قومی زبان

نادان دل فریب محبت نہ کھا کبھی

نادان دل فریب محبت نہ کھا کبھی دنیا میں کس نے کی ہے کسی سے وفا کبھی ایسا بھی اتفاق جنوں میں ہوا کبھی میں ہنستے ہنستے سوچ کے کچھ رو پڑا کبھی بیٹھا ہوں اس امید پہ اک رہ گزار پر لے آئے اس طرف تجھے شاید خدا کبھی اے دل یہ میرا حسن سماعت نہ ہو کہیں تو نے بھی کیا سنی ہے وہ آواز پا ...

مزید پڑھیے

سوئے منزل نہ جو رواں ہوں گے

سوئے منزل نہ جو رواں ہوں گے صورت گرد کارواں ہوں گے لب اگر خوگر فغاں ہوں گے داغ دل اور بھی عیاں ہوں گے دو گھڑی ہنس کے بات کر ہم سے پھر خدا جانے ہم کہاں ہوں گے گلستاں میں بہار آنے دے ڈالی ڈالی پہ آشیاں ہوں گے آہ وہ فاصلے جو قرب پہ بھی میرے اور ان کے درمیاں ہوں گے حسن جب تک نہ جلوہ ...

مزید پڑھیے

مسرتوں کا کھلا ہے ہر ایک سمت چمن

مسرتوں کا کھلا ہے ہر ایک سمت چمن مگر یہ دل کہ ہے پھر بھی قتیل رنج و محن بڑے سکون سے زلفیں سنوارنے والے کسی کی زیست نہ بن جائے مستقل الجھن مرے جنوں پہ رہے لوگ معترض لیکن نہ دیکھے آہ کسی نے ترے خطوط بدن ابھی تو حرف تمنا کا ذکر تک بھی نہیں ابھی نہ ڈال خدا کے لیے جبیں پہ شکن دل ...

مزید پڑھیے

ہلکی ہلکی دھوپ کھلی تھی

ہلکی ہلکی دھوپ کھلی تھی وہ میرے بازو بیٹھی تھی میں کھویا کھویا رہتا تھا وہ الجھی الجھی رہتی تھی گھر میں پھول بکھر جاتے تھے وہ جب بھی کھل کر ہنستی تھی اب کے ٹوٹا تھا سناٹا اب کے خاموشی بولی تھی سننے والا کوئی تو ہوتا ہم نے کام کی بات کہی تھی جب میں عشق میں خاک ہوا تھا تب صحرا ...

مزید پڑھیے

محسوس جو کرتے ہو یہ ہلچل مرے اندر

محسوس جو کرتے ہو یہ ہلچل مرے اندر کچھ ٹوٹتا رہتا ہے مسلسل مرے اندر ہونٹھوں پہ تبسم کے گلابوں کی نمائش ہے ناگ پھنی کا کوئی جنگل مرے اندر مشکل ہے کہ یہ پیاس مری کیسے مٹے گی صحرا ہیں مرے ہونٹھ تو بادل مرے اندر اس بار جو اس نے مجھے باہر سے سمیٹا اس بار ہوا خواب مکمل مرے اندر اس روح ...

مزید پڑھیے

مری نگاہ کو اے کاش یہ ہنر آئے

مری نگاہ کو اے کاش یہ ہنر آئے میں آنکھ بند کروں اور وہ نظر آئے ہمیں نہ پیاس کی شدت نہ کچھ تھکن کا گلہ اے زندگی ترے صحرا سے ہم گزر آئے تمہاری تلخ کلامی سے جی اداس ہوا جو بھر چکے تھے مرے زخم پھر ابھر آئے صحن میں بیٹھ کے ہم پھر ہنسی مذاق کریں خدا کرے کبھی موسم وہ لوٹ کر آئے بھگو رہی ...

مزید پڑھیے

چند مہمل سی سرگوشیوں سے پرے خامشی کی ردا میں ہیں لپٹے ہوئے

چند مہمل سی سرگوشیوں سے پرے خامشی کی ردا میں ہیں لپٹے ہوئے لب بہ لب ہو گئے جب زمیں آسماں چاند ابھرا افق پر چمکتے ہوئے رات ہم سے بغل گیر ایسے ہوئی سارے روشن تصور ہوئے سانولے راہ سورج کی تکتے رہے صبح تک ہم اجالے کی چوکھٹ پہ بیٹھے ہوئے لذتلمس سے بند آنکھیں ہوئیں صرف سانسوں سے ہوتی ...

مزید پڑھیے

کبھی باہر نہیں آتی سدا پردے میں رہتی ہے

کبھی باہر نہیں آتی سدا پردے میں رہتی ہے خدا جانے تمنا کس کے بہکاوے میں رہتی ہے تمہارا ساتھ میری زندگی بھر کی کمائی تھی گئے ہو جب سے تم یہ زندگی گھاٹے میں رہتی ہے جسے ہم لوگ مل کر آشرم میں چھوڑ آئے تھے وہ چرخا کاتتی ہے چاند کے چہرے میں رہتی ہے اسے ہم پر تو دیتے ہیں مگر اڑنے نہیں ...

مزید پڑھیے

پچھلی شب خواب محبت کا دکھایا گیا تھا

پچھلی شب خواب محبت کا دکھایا گیا تھا صبح میں پیڑ سے لٹکا ہوا پایا گیا تھا ان پہ ظاہر تھا مرا عشق حسینی تبھی تو تپتے صحرا میں مجھے دھوکے سے لایا گیا تھا ایک بہرے کو سنایا گیا فرمان طرب ایک اندھے کو اشارے سے بلایا گیا تھا اس ہتھیلی پہ اگائے گئے زخموں کے گلاب جس ہتھیلی پہ نیا خواب ...

مزید پڑھیے

عجب اک مسئلہ پیش آ گیا تھا

عجب اک مسئلہ پیش آ گیا تھا میں اپنے آپ سے ٹکرا گیا تھا تمہارے ہجر کا عادی ہوں جاناں تمہارے قرب سے اکتا گیا تھا نہ پوچھو ہاؤ ہو یادوں کی کیا تھی وہ تنہائی تھی دل گھبرا گیا تھا وہ آنکھیں بند تھیں اندر سے شاید میں الٹے پاؤں واپس آ گیا تھا تجھے چھونے کی گستاخی پہ نادم میں اپنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1554 سے 6203