کیا غم جو غم دل کا مداوا نہیں ہوتا
کیا غم جو غم دل کا مداوا نہیں ہوتا
یہ روگ ہی ایسا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا
ہو جائے تو ہو جائے الگ بات وگرنہ
دنیا میں کوئی شخص بھی اپنا نہیں ہوتا
اب تجھ سے گلہ کیا کریں اے گردش دوراں
ہر شام کی قسمت میں سویرا نہیں ہوتا
کچھ ہم بھی الگ سوچتے اے تلخئ حالات
سوچوں پہ اگر جبر کا پہرا نہیں ہوتا
ہر دامن پر چاک نہیں دامن یوسف
ہر دست رسا دست زلیخا نہیں ہوتا
جو شخص وفادار ہو ماں باپ کا ریحانؔ
وہ شخص کبھی دہر میں رسوا نہیں ہوتا