قومی زبان

ناآشنائے درد نہیں بے وفا نہیں

ناآشنائے درد نہیں بے وفا نہیں اک آشنا کہ ہائے مرا آشنا نہیں لاؤں جو دل کی بات زباں پر تو کس لیے میں جانتا نہیں ہوں کہ تو جانتا نہیں جلتا رہا ہوں زیست کے دوزخ میں عمر بھر یہ اور بات ہے مری کوئی خطا نہیں اک ساغر حیات کی خاطر تمام عمر وہ کون سا ہے زہر جو میں نے پیا نہیں شاید درود ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ شمار کرتا ہوں

لمحہ لمحہ شمار کرتا ہوں آپ کا انتظار کرتا ہوں خار زار حیات میں رہ کر میں بہاروں سے پیار کرتا ہوں زرد چہروں اداس آنکھوں پر اپنی خوشیاں نثار کرتا ہوں مجھ سا نادان کوئی کیا ہوگا آپ پر اعتبار کرتا ہوں دیکھ کر نور نور چہروں کو مدحت کردگار کرتا ہوں کوئی سمجھے نہ دل کی بات ...

مزید پڑھیے

جو کہ زیب صلیب و دار ہوئے

جو کہ زیب صلیب و دار ہوئے دونوں عالم کا شاہکار ہوئے دل کو تسکیں ہو کس طرح کہ تجھے اور بھی مل کے بے قرار ہوئے کوئی پوچھے تو کیا بتائیں کہ ہم عشق میں کیوں ذلیل و خوار ہوئے جب خلوص و وفا کی بات چلی میرے احباب شرمسار ہوئے جاؤں گا سوئے کوئے رسوائی جب بھی حالات سازگار ہوئے

مزید پڑھیے

ابتدا ہوں کہ انتہا ہوں میں

ابتدا ہوں کہ انتہا ہوں میں عمر بھر سوچتا رہا ہوں میں لفظ و معنی سے ماورا ہوں میں ایک خاموش التجا ہوں میں دل میں کوئی خوشی نہیں لیکن عادتاً مسکرا رہا ہوں میں ناتواں ہو کے عدل چاہتا ہوں واقعی قابل سزا ہوں میں دیکھ کر رنگ بزم عالم کا نقش دیوار بن گیا ہوں میں صبح کے انتظار میں ...

مزید پڑھیے

جو روایات بھول جاتے ہیں

جو روایات بھول جاتے ہیں اپنی ہر بات بھول جاتے ہیں اہل دل اہل درد اہل کرم دے کے خیرات بھول جاتے ہیں آپ آئیں تو فرط شوق سے ہم دن ہے یا رات بھول جاتے ہیں اپنی مٹی کے گھر بنا کر بھی لوگ برسات بھول جاتے ہیں گلستاں میں خزاں بھی آئے گی پھول اور پات بھول جاتے ہیں یاد رکھتے ہیں آپ سب ...

مزید پڑھیے

ہوس کی آنکھ میں جگنو مچلنے لگتے ہیں

ہوس کی آنکھ میں جگنو مچلنے لگتے ہیں نظر جھکا کے وہ جب ہاتھ ملنے لگتے ہیں ذرا سی دیر میں شکلیں بدلنے لگتے ہیں ہوا کے لمس سے بادل پگھلنے لگتے ہیں ہے لازمی کوئی تحریک زندگی کے لیے پڑے پڑے میاں شہتیر گلنے لگتے ہیں پرانی برف کا میں جب بھی ذکر سنتا ہوں نہ جانے پاؤں مرے کیوں پھسلنے ...

مزید پڑھیے

اسی بازار تک بس روشنی ہے

اسی بازار تک بس روشنی ہے پھر اس کے بعد اک اندھی گلی ہے ہر اک آواز میں ہے اجنبیت ہر اک چہرے پہ اک بے چہرگی ہے یہاں رسماً ہے سب کی خوش لباسی نظر سے بے لباسی جھانکتی ہے ہے گھر میں خامشی کا ایک جنگل اسی جنگل میں کالا ناگ بھی ہے عجب درگندھ ہے واتاورن میں کسی تالاب میں مچھلی مری ...

مزید پڑھیے

روشنی اجنبی سی لگتی ہے

روشنی اجنبی سی لگتی ہے آنکھ میں کرکری سی لگتی ہے وہ کہیں دور ہنس رہی ہوگی پھول میں تازگی سی لگتی ہے اس نے کپڑے وہاں سکھائے تھے وہ جہاں روشنی سی لگتی ہے اوس کی بوند سبز پتے پر ایک ننھی پری سی لگتی ہے تیرے بن کچھ کمی نہیں لیکن پھر بھی کوئی کمی سی لگتی ہے رات بارش نے بال کھولے ...

مزید پڑھیے

جب سے آیا ہوں تیرے گاؤں میں

جب سے آیا ہوں تیرے گاؤں میں رنگ ہی رنگ ہیں فضاؤں میں آ کہ دکھ سکھ کی کوئی بات کریں بیٹھ کر شیشموں کی چھاؤں میں میں بھی کرتا ہوں ضبط کی کوشش تو بھی تخفیف کر اداؤں میں وہ ترا دفعتاً بچھڑ جانا وہ مرا دیکھنا خلاؤں میں ہو اگر کوئی گوش بر آواز اک خموشی بھی ہے صداؤں میں یہی میرے لیے ...

مزید پڑھیے

بہاروں کو چمن یاد آ گیا ہے

بہاروں کو چمن یاد آ گیا ہے مجھے وہ گل بدن یاد آ گیا ہے لچکتی شاخ نے جب سر اٹھایا کسی کا بانکپن یاد آ گیا ہے مری خاموشیوں پر ہنسنے والو مجھے وہ کم سخن یاد آ گیا ہے تمہیں مل کر تو اے یزداں پرستو غرور اہرمن یاد آ گیا ہے تری صورت کو جب دیکھا ہے میں نے عروج فکر و فن یاد آ گیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1553 سے 6203