سر پہ آسمان بھی تھا پھول کتنے کھلے تھے دل میں مگر اک وہیں زخم کا نشان بھی تھا کس سے کرتی میں دھوپ کا شکوہ میرا سورج ہی سائبان بھی تھا ضبط احساس ہم بھی کر لیں گے اس یقیں پر صباؔ گمان ...

مزید پڑھیے

کہیں سے آتی صدا ہے کوئی

کہیں سے آتی صدا ہے کوئی صدا نہیں ہے دعا ہے کوئی کہاں پتہ تھی یہ بات مجھ کو کہ مجھ میں کب سے چھپا ہے کوئی سمجھ رہے تھے جسے جزیرہ سمندروں میں گھرا ہے کوئی چمک رہا ہے جو چاند بن کے یہیں سے اٹھ کر گیا ہے کوئی ذرا سنبھل کر قدم بڑھانا اسی سفر میں لٹا ہے کوئی وفا بھی دے دی انا بھی دے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1628 سے 6203