وفا کے راز سے پردہ نہیں اٹھاؤں گی
وفا کے راز سے پردہ نہیں اٹھاؤں گی میں دل کے زخم تہ دل سے ہی چھپاؤں گی اگر تمہاری نگاہوں میں یہ کھٹکتا ہے سنو میں آج سے کاجل نہیں لگاؤں گی اداس دل ہو تو گلشن بھی آہ بھرتا ہے یہ سچ ہے روتے ہوئے دل سے مسکراؤں گی جو مجھ پہ گزری ہے اشکوں سے وہ عبارت ہے جو نقش دل میں ہے کیسے اسے مٹاؤں ...