قومی زبان

خلوتئ خیال کو ہوش میں کوئی لائے کیوں

خلوتئ خیال کو ہوش میں کوئی لائے کیوں شعلۂ طور ہی سہی ہم سے نظر ملائے کیوں ہم سے کچھ اور ہی کہا ان سے کچھ اور کہہ دیا باد صبا یہ کیا کیا تو نے یہ گل کھلائے کیوں قیس کا حاصل جنوں ناقہ و محمل و حجاب لیلئ نجد آشنا خلوت دل میں آئے کیوں عقل حریص خار و خس صورت شعلۂ ہوس دولت سوز جاوداں ...

مزید پڑھیے

نکہت زلف کو ہم رشتۂ جاں کہتا ہوں

نکہت زلف کو ہم رشتۂ جاں کہتا ہوں ہوش آتا ہے تو خواب گزراں کہتا ہوں درد کو دولت صاحب نظراں کہتا ہوں غم کو سرمایۂ عیسیٰ نفساں کہتا ہوں کوئی سمجھے کہ نہ سمجھے مگر اے شمع حرم میں تجھے شعلۂ رخسار بتاں کہتا ہوں قطرہ دریا ہے تو کیوں شورش دریا طلبی ہر تمنا کو محبت کا زیاں کہتا ہوں ہے ...

مزید پڑھیے

بت گر ہے نہ کوئی بت شکن ہے

بت گر ہے نہ کوئی بت شکن ہے سب وہم و گمان برہمن ہے یہ کون شریک انجمن ہے آنکھوں کو بھی حسرت سخن ہے آساں تو ہے جوئے شیر لیکن کچھ اور ہی عزم کوہ کن ہے اے آتش دل ادب ہے لازم مجھ میں بھی وہ بوئے پیرہن ہے ویران سی ہو چلی ہیں راہیں رہبر ہے نہ کوئی راہزن ہے اعجاز غزل کہ خود روشؔ سے وہ ...

مزید پڑھیے

خرد کو گمشدۂ کو بہ کو سمجھتے ہیں

خرد کو گمشدۂ کو بہ کو سمجھتے ہیں ہم اہل عشق تجھے روبرو سمجھتے ہیں ترے خیال کی خوشبو ترے جمال کا رنگ ہر اک کو تکملۂ رنگ و بو سمجھتے ہیں کوئی مقام کوئی مرحلہ نظر میں نہیں کہاں ہے قافلۂ آرزو سمجھتے ہیں بتان شہر کو یہ اعتراف ہو کہ نہ ہو زبان عشق کی سب گفتگو سمجھتے ہیں ہزار فتنہ در ...

مزید پڑھیے

ایک لغزش میں در پیر مغاں تک پہنچے

ایک لغزش میں در پیر مغاں تک پہنچے ہم بھٹکتے تھے کہاں اور کہاں تک پہنچے لطف تو جب ہے کہ اے محرم حسن گفتار ہو کوئی بات مگر حسن بتاں تک پہنچے یہ بھی کچھ کم نہیں اے رہرو اقلیم یقیں ہم خرابات نشیں حسن گماں تک پہنچے طے ہوئی منزل خارا شکنی دو دن میں لوگ صدیوں میں دل شیشہ گراں تک ...

مزید پڑھیے

اس سے بڑھ کر تو کوئی بے سر و ساماں نہ ملا

اس سے بڑھ کر تو کوئی بے سر و ساماں نہ ملا دل ملا جس کو مگر درد غریباں نہ ملا اک ذرا ذوق تجسس میں بڑھایا تھا قدم نکہت گل کو پھر آغوش گلستاں نہ ملا بات اتنی سی ہے اے واعظ افلاک نشیں کیا ملے گا اسے یزداں جسے انساں نہ ملا ان سے اب تذکرۂ دولت کونین ہے کیوں جن غریبوں کو ترا گوشۂ داماں ...

مزید پڑھیے

التفات آشنا حجاب ترا

التفات آشنا حجاب ترا لطف پنہاں ہے اجتناب ترا کیا ملا ہے مآل بیداری میری آنکھیں ہیں اور خواب ترا دل سے کرتا ہوں لاکھ لاکھ سوال یاد آتا ہے جب جواب ترا کوئی دیکھے تجھے تو کیا دیکھے کہ ترا حسن ہے نقاب ترا ہائے ان لغزشوں کی رعنائی ڈھونڈھتا ہے جنہیں عتاب ترا عشرت دل تھی دل کی ...

مزید پڑھیے

عمر ابد سے خضر کو بے زار دیکھ کر

عمر ابد سے خضر کو بے زار دیکھ کر خوش ہوں فسون نرگس بیمار دیکھ کر کیا جلوہ‌ گاہ حسرت نظارہ ہے بہشت حیراں ہوں صورت در و دیوار دیکھ کر بادہ بقدر ظرف سہی رسم مے کدہ ساقی نزاکت‌ دل مے خوار دیکھ کر اب جستجوئے دوست کی منزل کہیں بھی ہو ہم چل پڑے ہیں راہ کو دشوار دیکھ کر شایان جرم عشق ...

مزید پڑھیے

ہوس خلوت خورشید و نشاں اور سہی

ہوس خلوت خورشید و نشاں اور سہی دور ہے صبح تو یہ خواب گراں اور سہی کچھ شکستہ سا ہے رنگینی‌ و نکہت کا طلسم یہی بیداد خزاں ہے تو خزاں اور سہی مرحلے دانش حاضر کے تو سب ختم ہوئے اک قدم جانب اقلیم گماں اور سہی میری پلکیں بھی گراں بار رہی ہیں اے دوست اب یہ آنسو ترے دامن پہ گراں اور ...

مزید پڑھیے

خواب دیدار نہ دیکھا ہم نے

خواب دیدار نہ دیکھا ہم نے غائبانہ انہیں چاہا ہم نے کم نہ تھا عشق ازل سے رسوا کر دیا اور بھی رسوا ہم نے زندگی محو خود آرائی تھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا ہم نے راہ سے دور نظر آئے جو خار ان کو پلکوں سے اٹھایا ہم نے لے لیا کوہ حوادث سر پر وقت کے دل کو نہ توڑا ہم نے کر دیا فاش ترا غم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1623 سے 6203