پچھلی شب خواب محبت کا دکھایا گیا تھا

پچھلی شب خواب محبت کا دکھایا گیا تھا
صبح میں پیڑ سے لٹکا ہوا پایا گیا تھا


ان پہ ظاہر تھا مرا عشق حسینی تبھی تو
تپتے صحرا میں مجھے دھوکے سے لایا گیا تھا


ایک بہرے کو سنایا گیا فرمان طرب
ایک اندھے کو اشارے سے بلایا گیا تھا


اس ہتھیلی پہ اگائے گئے زخموں کے گلاب
جس ہتھیلی پہ نیا خواب سجایا گیا تھا


پہلے سورج کیا کرتا تھا زمیں کی گردش
پھر زمیں کو بھی اسی طرح گھمایا گیا تھا


دیکھنے والا تھا منظر وہ کھلی آنکھوں سے
جب میں زنجیر بکف شہر میں لایا گیا تھا