قومی زبان

ارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے

ارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے وہ دال مرے عشق کی گلنے نہیں دیتے ہر روز کیا کرتے ہیں وہ اک نیا وعدہ عشاق کو ہاتھوں سے نکلنے نہیں دیتے راتوں کو بھی غازہ سے چمکتا ہے وہ چہرہ سورج وہ کبھی حسن کا ڈھلنے نہیں دیتے ہر روز وہ ہر عہد سے پھر جاتے ہیں لیکن پہلی کے مرے وعدے کو ٹلنے نہیں ...

مزید پڑھیے

جو بوجھ ہے دل پر اسے کم کرتے رہیں گے

جو بوجھ ہے دل پر اسے کم کرتے رہیں گے شاعر ہیں تو ہر ناک میں دم کرتے رہیں گے یہ پارٹی اچھی ہے نہ وہ پارٹی اچھی لیڈر کو ضروری ہے ادھم کرتے رہیں گے لے آئیں گے سامان کو کسٹم سے بچا کر اس طرح سے ہم سیر حرم کرتے رہیں گے احباب کو لے ڈوبیں گے احوال سنا کر وابستوں کو وابستۂ غم کرتے رہیں ...

مزید پڑھیے

زندگی کے کیسے کیسے حوصلے پتھرا گئے

زندگی کے کیسے کیسے حوصلے پتھرا گئے آرزو سے چل کے ترک آرزو تک آ گئے یاد ہے اتنا کہ ابھرا تھا کوئی عکس جمیل اور پھر یادوں کے سارے آئینے دھندلا گئے میرے ماضی کے چمن میں تھے جو کچھ یادوں کے پھول رفتہ رفتہ زندگی کی دھوپ میں کمھلا گئے زندگی بھی ہے تمہارے غم کے پس منظر کی دین جب بھی ...

مزید پڑھیے

دیکھ افق کے پیلے پن میں دور وہ منظر ڈوب گیا

دیکھ افق کے پیلے پن میں دور وہ منظر ڈوب گیا جیسے کسی بیمار کے رخ پر رنگ ابھر کر ڈوب گیا جھوٹی آس کے پنکھ لگا کر سات سمندر اڑ آیا تیرے قرب کی خوشبو پا کر میں ساحل پر ڈوب گیا یاد کی اے سیلی دیوارو اب کے ایسا لگتا ہے حال کی طغیانی میں جیسے ماضی کا گھر ڈوب گیا وہ تو اپنے قد سے زیادہ ...

مزید پڑھیے

مجھ کو مت چھونا کہ رس کر پھوٹنے والا ہوں میں

مجھ کو مت چھونا کہ رس کر پھوٹنے والا ہوں میں تجھ کو کیا معلوم تیرے طنز کا چھالا ہوں میں آج ذہنوں میں ہوں لیکن کل کا اندیشہ ہوں میں درمیاں دونوں کے گر کر ٹوٹتا رشتہ ہوں میں آڑی ترچھی سی لکیریں کھینچتا ہوں اور پھر اس کو ہر منظر میں رکھ کر رنگ بھر دیتا ہوں میں وہ تو یوں خوش ہے ...

مزید پڑھیے

شاعری میں اک تماشہ اب وہ دکھلانے کو ہے

شاعری میں اک تماشہ اب وہ دکھلانے کو ہے مار کر میری غزل محفل پہ چھا جانے کو ہے سارے الو کیا کریں گے سوچتا ہوں رات بھر تیرگی کا راج اب دنیا سے مٹ جانے کو ہے بد دعا ہے حسن والوں کی جو ہے آشوب چشم ان کو دیکھا پیار سے اور آنکھ اب آنے کو ہے اب ترنم کی روایت بھی پرانی ہو گئی ایک شاعر ...

مزید پڑھیے

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے ہم سے خوش فہموں کا یارو یہ خیال اچھا ہے نہ حرام اچھا ہے یارو نہ حلال اچھا ہے کھا کے پچ جائے جو ہم کو وہی مال اچھا ہے صرف نعروں سے غریبی تو نہیں مٹ سکتی ملک سے سارے غریبوں کو نکال اچھا ہے ساتھ بیگم کے ملا کرتے ہیں دس بیس ہزار مفت کے مالوں میں ...

مزید پڑھیے

قرض لے کر ادا نہیں کرتے

قرض لے کر ادا نہیں کرتے شاعر اس کے سوا نہیں کرتے ہم کسی کا بھلا نہیں کرتے کام بے فائدہ نہیں کرتے ایک شادی پہ اکتفا کر لو یہ خطا بارہا نہیں کرتے لاکھ وعدہ کریں گے وہ ہم سے کوئی وعدہ وفا نہیں کرتے سوکھے پیڑوں کی طرح یہ لیڈر ہم پہ سایہ ذرا نہیں کرتے آسماں کو زمین لکھتے ہیں لوگ ...

مزید پڑھیے

جینے کا کچھ اصول نہ مرنے کا ڈھنگ ہے

جینے کا کچھ اصول نہ مرنے کا ڈھنگ ہے ہر چھوٹی چھوٹی بات پہ آپس میں جنگ ہے جب سے سنا ہے فلم دی ڈے آفٹر کا حال کھمبوں سے ہم نے باندھ کے رکھا پلنگ ہے ٹی وی پہ گائے بھینس پکاریں گے روز ہی اردو زباں سے اس میں زیادہ ترنگ ہے آیا ہے کیسا دور سیاست میں دوستو راعی بھی خوش نہیں ہے رعایا بھی ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کون سا منظر نظر سے گزرا تھا

نہ جانے کون سا منظر نظر سے گزرا تھا کہ مدتوں کوئی سودائے سر سے گزرا تھا پھر اس کے بعد انا کا شکار ہو بیٹھا میں ایک بار تری رہگزر سے گزرا تھا بسی ہوئی ہے مہک تیرے پیرہن جیسی ابھی ابھی کوئی جھونکا ادھر سے گزرا تھا گزر سکا نہ ترے ضبط کے حصار سے جو وہ سیل غم بھی مری چشم تر سے گزرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1597 سے 6203