قومی زبان

تمہاری یاد تمہارا خیال کافی ہے

تمہاری یاد تمہارا خیال کافی ہے سکون دل کے لئے اور سب اضافی ہے اب اس سے ترک تعلق کے بعد کیا ملنا یہ جرم وہ ہے جو نا قابل تلافی ہے وصال یار کی حسرت نکال دی دل سے سنا ہے میں کہ یہ عشق کے منافی ہے وہ بے وفا مجھے کہتا ہے اور میں اس کو یہ مسئلہ بھی مرے بیچ اختلافی ہے بجا کہ میں ہوں ...

مزید پڑھیے

ادھورے خواب کی دہلیز پہ سویا نہیں کرتے

ادھورے خواب کی دہلیز پہ سویا نہیں کرتے کسی بھی ایک غم پہ بارہا رویا نہیں کرتے مراسم عشق کے تم سے نبھائے جا نہیں سکتے لہٰذا ہم بھی جھوٹھے رشتوں کو ڈھویا نہیں کرتے تمہیں ماتم منانے کی اجازت ہی نہیں اقراؔ شجر پتوں کے گرنے پر کبھی رویا نہیں کرتے

مزید پڑھیے

اب انتظار کے موسم اداس کرتے نہیں

اب انتظار کے موسم اداس کرتے نہیں عجیب ہے کہ ہمیں غم اداس کرتے نہیں اداس ہونے کا ہم کو سلیقہ آتا ہے اداسیوں کو کبھی ہم اداس کرتے نہیں یہ دل تو کہتا ہے اب آزمائیں خوشیوں کو بہت دنوں سے یہ ماتم اداس کرتے نہیں کیا تھا تم سے جو وعدہ نبھا رہے ہیں ہم تمہاری جان کو جانم اداس کرتے نہیں

مزید پڑھیے

قید میں گر مجھ کو اپنی باندھتا رہ جائے گا

قید میں گر مجھ کو اپنی باندھتا رہ جائے گا میرے رہتے وہ مجھی کو ڈھونڈھتا رہ جائے گا یوں تو بدلے گا نہیں کچھ بھی ترے جانے کے بعد دامن خواہش مگر ہاں بھیگتا رہ جائے گا میری خاموشی ہی دے دے گی اسے سارے جواب وہ سوال اپنے ہی دل سے پوچھتا رہ جائے گا کرچیاں کچھ خوابوں کی چبھتی رہے گی ...

مزید پڑھیے

یہ کس حسین نے لوگوں کو روک رکھا ہے

یہ کس حسین نے لوگوں کو روک رکھا ہے تمام شہر کے رستوں کو روک رکھا ہے نکل پڑیں نہ کہیں پانے اپنی تعبیریں اسی لیے سبھی خوابوں کو روک رکھا ہے وہ کہہ رہے ہیں کہو دل کی بات بات مگر نہ جانے کیوں کئی باتوں کو روک رکھا ہے دلیلیں دینے کو دے سکتے ہیں ہزار مگر سبھی حوالوں جوازوں کو روک رکھا ...

مزید پڑھیے

پر ہول خرابوں سے شناسائی مری ہے

پر ہول خرابوں سے شناسائی مری ہے ہنگامے اگر تیرے ہیں تنہائی مری ہے اے حسن تو ہر رنگ میں ہے قابل عزت میں عشق ہوں ہر حال میں رسوائی مری ہے جو سطح پہ ہے تیری رسائی ہے اسی تک فن کار ہوں میں زیست کی گہرائی مری ہے ہستی کے اجالے ہیں مری آنکھ کا پرتو ہر چشمۂ پر نور میں بینائی مری ہے ہر ...

مزید پڑھیے

ہر تلخ حقیقت کا اظہار بھی کرنا ہے

ہر تلخ حقیقت کا اظہار بھی کرنا ہے دنیا میں محبت کا پرچار بھی کرنا ہے بے خوابیٔ پیہم سے بیزار بھی کرنا ہے بستی کو کسی صورت بیدار بھی کرنا ہے دشمن کے نشانے پر کب تک یونہی بیٹھیں گے خود کو بھی بچانا ہے اور وار بھی کرنا ہے شفاف بھی رکھنا ہے گلشن کی فضاؤں کو ہر برگ گل تر کو تلوار بھی ...

مزید پڑھیے

وہ اپنی آن میں گم ہے میں اپنی آن میں گم

وہ اپنی آن میں گم ہے میں اپنی آن میں گم یہ اور بات کہ دونوں ہیں جھوٹی شان میں گم میں ہوں یقین میں گم اور وہ گمان میں گم تمام رسم محبت ہے درمیان میں گم مرے فسانۂ دل میں چھپا ہے نام ترا مرا بھی نام ہے کچھ تیری داستان میں گم بہت عجیب ہے یہ بھی بلندی و پستی کوئی زمین میں گم کوئی آسمان ...

مزید پڑھیے

عزیز اتنا ترا رنگ و بو لگے ہے مجھے

عزیز اتنا ترا رنگ و بو لگے ہے مجھے کوئی قریب سے گزرے تو تو لگے ہے مجھے سفر خیال کا میں کس طرح تمام کروں تری ہر ایک ادا چار سو لگے ہے مجھے ضرور کوئی عجب شے ہے تجھ میں پوشیدہ کہ تیرا ذکر بھی اب کو بہ کو لگے ہے مجھے میں آسمان کی جانب بھی دیکھتا ہوں مگر جو میرا چاند ہے وہ خوبرو لگے ہے ...

مزید پڑھیے

تھا نگاہوں میں بسایا جانے کس تصویر کو

تھا نگاہوں میں بسایا جانے کس تصویر کو دیکھ کر حیران ہیں اب خواب کی تعبیر کو اس نے دل کی دھڑکنیں سن کر شب تاریک میں کر لیا محسوس میرے نالۂ شب گیر کو کیسا قاتل تھا مرا شوق شہادت دیکھ کر رکھ دیا ظالم نے اپنے ہاتھ سے شمشیر کو دفعتاً خود اس کا چہرہ بھی کتابی ہو گیا میرے رخ پر پڑھ لیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1511 سے 6203