قومی زبان

امن کی منزل کے راہی

امن کی منزل کے راہی گیت گاتا چل زندگی کے پیار کی مشعل جلاتا چل عظمتیں تاریخ کی ہیں رہنما تیری برکتیں تہذیب کی ہیں ہم نوا تیری ہم قدم ہیں اہل دل نغمے سناتا چل امن کی منزل کے راہی گیت گاتا چل آدمی کے بھیس میں شیطان آئیں گے راستے میں سیکڑوں طوفان آئیں گے تو مگر ان مشکلوں پر مسکراتا ...

مزید پڑھیے

یہ سر زمین وطن

یہ سر زمین وطن یہ دیار اہل نظر یہ سر زمین وطن جلوہ گاہ ذات و صفات یہ سر زمین وطن آبروئے عالم خاک یہ سر زمین وطن گلشن بہار حیات یہ سر زمین وطن یہ دیار اہل نظر جبیں پہ جس کی روایات کی ہے تابانی رگوں میں جس کی رواں ہے لہو شہیدوں کا کہ جس پہ کرتے ہیں شمس و قمر گل افشانی یہ سر زمین کتاب ...

مزید پڑھیے

نجم سحر

وقت سحر، خاموش دھندلکا ناچ رہا ہے صحن جہاں میں تابندہ، پر نور ستارے، جگمگ جگمگ کرتے کرتے ہار چکے ہیں اپنی ہمت، ڈوب چکے ہیں بحر فلک میں تاریکی کے طوفانوں میں اپنی کشتی کھیتے کھیتے لیکن اک با ہمت تارا اب بھی آنکھیں کھول رہا ہے اب بھی جہاں کو دیکھ رہا ہے اپنی مستانہ نظروں سے جیسے ...

مزید پڑھیے

نغمۂ دہلی

دیکھو نگہ شوق سے دہلی کے نظارے تہذیب کی جنت ہے یہ جمنا کے کنارے یہ اندر کے رنگین اکھاڑے کی پری ہے صدیوں میں یہ زیور سے تمدن کے سجی ہے جمہور نے اس شوخ کے گیسو ہیں سنوارے دیکھو نگہ شوق سے دہلی کے نظارے ہر ایک عمارت سے عیاں جاہ و حشم ہے ہر اینٹ پہ تاریخ وطن اس کی رقم ہے ہر ذرے میں ہیں ...

مزید پڑھیے

نذر ٹیگور

مری کلا میری شاعری میرے فن کا اس کو سلام پہنچے کہ جس نے مشرق کی عظمتوں کو عطا کئے زندگی کے پیکر جو سطوتیں خواب ہو چکی تھیں جو رفعتیں پست ہو چکی تھیں انہیں جگا کر انہیں سجا کر بنا دیا آسماں کا ہمسر بھٹک رہی تھی وطن کی ہستی غلام روحوں کے کارواں میں شعور آزادی اس کو دے کر بنا دیا عصر ...

مزید پڑھیے

کیا غم جو غم دل کا مداوا نہیں ہوتا

کیا غم جو غم دل کا مداوا نہیں ہوتا یہ روگ ہی ایسا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا ہو جائے تو ہو جائے الگ بات وگرنہ دنیا میں کوئی شخص بھی اپنا نہیں ہوتا اب تجھ سے گلہ کیا کریں اے گردش دوراں ہر شام کی قسمت میں سویرا نہیں ہوتا کچھ ہم بھی الگ سوچتے اے تلخئ حالات سوچوں پہ اگر جبر کا پہرا نہیں ...

مزید پڑھیے

جب تلک نام ترا ورد زباں رہتا ہے

جب تلک نام ترا ورد زباں رہتا ہے دل کی بستی میں عجب ایک سماں رہتا ہے ایک مدت ہوئی وہ شخص جدا ہے مجھ سے اب خدا جانے وہ کیسا ہے کہاں رہتا ہے یوں نہیں ہے کہ ہمیں تیرے ستم یاد نہیں زخم بھر جائے اگر پھر بھی نشاں رہتا ہے ہیں بجا سب تری باتیں بھی مگر اے ناصح عشق ہو جائے تو پھر ہوش کہاں ...

مزید پڑھیے

خاک جامعہ

خاک پاک جامعہ آسماں سے بڑھ گیا ہے آج تیرا مرتبہ ہے تری آغوش میں اب محو خواب علم و تہذیب و خرد کا آفتاب آج ہے مدفون تیرے سینۂ بے نور میں مادر ہندوستاں کا نور عین صدر بزم اہل دل ذاکر حسین

مزید پڑھیے

غالبؔ

بیان غالبؔ رنگیں نوا ہے قلم شاعر کا سجدے میں جھکا ہے پئے تعظیم صف بستہ ہیں الفاظ دل شاعر میں اک طوفاں بپا ہے عقیدت اس سے ہر اہل نظر کو کہ وہ فکر و نظر کا رہنما ہے وہ غالب وہ شہنشاہ معانی وہ غالبؔ جس کی عظمت غیر فانی سلاست اور فصاحت اللہ اللہ کہ دریائے سخن مانگے روانی بہت استاد شہ ...

مزید پڑھیے

کسان

بے آب و گیاہ بانجھ دھرتی مجھ سے یہ سوال کر رہی ہے اے خالق نغمۂ بہاراں صدیوں ہوں میں خزاں رسیدہ مفلوج ہیں کب سے میرے اعضا تم میرا علاج ہیں کب سے میرے اعضا تم میرا علاج کر سکو گے میں چپ ہوں خموش ہوں کہوں کیا شاعر ہوں میں لفظوں کا مسیحا اے کاش میں اک کسان ہوتا اس دھرتی کے منجمد لہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1559 سے 6203