نادان دل فریب محبت نہ کھا کبھی
نادان دل فریب محبت نہ کھا کبھی دنیا میں کس نے کی ہے کسی سے وفا کبھی ایسا بھی اتفاق جنوں میں ہوا کبھی میں ہنستے ہنستے سوچ کے کچھ رو پڑا کبھی بیٹھا ہوں اس امید پہ اک رہ گزار پر لے آئے اس طرف تجھے شاید خدا کبھی اے دل یہ میرا حسن سماعت نہ ہو کہیں تو نے بھی کیا سنی ہے وہ آواز پا ...