ناآشنائے درد نہیں بے وفا نہیں
ناآشنائے درد نہیں بے وفا نہیں اک آشنا کہ ہائے مرا آشنا نہیں لاؤں جو دل کی بات زباں پر تو کس لیے میں جانتا نہیں ہوں کہ تو جانتا نہیں جلتا رہا ہوں زیست کے دوزخ میں عمر بھر یہ اور بات ہے مری کوئی خطا نہیں اک ساغر حیات کی خاطر تمام عمر وہ کون سا ہے زہر جو میں نے پیا نہیں شاید درود ...