قومی زبان

میں بکھر نہ جاؤں ورق ورق مجھے طاق دل میں سجائیے

میں بکھر نہ جاؤں ورق ورق مجھے طاق دل میں سجائیے مرا حرف حرف ہے بے بہا مجھے اس طرح نہ مٹائیے ہے کدورتوں کے حصار میں یہ محبتوں کا حسیں نگر یہ دیار آب حیات ہے اسے سم کدہ نہ بنائیے کوئی عکس تک نہ ٹھہر سکا مری چشم فکر و خیال میں ابھی اجنبی سے ہیں خال و خد مجھے آئنہ نہ دکھائیے پس ظلم ...

مزید پڑھیے

گزرے ہیں ہم پہ ایسے بھی لمحے کبھی کبھی

گزرے ہیں ہم پہ ایسے بھی لمحے کبھی کبھی دل رو پڑا ہے سن کے لطیفے کبھی کبھی صحرا سے تشنگی کا سبب پوچھتے ہو کیا دریا بھی ہم نے دیکھے ہیں پیاسے کبھی کبھی گم کردہ راہ زیست سہی اس کے باوجود پوچھے ہیں ہم سے خضر نے رستے کبھی کبھی اے نا خدائے وقت نہ اتنا غرور کر ڈوبے ہیں ساحلوں پہ سفینے ...

مزید پڑھیے

جسے خود سے جدا رکھا نہیں ہے

جسے خود سے جدا رکھا نہیں ہے وہ میرا ہے مگر میرا نہیں ہے جسے کھونے کا مجھ کو ڈر ہے اتنا اسے میں نے ابھی پایا نہیں ہے نقوش اب ذہن سے مٹنے لگے ہیں بہت دن سے اسے دیکھا نہیں ہے سنا ہے پھول اب کھلتے نہیں ہیں تو کیا کھل کر وہ اب ہنستا نہیں ہے نگر چھوڑا ہے جب سے اس غزل نے کوئی شاعر غزل ...

مزید پڑھیے

یوں شہر کے بازار میں کیا کیا نہیں ملتا

یوں شہر کے بازار میں کیا کیا نہیں ملتا پر حسن میں ثانی کوئی تیرا نہیں نہیں ملتا جو کچھ دل ناکام نے چاہا نہیں ملتا منزل نہیں ملتی کبھی رستا نہیں ملتا لہجہ نہیں ملتا کبھی چہرہ نہیں ملتا دنیا میں ہمیں ایک بھی تم سا نہیں ملتا چھوڑا ہے جو اک گھر کو تو دوجا نہیں ملتا اب دل سا ترے ...

مزید پڑھیے

حسین تاج کی صورت یہ بے صدا پتھر

حسین تاج کی صورت یہ بے صدا پتھر دکھا رہے ہیں محبت کا معجزہ پتھر ثبوت سنگ دلی اس سے بڑھ کے کیا ہوگا جو پھول پھینکا مری سمت بن گیا پتھر تمہارے شہر کو میں کیوں نہ کامروپ کہوں کہ اک نگاہ نے مجھ کو بنا دیا پتھر سمجھ سکے نہ کبھی مصلحت زمانے کی بس اس قصور پہ کھائے ہیں بارہا پتھر کریں ...

مزید پڑھیے

دل میں زخموں کی نئی فصل اگانے نکلے

دل میں زخموں کی نئی فصل اگانے نکلے درد کے پھول بیاباں میں کھلانے نکلے ہر عمارت پہ نئے سال کا کتبہ دیکھا پہنچے نزدیک تو آثار پرانے نکلے پہلے ہر در پہ رکھے شعلہ بیانی کے دیے جل اٹھا شہر تو پھر آگ بجھانے نکلے چاند جب روٹھ کے رخصت ہوا بام و در سے لوگ تپتے ہوئے سورج کو منانے ...

مزید پڑھیے

جب عزم کے شعلوں کو ہمت نے ہوا دی ہے

جب عزم کے شعلوں کو ہمت نے ہوا دی ہے طوفاں نے ہی ساحل کی تصویر دکھا دی ہے شعلوں سے گلہ کیسا بجلی سے شکایت کیا گلشن کے نگہباں نے ہر شاخ جلا دی ہے چاہا تھا کریں ان سے کچھ شکوۂ بے مہری لب ہلنے سے پہلے ہی سوگند کھلا دی ہے اک وہ بھی ہیں مرتے ہیں جو ننگ وفا بن کر ہر وار پہ ہم نے تو قاتل ...

مزید پڑھیے

کون ایسا ہے یہاں دل سے مجھے یاد کرے

کون ایسا ہے یہاں دل سے مجھے یاد کرے وقت تھوڑا سا مرے واسطے برباد کرے ہو گئیں بستیاں ویران یہاں پل بھر میں کوئی تو آئے جو پھر سے انہیں آباد کرے پا بہ زنجیر کوئی دار پہ منصور نہیں حق کی باتوں پہ بھلا کون یہاں صاد کرے کیسا پندار ہے دل قید ہیں خوشیاں جس میں ان پرندوں کو ہی آزاد یہ ...

مزید پڑھیے

کس کی یہ سیاست ہے کس کی ہیں یہ تدبیریں

کس کی یہ سیاست ہے کس کی ہیں یہ تدبیریں رہزنوں نے پائی ہیں رہبروں کی تقدیریں میرے خواب وحشت کی جانے کیا ہوں تعبیریں دار ہے نہ زنداں ہے طوق ہے نہ زنجیریں آپ کی امانت ہیں آپ ہی مٹا دیجے یہ نقوش الفت کے یہ وفا کی تحریریں کہہ رہا ہے صدیوں سے تاج کا حسیں چہرہ فن اگر مکمل ہو بولتی ہیں ...

مزید پڑھیے

دل میں ان کی یادوں کے جب دئے جلاتے ہیں

دل میں ان کی یادوں کے جب دئے جلاتے ہیں دامن تخیل پر پھول مسکراتے ہیں تم شکست دل پر کیوں اس قدر پریشاں ہو آئینوں کا کیا وہ تو یوں ہی ٹوٹ جاتے ہیں آپ سے تو قربت میں فاصلے رہے قائم لوگ تو قریب آ کر راہ بھول جاتے ہیں رات یوں گزرتی ہے کشمکش کے ماروں کی اک دیا جلاتے ہیں اک دیا بجھاتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1499 سے 6203