قومی زبان

تھکن سے چور تھا شب کے کنار بیٹھ گیا

تھکن سے چور تھا شب کے کنار بیٹھ گیا اٹھا تھا عید کا اک جو غبار بیٹھ گیا انا کے آگے میں تن کر کھڑا رہا لیکن مرا نصیب مرا راہ وار بیٹھ گیا ہنر نہیں تھا ستارو تمہارے ہاتھوں میں تمہارے تیروں کے آگے شکار بیٹھ گیا مہک رہی ہیں اذانیں لہک رہی ہے نماز خدا کے گھر میں کوئی بادہ خوار بیٹھ ...

مزید پڑھیے

وفا شناس محبت شناس ہے ہی نہیں

وفا شناس محبت شناس ہے ہی نہیں اسی لئے مجھے دنیا سے آس ہے ہی نہیں اے دشت جبر و جفا چل اٹھا فرات لپیٹ مرے قبیلے کو پانی کی پیاس ہے ہی نہیں عجیب فصل بہاراں ہے باغ ہستی میں کسی بھی پیڑ کے تن پہ لباس ہے ہی نہیں یہ عرش والوں کا قصہ ہے فرشیوں کا نہیں زمیں پہ کوئی ولایت شناس ہے ہی ...

مزید پڑھیے

نئی نظمیں سنائی جا رہی ہیں

نئی نظمیں سنائی جا رہی ہیں نئی طرزیں بنائی جا رہی ہیں ترنم جن میں عنقا سوز غائب وہ غزلیں گنگنائی جا رہی ہیں حیا کے شہر کی ساری فصیلیں کدال شر سے ڈھائی جا رہی ہیں جو فلمیں دیکھتے تھے یار چھپ کر گھروں میں اب دکھائی جا رہی ہیں عجب جمہور ہے کہ بیٹیاں بھی الیکشن میں نچائی جا رہی ...

مزید پڑھیے

جو فاصلہ ہے میں اس کو مٹا کے دیکھوں گا

جو فاصلہ ہے میں اس کو مٹا کے دیکھوں گا میں اس کے چہرے سے پردہ ہٹا کے دیکھوں گا وہ اپنے حسن مری آرزو کے زعم میں ہے میں اس کے بت کو کسی دن گرا کے دیکھوں گا وہ تخت چھوڑ کے اپنا ضرور آئے گا میں آسمان کو سر پہ اٹھا کے دیکھوں گا مرے فراق میں اس کا بھی حال مجھ سا ہے میں آپ جا کے یا اس کو ...

مزید پڑھیے

میرے جذبات کی رو جانے کہاں بہکی ہے (ردیف .. ن)

میرے جذبات کی رو جانے کہاں بہکی ہے اب تو مشکل ہے چھپانا تجھے افسانوں میں دل کا شعلہ تو بھڑکتا ہی رہا اشکوں سے رات بھر شمع پگھلتی رہی پروانوں میں رنگ اخلاص و وفا کیفیت سوز و گداز اور کیا چیز سجاؤں ترے ارمانوں میں پھر مری آنکھوں میں لہرایا ترا خواب حسیں لے چلی نیند مجھے تیرے ...

مزید پڑھیے

خزاں کے گیت

اٹھاؤ ساز کہ ابر بہار باقی ہے ابھی تو بزم میں کیف و خمار باقی ہے ابھی ابھی تو فضا مسکرا کے جاگی ہے ابھی تو شوق دل بادہ خوار باقی ہے ابھی نہ جاؤ بہاریں بھی لوٹ جائیں گی ابھی تو صحن چمن کا نکھار باقی ہے ابھی تو انجمن مہر و ماہ بکنے دو ابھی نقاب رخ حسن یار باقی ہے ابھی نہ شمع بجھاؤ مرے ...

مزید پڑھیے

سر رہگزر

اک موہوم سا کاشانہ نظر آتا ہے ایک مغموم سا غم خانہ نظر آتا ہے اپنی منزل ہی مجھے کھینچ رہی ہے شاید ہم سفر پر مجھے بیگانہ نظر آتا ہے دیکھ اے جوش جنوں بادیہ پیمائی کو نقش پا بھی مجھے دیوانہ نظر آتا ہے داستاں پھیلی ہوئی ہے مری صحراؤں میں ہم زبان آج یہ ویرانہ نظر آتا ہے خاک اڑاتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

میں اپنی ذات نہ اپنے مکاں میں رہتی ہوں

میں اپنی ذات نہ اپنے مکاں میں رہتی ہوں دھوئیں کا پھول ہوں آتش فشاں میں رہتی ہوں کرم ہے اس کا جو دیتا ہے شکر کے موقعے کرم ہے اس کا جو میں امتحاں میں رہتی ہوں یہ وصل بھی ہے کسی اور جستجو جیسا کسی کے پاس کسی کے گماں میں رہتی ہوں مری بہار ابھی لوٹ کر نہیں آئی میں خشک پیڑ ہوں اور ...

مزید پڑھیے

سر بزم طلب رقص شرر ہونے سے ڈرتی ہوں

سر بزم طلب رقص شرر ہونے سے ڈرتی ہوں کہ میں خود پر محبت کی نظر ہونے سے ڈرتی ہوں بچانا چاہتی ہوں اس کو سورج کی تمازت سے مگر میں اس کے رستے کا شجر ہونے سے ڈرتی ہوں کبھی اس کے خیالوں میں نہیں جاتی تھی دریا پر اور اب یہ وقت آیا ہے کہ گھر ہونے سے ڈرتی ہوں اگر یہ سچ ہے خوشبو اور محبت چھپ ...

مزید پڑھیے

میں اس دل سے نکل کر بام و در تقسیم کرتی ہوں

میں اس دل سے نکل کر بام و در تقسیم کرتی ہوں کہ خود بے گھر ہوں اور لوگوں میں گھر تقسیم کرتی ہوں نگر والوں میں جب کوتاہ دستی عام ہوتی ہے میں آندھی کی طرح ان میں ثمر تقسیم کرتی ہوں ہواؤں کے لیے کچھ بھی بچا کر میں نہیں رکھتی خزاں رت کی طرح پورا شجر تقسیم کرتی ہوں مرے پاس اس کو دینے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1585 سے 6203