عطا جو مجھ کو ذرا سا خضاب ہو جائے
عطا جو مجھ کو ذرا سا خضاب ہو جائے پلٹ کے میری ضعیفی شباب ہو جائے جو جنسیات شریک نصاب ہو جائے ہر ایک بوائے فرینڈ کامیاب ہو جائے خدا نخواستہ وہ بے نقاب ہو جائے تو زندگانی ہماری عذاب ہو جائے وہ مست خواب جو مست شراب ہو جائے دعائے وصل مری مستجاب ہو جائے عدو سے آپ ذرا سوچ کر ملا ...