قومی زبان

یوں تو مجھ کو لوریاں خود ہی سناتی رات ہے

یوں تو مجھ کو لوریاں خود ہی سناتی رات ہے اور خود ہی نیند سے اکثر جگاتی رات ہے دن ڈھلے جیسے ہی تیری یاد کے سائیں بڑھیں اس لئے خود بن کے سورج جگمگاتی رات ہے میری یہ کوشش رہی ہے خود کو میں روشن کروں پر ہمیشہ گرد میرے رہتی کالی رات ہے میں کروں معصومیت اس کی بیاں کچھ اس طرح چہرے پر ...

مزید پڑھیے

دل جو گھبرایا تو اٹھ کر دوستوں میں آ گیا

دل جو گھبرایا تو اٹھ کر دوستوں میں آ گیا میں کہ آئینہ تھا لیکن پتھروں میں آ گیا آج اس کے بال بھی گرد سفر سے اٹ گئے آج وہ گھر سے نکل کر راستوں میں آ گیا پڑھ رہا ہوں اس کتاب جسم کی اک اک ورق نور سب آنکھوں کا کھنچ کر انگلیوں میں آ گیا لوگ کہتے ہیں کہ اپنا شہر ہے لیکن مجھے یوں ...

مزید پڑھیے

شجر پرند خس و خار کو بچانا پڑا

شجر پرند خس و خار کو بچانا پڑا چمن میں آگ لگی تھی اسے بجھانا پڑا بہت دیے تھے جو میں نے جلا کے رکھے تھے ہر اک دیے میں مگر خود ہی جھلملانا پڑا بچھڑ گیا تھا کسی روز اپنے آپ سے میں پھر اپنے آپ کو اس کی گلی سے لانا پڑا وہ خود ہی میری کہانی میں ہو گیا شامل اور اس کے نام کا کردار بھی ...

مزید پڑھیے

ایسے ہی کئی شور مچاتے ہوئے دریا

ایسے ہی کئی شور مچاتے ہوئے دریا آنکھوں سے بہے جوش میں آتے ہوئے دریا اک خاک کی ناؤ کا سفر جاری ہے پھر بھی منہ زور ہیں گو جھاگ اڑاتے ہوئے دریا کیا میرے در و بام کا افسوس تھا اس کو کیوں دیکھ رہا تھا مجھے جاتے ہوئے دریا پھولوں سے بھری شاخ کو کل چھیڑ رہا تھا اپنے ہی پسینے میں نہاتے ...

مزید پڑھیے

کسی کا زخم دے کر مسکرانا یاد آتا ہے

کسی کا زخم دے کر مسکرانا یاد آتا ہے کسی کا اس پہ پھر مرہم لگانا یاد آتا ہے زمیں پہ بکھرے پھولوں کو کبھی جب میں اٹھاتی ہوں کسی کا توڑ کر دل چھوڑ جانا یاد آتا ہے الجھ کر کام میں جب بھول جاتی ہوں میں خود کو تب وہ ماں کا دودھ اور روٹی کھلانا یاد آتا ہے مجھے یاد آتی ہے اکثر کڑی وہ دھوپ ...

مزید پڑھیے

اپنا سایہ

جسموں کے کھو جانے اور رویوں کے بدلنے کے کرب نے مجھے تمام عمر اندیشۂ ضیاع میں ہی مبتلا رکھا کل کے دن نے مجھ میں بسے سب خوف مار دئے چہرے سے نقاب اترا تو سچائی سینہ تانے میرے سامنے آ کھڑی ہوئی خود سے بچھڑی ہوئی تھی اب خود سے آ ملی ہوں میرا سایہ مجھ میں نو پھٹا ہو کر جاگ گیا ہے ...

مزید پڑھیے

کل ہی کی بات نہیں ہوتی

دہلیز پر جو خواب ٹوٹا ہے وہ کل کا تو نہیں تھا وہ تو نہ جانے کتنے سالوں سے نانیوں دادیوں نے الھڑ آنکھوں میں جگا رکھا تھا یہ جو دیوار پر لگی تصویر اچانک دھڑام سے نیچے گر گئی ہے یہ کل ہی تو نہیں ٹانگی گئی تھی یہ تو اس آئینے میں سالوں سے نظر آ رہی تھی جو لڑکیاں تکیے کے نیچے اس امید پر ...

مزید پڑھیے

اب ڈر نہیں لگتا

ایک ڈر تھا تنہائی کا ایک ڈر تھا جدائی کا جو مسلسل میرے ساتھ رہتا تھا کل کا دن جو گزر گیا بہت بھاری لگتا تھا لگتا تھا کسی ایسے دن کا بوجھ اٹھا نہ پاؤں گی آدھے ادھورے راستے میں ہی مر جاؤں گی مگر کل کا دن بھی آ ہی گیا اور ریت کا وہ گھروندا ساتھ ہی بہا لے گیا جس میں رکھے تھے میں نے رنگ ...

مزید پڑھیے

پہلے خودداری دکھا کر پھنس گئے

پہلے خودداری دکھا کر پھنس گئے پھر وفا داری نبھا کر پھنس گئے تم کو تو معلوم تھا الفت کا سچ تم بھلا کیوں دل لگا کر پھنس گئے جو زیادہ قربتوں سے تھے دکھی وہ سبھی سے دور جا کر پھنس گئے جھوٹ بولا خوب بولا اور پھر خود سے ہی نظریں ملا کر پھنس گئے ہم اندھیرا کر کے ہی روشن ہوئے اور ہمیں ...

مزید پڑھیے

زیست نفرت میں محبت گھولتی اب کیوں نہیں ہے

زیست نفرت میں محبت گھولتی اب کیوں نہیں ہے وادیوں میں عشق ہے پھر عاشقی اب کیوں نہیں ہے ہم چراغ اپنے بجھا کر بعد میں خود پوچھتے ہیں کیوں اندھیرا ہے یہاں پر روشنی اب کیوں نہیں ہے چاہ میں مے کی ہوں بھٹکا میکدہ در میکدہ میں اب ملی ہے مے مجھے تو تشنگی اب کیوں نہیں ہے قتل ہوتے دیکھتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1539 سے 6203