اور کتنے ابھی ستم ہوں گے
اور کتنے ابھی ستم ہوں گے کتنے سر اور ابھی قلم ہوں گے جبر و ظلمت کی اس خدائی میں جانے کن کن پہ کیا کرم ہوں گے اس اندھیرے میں جلتے چاند چراغ رکھتے کس کس کا وہ بھرم ہوں گے
اور کتنے ابھی ستم ہوں گے کتنے سر اور ابھی قلم ہوں گے جبر و ظلمت کی اس خدائی میں جانے کن کن پہ کیا کرم ہوں گے اس اندھیرے میں جلتے چاند چراغ رکھتے کس کس کا وہ بھرم ہوں گے
دہکا پڑا ہے جامۂ گل یار خیر ہو جلنے لگے ہیں دامن گلزار خیر ہو چھلکا پڑا ہے چہروں سے اک وحشت جنوں پھیلا پڑا ہے عشق کا بازار خیر ہو کن حادثاتی دور سے دو چار ان دنوں آ بیٹھے ہیں اب گھر میں ہی اغیار خیر ہو ''گرنے لگے ہیں سر در و دیوار خیر ہو'' لگتے نہیں ہیں اچھے کچھ اشعار خیر ہو بکنے ...
بات ہے اب کے مرے وہم و گماں سے آگے ہے نگہ جلوہ طلب حسن بتاں سے آگے تو نے سمجھا ہے جسے منزل مقصود نہیں منزل عشق تو ہے منزل جاں سے آگے دل ہوا ہمدم جبریل امیں سدرہ نشیں عقل بڑھتی ہی نہیں سود و زیاں سے آگے عمر بھر نالہ کناں پھرتے رہے شہر بہ شہر اور ہم کرتے بھی کیا آہ و فغاں سے ...
ایک عالم ہے بے قراری کا گویا موسم ہے آہ و زاری کا جس کا دل ہے غموں کا شیدائی اسے کیا شکوہ غم گساری کا عشق میں دل تو ہو گیا ایسے جیسے کاسہ کسی بھکاری کا بے خبر تھے جو ہم سمجھتے تھے عشق کو کھیل اک مداری کا
واقف نہیں ہے تو مرے حال تباہ سے خائف ہے آسمان بھی اب میری آہ سے ڈوبا ہوا ہے شہر اندھیروں میں اور پھر امید روشنی بھی تو مجھ رو سیاہ سے اب ظلمتوں نے ان کو بھی برباد کر دیا وابستہ تھے جو لوگ یہاں مہر و ماہ سے ہم پر کھلا ہوا تھا وہ جود و سخا کا در ہم ہی گریز پا رہے اس بارگاہ سے تا چند ...
ہر شخص ہے پابستہ بہ زنجیر لکھے کون اس عہد پر آشوب کی تفسیر لکھے کون لکھنے تھے ہمیں بھی دل بیتاب کے حالات ہوتی ہے مگر درد کی تشہیر لکھے کون لکھنے کو میسر ہوں اگر لوح و قلم بھی تیرے لب و رخسار کی تفسیر لکھے کون لکھنا جو ہوا مجھ کو تو مقتل میں لکھوں گا اس وادیٔ پر خون کو کشمیر لکھے ...
ہم بھی معتوب تری چشم ستم گر کے ہوئے ہائے جس در سے گریزاں تھے اسی در کے ہوئے یہ تو اعجاز ہے آشفتہ سری کا کہ جو ہم کہیں تصویر میں ابھرے کسی منظر کے ہوئے ہم سمجھتے تھے جنہیں باعث تسکین و قرار آخرش لوگ وہی روگ مقدر کے ہوئے ہم وہ رہرو جو سدا تشنۂ منزل ہی رہے ہم وہ دریا جو کبھی بھی نہ ...
نقاب رخ اٹھا کر حسن جب جلوہ فگن ہوگا نہ پوچھو کیا قیامت خیز رنگ انجمن ہوگا نہ گل ہنستے نہ کلیاں مسکراتیں پھر بہاراں میں خبر ہوتی اگر ان کو خزاں خوردہ چمن ہوگا غریق بحر ہونا آدمی کے حق میں بہتر ہے نہ ممنون زمیں ہوگا نہ محتاج کفن ہوگا جفا ڈھاتے رہیں گے بس یونہی دن رات در ...
لوگ اٹھے ہیں تری بزم سے کیا کیا ہو کر اور اک ہم ہیں کہ نکلے بھی تو رسوا ہو کر تیر مژگاں کا ہے یہ گھاؤ بھرے تو کیسے اب تو ناسور بنا زخم یہ گہرا ہو کر شوق دیدار طلب حد ادب سے جو بڑھا حسن نے تاب نظر چھین لی جلوہ ہو کر مجھ سے پوچھے تو کوئی کون ہو تم کیا ہو تم میں نے پہچان کیا تم کو ...
اے وطن اے وطن ہم ترے پاسباں اے چمن اے چمن ہم ترے باغباں چاندنی دھوپ بادل برستی گھٹا ہر نظارہ حسیں ہر ادا دل ربا گل بداماں تری دل نشیں داریاں اے وطن اے وطن ہم ترے پاسباں تیری تہذیب گلدستۂ زندگی تیری تاریخ آئینۂ زندگی ہر ورق آدمیت کی ہے داستاں اے وطن اے وطن ہم ترے پاسباں خون دل ...