غالبؔ

بیان غالبؔ رنگیں نوا ہے
قلم شاعر کا سجدے میں جھکا ہے
پئے تعظیم صف بستہ ہیں الفاظ
دل شاعر میں اک طوفاں بپا ہے
عقیدت اس سے ہر اہل نظر کو
کہ وہ فکر و نظر کا رہنما ہے


وہ غالب وہ شہنشاہ معانی
وہ غالبؔ جس کی عظمت غیر فانی
سلاست اور فصاحت اللہ اللہ
کہ دریائے سخن مانگے روانی
بہت استاد شہ تھے اور ہوں گے
مگر ہوگا نہ کوئی اس کا ثانی


ظرافت اس کی فطرت کا تقاضہ
متانت اس کے فکر و فن کا جوہر
محبت روح اس کی شاعری کی
کہاں ہوں گے بھلا ایسے سخنور
زمانہ کس لئے اس کو مٹاتا
وہ انساں تھا نہ تھا حرف مکرر


زباں اس کی زبان زندگی ہے
بیاں اس کا بیان‌ آگہی ہے