قومی زبان

عطا جو مجھ کو ذرا سا خضاب ہو جائے

عطا جو مجھ کو ذرا سا خضاب ہو جائے پلٹ کے میری ضعیفی شباب ہو جائے جو جنسیات شریک نصاب ہو جائے ہر ایک بوائے فرینڈ کامیاب ہو جائے خدا نخواستہ وہ بے نقاب ہو جائے تو زندگانی ہماری عذاب ہو جائے وہ مست خواب جو مست شراب ہو جائے دعائے وصل مری مستجاب ہو جائے عدو سے آپ ذرا سوچ کر ملا ...

مزید پڑھیے

یوں دل ترس رہا ہے تری کار دیکھ کر

یوں دل ترس رہا ہے تری کار دیکھ کر للچائے جیسے جام کو مے خوار دیکھ کر بالائے بام یا پس دیوار کون جائے حسن بتاں کو رونق بازار دیکھ کر جوڑے کا بھاؤ چاہیے ڈگری کے وزن پر قیمت بڑھا رہا ہوں خریدار دیکھ کر اب رکشا راں بھی گاتے ہیں مخدوم کی غزل شاید اثر ہوا ہے یہ بازار دیکھ کر دونوں کا ...

مزید پڑھیے

ترنم میں گویے کی طرح سے تان پیدا کر

ترنم میں گویے کی طرح سے تان پیدا کر نئے انداز سے شعروں میں اپنے جان پیدا کر اگر تو کانا راجہ ہے تو اندھوں کا بنا حلقہ تو اپنی شاعری کے واسطے میدان پیدا کر اگر مشہور ہونا ہے تو اپنی جیب کر خالی کہیں سے غیر مطبوعہ کوئی دیوان پیدا کر رکھ اپنے ہاتھ میں پتے شراب و جام چوسر بھی مرے ...

مزید پڑھیے

کٹتا نہیں ہے دن مرا جھگڑا کئے بغیر

کٹتا نہیں ہے دن مرا جھگڑا کئے بغیر ہوتا ہے ایک کام یہ ناگا کئے بغیر آتا ہے چین کب انہیں خرچہ کئے بغیر چھٹی کئے بغیر نہ چلا کئے بغیر کمپیوٹروں میں فیڈ کرو اپنے عشق کو رکھیں گے یاد عشق کو بھولا کئے بغیر سنت میں کام بن گیا غالب کا جس گھڑی وہ چل دیے تھے فرض کو پورا کئے بغیر مجموعہ ...

مزید پڑھیے

محفل میں جس جگہ بھی مرا تذکرہ ہوا

محفل میں جس جگہ بھی مرا تذکرہ ہوا دیکھا ہر ایک شخص کا منہ تھا پھلا ہوا اردو کے واسطے نہ کیا اس نے کچھ کبھی اردو کے نام سے ہے گھر اس کا بھرا ہوا غربت کدے کا حشر تو ہونا تھا بس یہی لوگوں کے آنے جانے سے اک راستہ ہوا مل تو نہیں گئی کوئی دوکان شاعری پھرتا ہے جو اکڑ کے وہ شاعر بنا ...

مزید پڑھیے

جو ہو سکے تو پلا دیجئے ادھار مجھے

جو ہو سکے تو پلا دیجئے ادھار مجھے کہ نقد پیسوں سے آتا نہیں خمار مجھے نہ اتری حلق سے بھی آ گیا خمار مجھے دکھائی دیتے ہیں اک اک کے چار چار مجھے ہے میرا عشق بھی مجنوں کے عشق کی توسیع ادھر بخار اسے ہے ادھر بخار مجھے وظیفہ پڑھ کے میں چندے وصول کرتا ہوں پکارتے ہیں سبھی اب وظیفہ خوار ...

مزید پڑھیے

ایک شاعر کا ہوں مہمان خدا خیر کرے

ایک شاعر کا ہوں مہمان خدا خیر کرے اس کے ہاتھوں میں ہے دیوان خدا خیر کرے میں ہوں لاغر وہ پہلوان خدا خیر کرے میری آفت میں پھنسی جان خدا خیر کرے نیند میں چیختا رہتا ہے وہ چوا چھکا اس پہ کرکٹ کا ہے شیطان خدا خیر کرے مجھ سے بیگم کا تقابل تو فقط اتنا ہے میں دیا ہوں تو وہ طوفان خدا خیر ...

مزید پڑھیے

جب سے میں صاحب کتاب ہوا

جب سے میں صاحب کتاب ہوا دوست جل کر مرا کباب ہوا مفت میں میں جو دستیاب ہوا میرا لاکھوں میں انتخاب ہوا ساری غزلیں سنا کے چھوڑا ہے اس سے ملنا تو اک عذاب ہوا پہلے پاگل ہی مجھ کو کہتے تھے شاعروں میں اب انجذاب ہوا پیش رو پی کے خوب لکھتے تھے اس لیے مائل شراب ہوا جسم برقعے میں اور منہ ...

مزید پڑھیے

جہیزوں کے لیے بڑھتی رہیں گی تلخیاں کب تک

جہیزوں کے لیے بڑھتی رہیں گی تلخیاں کب تک جلائی جائیں گی سسرال میں یہ لڑکیاں کب تک اڑائیں گے ڈنر میں سارے لیڈر مرغیاں کب تک رعایا کنڈیوں میں ڈھونڈھ کھائے ہڈیاں کب تک گل پژمردہ پر آخر رہیں گی تتلیاں کب تک رچائیں گے جناب شیخ آخر شادیاں کب تک ہے گھر میں ٹیم کرکٹ کی ذرا تو شرم کر ...

مزید پڑھیے

کیا جانے کیا لکھا تھا انہیں اضطراب میں

کیا جانے کیا لکھا تھا انہیں اضطراب میں قاضی کے ساتھ آ گئے خط کے جواب میں لغزش سی ہو گئی تھی مرے انتخاب میں میں کر سکا نہ فرق جو گوبھی گلاب میں گیسو بدوش آئے تھے اک روز خواب میں اس روز سے ہوں آج تلک پیچ و تاب میں رہتے الگ تو عیش بھی کرتے الگ الگ ماں باپ اپنے بن گئے ہڈی کباب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1595 سے 6203