فسردہ شاخ پر آخر گل تازہ نکل آیا
فسردہ شاخ پر آخر گل تازہ نکل آیا
لگا کہ دوزخی کوئی لب دریا نکل آیا
اشارے پر کسی کے شہر مقبوضہ میں کھلتا تھا
بچھڑ کر پھول سے خوشبو کا اک جھونکا نکل آیا
میں ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھتا تھا گھر کے آنگن کو
کئی حصوں میں بٹتا اپنا ہی چہرہ نکل آیا
وجود اپنا کسی ڈہتے مکاں کا پیش خیمہ ہے
اگر دیوار کی اونچی تو دروازہ نکل آیا
تعلق جوڑنے کے فن سے عاری ہو گئے ہیں ہم
جہاں ٹھہرے خیال شہر آئندہ نکل آیا