قومی زبان

ہو اگر الجھن یا کوئی غم تو مجھ سے بات کر

ہو اگر الجھن یا کوئی غم تو مجھ سے بات کر یوں نہ کر آنکھوں کو اپنی نم تو مجھ سے بات کر کون سی شے آسماں میں ہے نہاں مجھ کو بتا کیوں بھلا دیکھے ادھر ہر دم تو مجھ سے بات کر گفتگو سے ہی یہاں پر حل کوئی ہو پائے گا خامشی کر دے گی یہ بے دم تو مجھ سے بات کر کیا دیا ہے آپ نے جز مجھ کو اک تصویر ...

مزید پڑھیے

ذرا ٹھوکر لگے تو خودکشی کی بات کرتا ہے

ذرا ٹھوکر لگے تو خودکشی کی بات کرتا ہے بشر اس دور کا کچھ الجھنوں سے کتنا ڈرتا ہے کہو اس سے یہاں پھولوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا کہ منزل اس کو ملتی ہے جو کانٹوں سے گزرتا ہے کسی دن قرض اس نے بھی لیا ہوگا زمانہ سے تبھی بن کر رنی یہ وقت سب کے زخم بھرتا ہے کبھی بھی گود لیتی ہی نہیں پھر یہ ...

مزید پڑھیے

ملیں ہوں گی جفائیں اور غم فرقت ملا ہوگا

ملیں ہوں گی جفائیں اور غم فرقت ملا ہوگا محبت سے بھرا وہ دل تبھی پتھر ہوا ہوگا محبت آگ ہے ایسی اگر اک بار لگ جائے بجھاؤ لاکھ تم چاہے دھواں اس کا صلہ ہوگا چراغ عشق تو اس نے جلایا تھا مری خاطر مگر میں ہی نہیں تو روشنی کا کیا ہوا ہوگا بہایا نام پر جس کے مری آنکھوں نے ہر آنسو کبھی کیا ...

مزید پڑھیے

محبت میں سکوں جانم بڑی مشکل سے ملتا ہے

محبت میں سکوں جانم بڑی مشکل سے ملتا ہے مٹانا پڑتا ہے خود کو تبھی دل دل سے ملتا ہے اسے مت پوچھنا الجھا رہا جو صرف پھولوں میں پتا سب راستوں کا کانٹوں کے بسمل سے ملتا ہے یہ ہوگی بھول دل کی جو سفر آسان یہ سمجھے بڑی ٹیڑھی مشقت سے سفر منزل سے ملتا ہے بڑے جب سے ہوئے ہیں ہم فقط روزی میں ...

مزید پڑھیے

راتوں میں جگنے کے لیے اور چین کھونے کے لیے

راتوں میں جگنے کے لیے اور چین کھونے کے لیے ہم نے محبت یار کی بیمار ہونے کے لیے کل ہم نے جب تارے گنے اور گفتگو کی چاند سے سارے چراغوں نے کہا تھا ہم سے سونے کے لیے ہم بے سبب ٹکرا گئے تھے عشق کے طوفان سے تھا ٹوٹنا بھی لازمی خود کو سنجونے کے لیے نور جہاں ہیں اور بھی شیریں زباں ہیں ...

مزید پڑھیے

بد گمانی کا یہ عالم ہر جگہ پلنے لگا ہے

بد گمانی کا یہ عالم ہر جگہ پلنے لگا ہے بھیڑ کا تنہا سفر اب روح کو کھلنے لگا ہے اب فلک کی روشنی آتی نہیں ہے گھر میں میرے نور میری زیست کا اب دن بہ دن ڈھلنے لگا ہے یار ہے خنجر بھی ہے تو فیصلہ بھی ہو ہی جائے وقت آیا ہے اگر تو وقت کیوں ٹلنے لگا ہے یاد میں اپنے پرندو کی ہوا ہے پیڑ ...

مزید پڑھیے

نظر نے کام کیا دل کے ترجماں کی طرح

نظر نے کام کیا دل کے ترجماں کی طرح نگاہیں کہہ گئی سب حال دل زباں کی طرح کیے تھے بے خودیٔ شوق میں جہاں سجدے وہی زمیں نظر آتی ہے آسماں کی طرح نظر ملی ہے تو پہچان جائے اہل چمن دکھائی دیتے ہیں گلچیں بھی باغباں کی طرح کتاب زیست کا شیرازہ بند کوئی نہیں بکھر گئی ہے کسی نظم بوستاں کی ...

مزید پڑھیے

سر نیاز جھکانا کوئی مذاق نہیں

سر نیاز جھکانا کوئی مذاق نہیں انائے‌ قلب مٹانا کوئی مذاق نہیں لبوں پے آہ بہ ہر حال آ ہی جاتی ہے جگر کی چوٹ چھپانا کوئی مذاق نہیں نقوش قلب مٹانے سے مٹ نہیں سکتے کسی کو دل سے بھلانا کوئی مذاق نہیں ہنسی ہنسی میں بھی کیا کیا گریز پائی ہے تراشتے ہیں بہانہ کوئی مذاق نہیں جہاں ادب ...

مزید پڑھیے

آپ اپنی نقاب ہے پیارے

آپ اپنی نقاب ہے پیارے یہ بھی کوئی حجاب ہے پیارے نقش بر روئے آب ہے پیارے زندگی اک حباب ہے پیارے لے کے چل شیخ دفتر تقویٰ آج روز حساب ہے پیارے تیرا حسن و جمال کیا کہنا ماہتاب آفتاب ہے پیارے کون جاتا ہے دل میں آ آ کر ہر سکوں اضطراب ہے پیارے حسن تقویٰ شکن سہی لیکن عشق خانہ خراب ...

مزید پڑھیے

وفا کی آس میں دل دے کے پچھتایا نہیں کرتے

وفا کی آس میں دل دے کے پچھتایا نہیں کرتے یہ نخل آرزو ہے اس میں پھل آیا نہیں کرتے خیالوں میں جب آتے ہیں تو پہروں جا نہیں پاتے ہم اب بے وصل تنہائی بھی گھبرایا نہیں کرتے ہماری نیند سے کیا واسطہ ہے ان کی نیندوں کو سنا ہے وہ بھی اب آرام فرمایا نہیں کرتے ذرا سے کیا پیام آتا ہے دشمن جل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1540 سے 6203