چند مہمل سی سرگوشیوں سے پرے خامشی کی ردا میں ہیں لپٹے ہوئے

چند مہمل سی سرگوشیوں سے پرے خامشی کی ردا میں ہیں لپٹے ہوئے
لب بہ لب ہو گئے جب زمیں آسماں چاند ابھرا افق پر چمکتے ہوئے


رات ہم سے بغل گیر ایسے ہوئی سارے روشن تصور ہوئے سانولے
راہ سورج کی تکتے رہے صبح تک ہم اجالے کی چوکھٹ پہ بیٹھے ہوئے


لذتلمس سے بند آنکھیں ہوئیں صرف سانسوں سے ہوتی رہی گفتگو
رفتہ رفتہ پگھلتے رہے برف سے پھر دھواں ہو گئے جسم جلتے ہوئے


پہلی بارش محبت کی تھی اور ہم آسمانوں کی جانب چلے بے خطر
پھر ہوا دفعتاً سامنے آ گئی اپنے ڈینوں پہ تلوار باندھے ہوئے


ان لٹیری نگاہوں کو کیا ہے خبر چیر کر سینہ آئے ہیں جو سطح پر
کتنے تکلیف دہ ہیں سمندر کو یہ خوشبوؤں کے جزیرے ابھرتے ہوئے


آسماں پر دھنک بادلوں میں چمک باز کی پینی نظریں ہدف پر لگیں
چھت پہ جنگلی کبوتر ہے سہما ہوا اپنے بھیگے پروں کو سمیٹے ہوئے


ذہن میں ایک منظر ہے چپکا ہوا جیسے مہمان خانے میں ہو پینٹنگ
چاند کے گورے مکھڑے پہ الجھی گھٹا آنکھ بھیگی ہوئی لب ہیں سلگے ہوئے


آنکھ میں جگمگاتی ہوئی خواہشیں نیم شب شرم کی جھالریں بن گئیں
کامنائیں دلہن بن کے اترا رہیں کارچوبی شرارہ سنبھالے ہوئے


میرے بستر پہ کرچیں ہیں تنہائی کی خواب ٹوٹے ہوئے خشک آنکھوں میں ہیں
جذب جو کر سکے اب وہ آنچل نہیں اشک ڈرتے ہیں گھر سے نکلتے ہوئے