ہم جو ہر بار خواب دیکھتے ہیں

ہم جو ہر بار خواب دیکھتے ہیں
یعنی بیکار خواب دیکھتے ہیں


رات کا پہر ہو کہ دن کا سماں
ہم لگاتار خواب دیکھتے ہیں


شہر کا مسئلہ بنے ہوئے ہیں
یہ جو دو چار خواب دیکھتے ہیں


لشکری ان پہ ٹوٹ پڑتے ہیں
جتنے ادوار خواب دیکھتے ہیں


سو رہے تھے تو خواب دیکھتے تھے
ہو کے بیدار خواب دیکھتے ہیں


اس کہانی کی آنکھ روشن ہے
اس کے کردار خواب دیکھتے ہیں


روزؔ تعبیر ٹوٹ جاتی ہے
چاہے سو بار خواب دیکھتے ہیں