قومی زبان

دل کے بہلانے کو دل میں کوئی دلبر رکھنا

دل کے بہلانے کو دل میں کوئی دلبر رکھنا اور بیگم کی نگاہوں سے بچا کر رکھنا سارے احباب میں بد نام تمہیں کر دے گی اپنے احوال پڑوسن سے چھپا کر رکھنا کام اگر اپنا بنانا ہے تو پھر اس کے لیے ہاتھ میں اپنے کوئی ایک منسٹر رکھنا گر کمانا ہو تو ڈگری پہ بھروسہ نہ کرو ڈگڈگی ہاتھ میں اور ...

مزید پڑھیے

کیسے بیاں کروں میں کسی گل بدن کا رنگ

کیسے بیاں کروں میں کسی گل بدن کا رنگ پھیکا ہے اس کے سامنے زاغ و زغن کا رنگ سارے اساتذہ سے چراؤ سخن کا رنگ گر کچھ نکھارنا ہو تمہیں اپنے فن کا رنگ آتے ہی سارے لوگ چکن پر اڑی پڑے ٹیبل پہ دیکھ پایا نہ میں نے چکن کا رنگ اپنا لہو بھی شامل فصل بہار ہے یوں سرخ ہو رہا ہے ہمارے چمن کا ...

مزید پڑھیے

کہتا ہوں امی ساس کو ابا خسر کو میں

کہتا ہوں امی ساس کو ابا خسر کو میں پھر کیوں نہ جانوں اپنا ہی گھر ان کے گھر کو میں تنہا ہے میرا دل تو جڑا دو کسی کا دل کہہ دوں گا دل کی بات کسی ڈاکٹر کو میں اپنی مکان والی کا اپنا وقار ہے کیسے محل کہوں گا نہ اپنے کھنڈر کو میں مل جائے مجھ کو چانس جو ہیرو کا دوستو پل میں پچھاڑ ڈالوں ...

مزید پڑھیے

باغیچۂ اطفال ہے کٹیا مرے آگے

باغیچۂ اطفال ہے کٹیا مرے آگے گورا مرے پیچھے ہے تو کالا مرے آگے اس دور میں جھوٹوں ہی کی ہوتی ہے خوشامد لیڈر کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے آیا ہوں جو دبئی سے تو یہ چاؤ ہیں میرے سالی مرے پیچھے ہے تو سالا مرے آگے اسکول کی تعلیم نے گل ایسا کھلایا اب آنکھیں دکھاتا ہے بھتیجا مرے ...

مزید پڑھیے

جب بھی بیگم کی دید ہوتی ہے

جب بھی بیگم کی دید ہوتی ہے ایک زحمت مزید ہوتی ہے مسکراتے ہیں آج کیوں مرشد کوئی لڑکی مرید ہوتی ہے یاد آتے ہیں ہم بھی سالوں کو جب ضرورت شدید ہوتی ہے چاند سورج زمیں سے اگتے ہیں شاعری جب جدید ہوتی ہے سچ ہی کہتے ہیں گھر جنوائی کی زندگی زر خرید ہوتی ہے اب بچائے خدا بلاؤں سے ان سے ...

مزید پڑھیے

ہم روز جو لڑتے ہیں تماشا نہیں ہوتا

ہم روز جو لڑتے ہیں تماشا نہیں ہوتا معمول کا جھگڑا کوئی جھگڑا نہیں ہوتا میں بچے کھلاتا ہوں تو وہ جاتے ہیں پکچر یہ روز کا راتب ہے جو ناغہ نہیں ہوتا لیڈر کی یہ پہچان کہ وہ پھولتا جائے شاعر کی یہ پہچان کہ موٹا نہیں ہوتا ہر ایک ملازم کا ہے یہ حال کہ گھر میں چاول نہیں ہوتے کبھی آٹا ...

مزید پڑھیے

نام شیطان سے مشہور ہمارا ہوتا

نام شیطان سے مشہور ہمارا ہوتا اپنے پیچھے بھی اگر کوئی ادارہ ہوتا اوج پر اپنے مقدر کا ستارا ہوتا اک منسٹر کا ہی چمچہ جو ہمارا ہوتا اپنے جینے کا یہی ایک سہارا ہوتا کسی ترپٹ کا سہی کوئی اشارا ہوتا ایک شادی نے ہی سب بال جھڑا ڈالے ہیں یہ عمل کہئے کہ پھر کیسے دوبارہ ہوتا بے پڑھے ...

مزید پڑھیے

ہم سے غم خواریاں نہیں اچھی

ہم سے غم خواریاں نہیں اچھی یہ ادا کاریاں نہیں اچھی کچھ جو بننا ہے چاپلوسی کر دیکھ خودداریاں نہیں اچھی شیخ صاحب سنو ضعیفی میں دل کی بیماریاں نہیں اچھی نام اردو سے ہم کو دو نہ فریب یہ دل آزاریاں نہیں اچھی رات میں ساتھ پی لو واعظ کے دن کی مے خواریاں نہیں اچھی کچی املی وہ پھر ...

مزید پڑھیے

حرام میں وہ نہیں لطف جو حلال میں ہے

حرام میں وہ نہیں لطف جو حلال میں ہے کہ مرغ و ماہی کی لذت ہماری دال میں ہے فصاد جو بھی کراتا ہے فرقہ‌ وارانہ وہ بھیڑیا ہے مگر آدمی کی کھال میں ہے ہے اختیار خیالوں میں چاہے جو بھی کریں مزا جو ہجر میں ہے وہ کہاں وصال میں ہے مزاح و طنز کا معیار ہے بہت اونچا ہے ذہن و فکر کی پستی جو ...

مزید پڑھیے

فساد ہر جگہ برپا ہے کیا کیا جائے

فساد ہر جگہ برپا ہے کیا کیا جائے مزاج قوم ہی ایسا ہے کیا کیا جائے جو مذہبی تھے مسائل وہ اب سیاسی ہیں یہیں تو دال میں کالا ہے کیا کیا جائے ادھار پیتے تھے غالب تو یہ چراتا ہے چچا سے آگے بھتیجا ہے کیا کیا جائے ہم اپنی ناک کھجانے سے ہو گئے قاصر ہمارے سامنے نکٹا ہے کیا کیا جائے ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1596 سے 6203