قومی زبان

خیال و فکر جہاں زاویے بدلتے ہیں

خیال و فکر جہاں زاویے بدلتے ہیں وہیں سے نت نئے اسلوب چل نکلتے ہیں وہ رات کو پئے گل گشت جب نکلتے ہیں فلک پہ چاند ستاروں کے دل مچلتے ہیں مرے کلام میں مفروضہ‌‌ و قیاس نہیں یہ تجربات ہیں جو شعر بن کے ڈھلتے ہیں رخ حیات کو ہر زاویے سے دیکھا ہے مشاہدات کے قالب میں شعر ڈھلتے ہیں قدم ...

مزید پڑھیے

کرتے ہیں مزدوری بچے جاتے نہیں اسکول

کرتے ہیں مزدوری بچے جاتے نہیں اسکول اس میں ان کی بھول نہیں ہے یہ ہے بڑوں کی بھول ان کی حالت دیکھ کے دل سے نکلتی ہے اب ہائے ننھے ہاتھوں سے گاہک کو جب وہ پلائیں چائے مزدوری میں ان کا بچپن یوں ہی بیتا جائے تازہ ہوا کی جگہ پہ وہ کھاتے ہیں گرد اور دھول کرتے ہیں مزدوری بچے جاتے نہیں ...

مزید پڑھیے

عمر میں دو فٹ بڑے ہیں دوستو

عمر میں دو فٹ بڑے ہیں دوستو پھر بھی وہ مجھ سے لڑے ہیں دوستو آج ہی ہم نے منڈایا اپنا سر آج ہی اولے پڑے ہیں دوستو کس طرح پہنچیں گے کوئے یار میں راستے میں چھ گڑھے ہیں دوستو اس نے دیکھا مجھ کو چشم ناز سے آپ کیوں مجھ سے سڑے ہیں دوستو عقل مندی کی نشانی سینگ ہیں بھینس نے سر پر جڑے ہیں ...

مزید پڑھیے

نظر ملاتے نہیں مسکرائے جاتے ہیں

نظر ملاتے نہیں مسکرائے جاتے ہیں بتاؤ یوں بھی کہیں دل ملائے جاتے ہیں ہجوم جلوۂ رنگیں کا مدعا معلوم ہماری تاب نظر آزمائے جاتے ہیں حجاب ہو مگر ایسا بھی کیا حجاب آخر جھلک دکھاتے نہیں منہ چھپائے جاتے ہیں حدود کوچۂ جاناں میں آ گئے شاید قدم قدم پہ قدم ڈگمگائے جاتے ہیں یہ کس کا ذکر ...

مزید پڑھیے

مانا کہ لب زخم دہائی نہیں دیتا

مانا کہ لب زخم دہائی نہیں دیتا محرم بھی تو وہ دست حنائی ہیں دیتا یہ جشن ہے کیسے کہ مبارک نہ سلامت آپس میں کوئی شخص بدھائی نہیں دیتا کہتے نہیں صرف اس کو فقط رنج و تعب ہے کچھ لطف یہ بے آبلہ پائی نہیں دیتا نقاد کہ فنکار کا محتاط رویہ گنجائش‌ انگشت نمائی نہیں دیتا آ جاؤ کہ اب ...

مزید پڑھیے

یہ روشنیٔ طبع دکھانے کی آرزو

یہ روشنیٔ طبع دکھانے کی آرزو اچھی نہیں بلا کو بلانے کی آرزو جو غم ملے گلے سے لگانے کی آرزو رسم و رہ حیات نبھانے کی آرزو یہ بھی بھلا ہے کوئی ٹھکانے کہ آرزو ہر نقش آرزو کو مٹانے کی آرزو صحرا کہ سخت دھوپ میں جلتے ہوئے بدن بار غم حیات اٹھانے کہ آرزو ہر زاویے سے حسن بدن دیکھنے کا ...

مزید پڑھیے

یہ کیا تمہارے جی میں سمائی تمام رات

یہ کیا تمہارے جی میں سمائی تمام رات گالوں پہ رکھ کے سوئے کلائی تمام رات اختر شماریوں میں گزر ہی گیا جنون مانا کے مجھ کو نیند نہ آئی تمام دیکھے جو چشم زار کہ سیلاب ہائے خوں یاد آئے دست و پائے حنائی تمام رات بستر کی ایک ایک شکن نوک خار تھی کروٹ بدلتے نیند نہ آئی تمام رات تسبیح ...

مزید پڑھیے

کہا یہ کس نے مجھے زندگی سے پیار نہیں

کہا یہ کس نے مجھے زندگی سے پیار نہیں یہ اور بات ہے حالات خوش گوار نہیں بساط ہی تو ہے کیا جانے کب الٹ جائے یہاں پیادہ و فرزیں کا اعتبار نہیں جہاں جہاں نظر اٹھی وہاں وہاں تو تھا کہاں کہاں ترے جلووں کا انتشار نہیں وہ کیا کسی کی نگاہوں پہ اعتبار کرے جسے خود اپنی نگاہوں پہ اعتبار ...

مزید پڑھیے

یہ گردش حالات یہ افکار زندگی

یہ گردش حالات یہ افکار زندگی کٹ جائے جیسے بھی ہو شب تار زندگی رکھتا ہے اس کو کتنے مسائل میں گھیر کر آزاد ہو نہ جائے گرفتار زندگی اب اور کیا نثار کریں تجھ پہ اے حیات سب کچھ لٹا چکے سر بازار زندگی میں کیا کہوں کہ شرم سی آتی ہے دوستوں جب دیکھتا ہوں پستیٔ کردار‌ زندگی کیا دیکھتے ...

مزید پڑھیے

مرحلے ایسے بھی اکثر آئے

مرحلے ایسے بھی اکثر آئے پھول برسائے تو پتھر آئے اک فقط آپ کے ہو جانے سے کتنے الزام میرے سر آئے جام ٹھکرا دیے جب بھی میں نے سامنے میرے سمندر آئے ایک چہرے پہ بشارت نہ ملی ان گنت چہروں کو پڑھ کر آئے بھول جاتے ہیں پرندے ماں کو جب بھی اڑنے کو ذرا پر آئے آپ کا شہر کہ تھا شہر ادب بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1541 سے 6203