قومی زبان

زندگی

اے زندگی تجھے یوں گزرتے دیکھا کبھی گرتے تو کبھی سنبھلتے دیکھا جب دل چاہا تجھے بھر لیں ان بانہوں میں ہاتھ سے ریت سا پھسلتے دیکھا رکھا جو آئنہ تیری نگاہوں پر تجھ میں خود کو سنورتے دیکھا کھلی جو آنکھ ٹوٹا وہ خواب خود میں تجھ کو بکھرتے دیکھا کچھ جاگی کچھ سوئی یوں خود میں ہی ...

مزید پڑھیے

دامن سے اپنے جھاڑ کے صحرائے غم کی دھول

دامن سے اپنے جھاڑ کے صحرائے غم کی دھول آؤ چلو نہ ہم بھی چنیں سر خوشی کے پھول آخر کو مل سکی نہ بشر کو رہ نجات یوں تو ہر ایک دور میں آتے رہے رسول دامن بچا کے آئیو میرے مزار تک اے جان نو بہار اگے ہیں ادھر ببول دیکھا کبھی جو دہر کو شاعر کی آنکھ سے خلاق کائنات بھی صدیوں رہا ملول آئے ...

مزید پڑھیے

پچاس سالوں میں دو اک برس کا رشتہ تھا

پچاس سالوں میں دو اک برس کا رشتہ تھا مری وفا سے تمہاری ہوس کا رشتہ تھا ہمارا پیار تو تھا چاند اور چکورے سا تمہارا عشق ہی گل سے مگس کا رشتہ تھا رہ حیات کا میں ایسا اک مسافر تھا کہ جیسے شہر کی سڑکوں سے بس کا رشتہ تھا سنا ہے میں نے مساجد کے ان مناروں سے منادروں کے ان اونچے کلس کا ...

مزید پڑھیے

سواد شہر میں تھوڑی سی یہ جو جنت ہے

سواد شہر میں تھوڑی سی یہ جو جنت ہے ہمارے عہد کے نمرود کی وراثت ہے تمام ملک میں اس کی غزل کی شہرت ہے ہمارے شہر میں اک شخص شاد و حسرت ہے غزل غزل نہیں فن کی عظیم دولت ہے یہ میرؔ و غالبؔ و اقبالؔ کی امانت ہے نہ معجزہ کوئی الہام نہ رسالت ہے یزید و شمر ہیں لاکھوں خدا کی قدرت ہے ابھی ہے ...

مزید پڑھیے

گریز

میں نے جس راہ کو مدت سے بدل ڈالا ہے پھر سے وہ راہ دکھانے کو چلی آئی ہو اپنے نینوں سے سلگتے ہوئے دیپک لے کر پیار کی جوت جگانے کو چلی آئی ہو میری امید کے ٹوٹے ہوئے پتواروں کو تند حالات کے طوفان سے ٹکرانے دو اک تہی دست کی مظلوم تمناؤں کو بربریت کے ہر ایوان سے ٹکرانے دو ایک محور ہی پہ ...

مزید پڑھیے

دیوداس کی واپسی

سنا ہے میں نے کہ شہر کا اک رئیس زادہ شرت کے ناول کا ایک کردار بن گیا ہے شراب پی کر وہ خاک چکلوں کی چھانتا ہے وہ ویشیاؤں میں اپنی پارو کو ڈھونڈھتا ہے مگر نہ پارو ملی اسے تو وہ بھی کیا خودکشی کرے گا نہیں جئے گا

مزید پڑھیے

سودا یہ شاعری کا ہمارے جو سر میں ہے

سودا یہ شاعری کا ہمارے جو سر میں ہے ہنگامہ محفلوں میں ہے افلاس گھر میں ہے بد شکل ہے ضعیف ہے دلہن تو کیا ہوا لاکھوں کی جائیداد بھی میری نظر میں ہے انگریزی پڑھ رہے ہیں امیروں کے لاڈلے اردو غریب صرف غریبوں کے گھر میں ہے شادی کہیں اسے کہ کہیں عمر قید ہم بیوی ہے انڈیا میں تو شوہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1594 سے 6203