قومی زبان

یہ کھائی مسئلے کا حل نہیں ہے

یہ کھائی مسئلے کا حل نہیں ہے جدائی مسئلے کا حل نہیں ہے زمینی مسئلوں کا حل نکالو کھدائی مسئلے کا حل نہیں ہے لڑائی ہی ہمارا مسئلہ ہے لڑائی مسئلے کا حل نہیں ہے تو پھر سے آ گیا ہے منہ اٹھا کے او بھائی مسئلے کا حل نہیں ہے انہیں دنیا میں جینا بھی سکھاؤ رہائی مسئلے کا حل نہیں ہے ان ...

مزید پڑھیے

تمام عمر کا حاصل ہے بے بصر ہونا

تمام عمر کا حاصل ہے بے بصر ہونا زیادہ اس سے بھی مشکل ہے باخبر ہونا اگر ہوا کہیں بے فیض موسموں کا نزول ہرے درختوں کا ممکن ہے بے ثمر ہونا غموں کی دھوپ سے بچنا محال ہے لیکن بہت ضروری ہے چھوٹا سا ایک گھر ہونا خود اپنے گھر میں ضرورت کی شے ہوں کیا کم ہے نہیں پسند مجھے بھی ادھر ادھر ...

مزید پڑھیے

ضعف شب نے ایک آسودہ تھکن زندہ کیا

ضعف شب نے ایک آسودہ تھکن زندہ کیا جب ہوئی مردہ ہوس اس نے بدن زندہ کیا سامنے کی چیز سے ٹھوکر لگی تھی ایک دن روند کر قدموں سے آثار کہن زندہ کیا کرنا تھا معتوب ہوتی ساعتوں کو سرخ رو قہقہے گم کرنے کا اس نے چلن زندہ کیا غم چمکتا تھا اندھیرے میں بہ رنگ آفتاب رخ پہ ظلمت ڈال کر اس نے گہن ...

مزید پڑھیے

بنیاد اختلاف پہ زندہ رہے دونوں

بنیاد اختلاف پہ زندہ رہے دونوں اچھا ہوا کہ مدتوں تنہا رہے دونوں دیوار انا ہو گئی مضبوط غلط ہے سچ یہ ہے کہ اندر سے شکستہ رہے دونوں دونوں نے ہی دھوکے میں کسی کو نہیں رکھا اور سامنے ہو کر پس چہرہ رہے دونوں اس سود و زیاں سے بھی الگ تھا کوئی احساس اور اس میں ہی محفوظ زیادہ رہے ...

مزید پڑھیے

سویرے گھر چلا جاؤں تو بستر کاٹ سکتا ہے

سویرے گھر چلا جاؤں تو بستر کاٹ سکتا ہے بتاؤں میں تمہیں کیسے مجھے گھر کاٹ سکتا ہے تحیر پیش کرنا اس کے مسلک میں نہیں شامل بندھی زنجیر کو خود بھی قلندر کاٹ سکتا ہے ابھی یہ منکشف اس پر نہیں یہ میرے حق میں ہے مجھے وہ میرے ہی جملے سے بہتر کاٹ سکتا ہے نہ کر پانی سے ہی پیوند کاری کشتیٔ ...

مزید پڑھیے

مضطرب لہروں سے پہلے آشنا ہونے دیا

مضطرب لہروں سے پہلے آشنا ہونے دیا پھر کہیں میں نے اسے ساحل زدہ ہونے دیا اڑ رہا ہے آندھیوں میں برگ شاخ سبز بھی کس نے میرے دل کے موسم کو ہرا ہونے دیا سنگ زادوں میں بھی رہ کر نازکی باقی رہی میں نے اس کی شخصیت کو آئنہ ہونے دیا میرے پیچھے تھی کسی اندھے مقلد کی طرح اپنی پرچھائیں کو ...

مزید پڑھیے

خواہش جب ابھری تو منظر ڈوب گیا

خواہش جب ابھری تو منظر ڈوب گیا یعنی پھر میں اپنے اندر ڈوب گیا سہمی سہمی آنکھوں میں ویرانی ہے یعنی میں پانی کے باہر ڈوب گیا صبح ہوئی تو چرچا تھا یہ لوگوں میں چاند اندھیرے میں ہی چھت پر ڈوب گیا میں اس کی آنکھوں میں تہمت رکھ آیا جسم کی تہہ میں شک کا خنجر ڈوب گیا فاتح اور مفتوح ...

مزید پڑھیے

نگاہوں میں سدا گیلے بدن کا ذائقہ رکھنا

نگاہوں میں سدا گیلے بدن کا ذائقہ رکھنا قیامت خیز بارش میں نہ دروازہ کھلا رکھنا تھکن واجب ہے اتنی ٹوٹتے لمحوں کے سائے میں بلندی پر بہت مشکل ہے اپنا مرتبہ رکھنا ہوائے دشت شوریدہ شجر کو برہنہ کر دے تو ان بکھرے ہوئے پتوں پہ اپنا نقش پا رکھنا وہ موسم جب درختوں کو نئی پوشاک مل ...

مزید پڑھیے

کیا ستم کر گئی اے دوست تری چشم کرم

کیا ستم کر گئی اے دوست تری چشم کرم جیسے تیرے نہیں دنیا کے گنہ گار ہیں ہم کوئی عالم ہو بہرحال گزر جاتا ہے ہم نہ سرگشتۂ راحت ہیں نہ آشفتۂ غم تری زلفوں کی گھنی چھاؤں بہت دور سہی جادہ پیما ہیں حوادث کی کڑی دھوپ میں ہم نکہت گل سے کچھ اس طرح ملاقات ہوئی یاد آیا تری بیگانہ وشی کا ...

مزید پڑھیے

مہاتما گاندھی

مسافر ابدی کی نہیں کوئی منزل یہاں قیام کیا یا وہاں قیام کیا تری وفا نے بڑے مرحلے کئے آساں فروغ صبح کو تو نے فروغ کام کیا صنم کدوں میں بڑھا اعتبار اہل حرم حرم نے دیر نشینوں کا احترام کیا حیات کیا ہے محبت کی آگ میں جلنا یہ راز بھی ترے سوز وفا نے عام کیا اٹھا اٹھا کے حجابات چہرۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1621 سے 6203