خلوتئ خیال کو ہوش میں کوئی لائے کیوں
خلوتئ خیال کو ہوش میں کوئی لائے کیوں شعلۂ طور ہی سہی ہم سے نظر ملائے کیوں ہم سے کچھ اور ہی کہا ان سے کچھ اور کہہ دیا باد صبا یہ کیا کیا تو نے یہ گل کھلائے کیوں قیس کا حاصل جنوں ناقہ و محمل و حجاب لیلئ نجد آشنا خلوت دل میں آئے کیوں عقل حریص خار و خس صورت شعلۂ ہوس دولت سوز جاوداں ...