قومی زبان

بہادر شاہ ظفرؔ کی یاد میں

صبا یہ روح ظفرؔ کا پیام لائی ہے کہ سلطنت سے فزوں عشق کی گدائی ہے غرور فتح کو بھی لڑکھڑا دیا جس نے ترے خلوص نے ایسی شکست کھائی ہے کسے خبر ہے کہ ارض وطن پہ کیا گزری کہ تجھ کو گوشۂ غربت میں موت آئی ہے مرے چمن میں عروس بہار آزادی ترے مزار پہ آنسو بہا کے آئی ہے

مزید پڑھیے

شبنم

کیا یہ تارے ہیں زمیں پر جو اتر آئے ہیں یا وہ موتی ہیں کہ جو چاند نے برسائے ہیں کیا وہ ہیرے ہیں جو صحرا نے پڑے پائے ہیں نہ بہت دور پہنچ جائے مری بات کہیں اپنے آنسو تو نہیں بھول گئی رات کہیں یہ کہانی بھی سنائی ہے زمیں نے اکثر کہکشاں جاتی ہے جب پچھلے پہر اپنے گھر پھینکتی جاتی ہے ...

مزید پڑھیے

فسردہ شاخ پر آخر گل تازہ نکل آیا

فسردہ شاخ پر آخر گل تازہ نکل آیا لگا کہ دوزخی کوئی لب دریا نکل آیا اشارے پر کسی کے شہر مقبوضہ میں کھلتا تھا بچھڑ کر پھول سے خوشبو کا اک جھونکا نکل آیا میں ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھتا تھا گھر کے آنگن کو کئی حصوں میں بٹتا اپنا ہی چہرہ نکل آیا وجود اپنا کسی ڈہتے مکاں کا پیش خیمہ ہے اگر ...

مزید پڑھیے

عکس اپنا کبھی بھرپور نہیں دیکھتا میں

عکس اپنا کبھی بھرپور نہیں دیکھتا میں آئنے میں دل رنجور نہیں دیکھتا میں حسن آغاز بتاتا ہے نتیجہ مجھ کو حاصل قصۂ مشہور نہیں دیکھتا میں غم کے گرتے ہوئے منصب کو اٹھا بھی نہ سکوں خود کو اس درجہ بھی معذور نہیں دیکھتا میں لب مقفل تھے جب آنکھوں سے پکارا ہے تجھے قریۂ جاں سے بہت دور ...

مزید پڑھیے

بکھر گئے دل برباد کا پتہ نہ چلا

بکھر گئے دل برباد کا پتہ نہ چلا اتھاہ رنج کی میعاد کا پتہ نہ چلا عمل شبیہ سے تھا کس طرح جداگانہ ابھی تلک مرے ہم زاد کا پتہ نہ چلا تمام شہر میں ایندھن کی طرح جل کر بھی ہے چہرہ کون سا دھنباد کا پتہ نہ چلا میں اپنے آپ سے روٹھا ہوں ہے خبر کس کو کہ عمر بھر دل ناشاد کا پتہ نہ چلا اگا ہے ...

مزید پڑھیے

کوئی گزرا ہے اس پہ سانحہ انکار کرتا تھا

کوئی گزرا ہے اس پہ سانحہ انکار کرتا تھا درخت زیست کا پتا ہرا انکار کرتا تھا سمٹتے دائرے میں قید ہونا اس کی قسمت تھی بہ نام وسعت صحرا کھلا انکار کرتا تھا عجب آندھی کا جھونکا تھا بچھا کر بھی صف ماتم درون خیمۂ آب و ہوا انکار کرتا تھا زمیں ہر پاؤں کی مخصوص لمحے میں کھسکتی تھی جو ...

مزید پڑھیے

عشق دشوار نہیں خوش نظری مشکل ہے

عشق دشوار نہیں خوش نظری مشکل ہے سہل ہے کوہ کنی شیشہ گری مشکل ہے اس میں شامل ہے مرا حسن طلب بھی اے دوست ورنہ اس حسن سے بیداد گری مشکل ہے لگ گئی دامن‌‌ گیسوئے پریشاں کی ہوا ہوش میں آئے نسیم سحری مشکل ہے مسند‌ لالہ و ریحاں ہو کہ ہو تختۂ دار ہم نشیں چارۂ آشفتہ سری مشکل ہے یہ ...

مزید پڑھیے

بادۂ گل کو سب اندوہ ربا کہتے ہیں

بادۂ گل کو سب اندوہ ربا کہتے ہیں اشک گل رنگ میں ڈھل جائے تو کیا کہتے ہیں فرصت بزم بھی معلوم کہ ارباب نظر شعلۂ شمع کو ہم دوش صبا کہتے ہیں یہ مسلسل ترا پیماں تری پیماں شکنی ہم اسے حاصل پیمان وفا کہتے ہیں قصر آزادئ انساں ہی سہی مے خانہ درمے خانہ کی زنجیر کو کیا کہتے ہیں یہ رہ غم ...

مزید پڑھیے

سکوں ہے ہمنوائے اضطراب آہستہ آہستہ

سکوں ہے ہمنوائے اضطراب آہستہ آہستہ محبت ہو رہی ہے کامیاب آہستہ آہستہ عجب عالم ہے آغاز سرور عشق کا عالم اٹھے جیسے افق سے ماہتاب آہستہ آہستہ سرشک غم کبھی شمع جدائی کو بجھا دیں گے یہی تارے بنیں گے آفتاب آہستہ آہستہ خراب نرگس ستانا آخر ہو گیا زاہد رسا ہوتی ہے تاثیر شراب آہستہ ...

مزید پڑھیے

دور صبوحی شعلۂ مینا رقصاں چھاؤں میں تاروں کی

دور صبوحی شعلۂ مینا رقصاں چھاؤں میں تاروں کی پیر مغاں نے جام اٹھایا عید ہوئی مے خواروں کی کتنے ہی در کھل جائیں گے جوش جنوں کو بڑھنے دو بند رہے گا کیا در زنداں خیر نہیں دیواروں کی کافر عشق سمجھ کر ہم کو کتنے طوفاں اٹھتے ہیں دل کی بات کو کس سے کہہ دیں بستی ہے دیں داروں کی پاس ادب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1622 سے 6203