قومی زبان

وفا کے راز سے پردہ نہیں اٹھاؤں گی

وفا کے راز سے پردہ نہیں اٹھاؤں گی میں دل کے زخم تہ دل سے ہی چھپاؤں گی اگر تمہاری نگاہوں میں یہ کھٹکتا ہے سنو میں آج سے کاجل نہیں لگاؤں گی اداس دل ہو تو گلشن بھی آہ بھرتا ہے یہ سچ ہے روتے ہوئے دل سے مسکراؤں گی جو مجھ پہ گزری ہے اشکوں سے وہ عبارت ہے جو نقش دل میں ہے کیسے اسے مٹاؤں ...

مزید پڑھیے

خاموش ہوں میں لب پہ شکایت تو نہیں ہے

خاموش ہوں میں لب پہ شکایت تو نہیں ہے فریاد کروں یہ مری عادت تو نہیں ہے جو موج غم و درد اٹھی ہے مرے دل میں ہنگامہ تو بے شک ہے قیامت تو نہیں ہے شاید مجھے مل جائے مرے درد کا درماں امید سہی چین کی حالت تو نہیں ہے فرصت میں مجھے یاد بھی کر لیجیے اک دن یہ عرض محبت کی علامت تو نہیں ہے مل ...

مزید پڑھیے

ادراک ہی محال ہے خواب و خیال کا

ادراک ہی محال ہے خواب و خیال کا دل کے ورق پہ عکس ہے اس کے جمال کا روتی نہیں ہوں میں کبھی دنیا کے سامنے رکھتی ہوں حوصلہ میں نہایت کمال کا ہیں مرحلے عجیب یہ عشق و خرد کے بھی لمحوں میں کر رہی ہوں سفر ماہ و سال کا درویش ہے کوئی تو قلندر ولی کوئی بندوں نے پایا عشق میں رتبہ کمال ...

مزید پڑھیے

رکھے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہی

رکھے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہی ملتی ہے اس کو راہ سے منزل کی آگہی سیکھا ہے آدمی نے کئی تجربوں کے بعد طوفان سے ہی ملتی ہے ساحل کی آگہی اس کا خدا سے رابطہ ہی کچھ عجیب ہے دنیا کہاں سمجھتی ہے سائل کی آگہی نظروں کا اعتبار تو ہے پھر بھی میرا دل ہے اک صحیفہ جس میں مسائل کی آگہی دن رات ...

مزید پڑھیے

پیغام زندگی ہے خوشی کی نوید ہے

پیغام زندگی ہے خوشی کی نوید ہے میرے لیے تو آپ کا دیدار عید ہے کس نے کہا ہے زیست مرے نام کیجیے دو پل بھی ساتھ آپ کا عید سعید ہے اک آرزو ہے آپ مرے ہم سفر بنیں تا عمر دیکھتی رہوں یہ شوق دید ہے دل ڈوب جائے گا مرا بارش میں پیار کی سیلاب عشق آنے کی شاید شنید ہے ہر وقت میرے لب پہ رہی ہے ...

مزید پڑھیے

کبھی تو دل کا کہا دل سے وہ سنے گا ہی

کبھی تو دل کا کہا دل سے وہ سنے گا ہی یہ قطرہ سنگ میں سوراخ تو کرے گا ہی وہ میرے ہاتھ سے برسات کے زمانے میں پکوڑے کھائے گا اور چائے بھی پیے گا ہی سہانی شام کسی دل نشیں وادی میں وہ دو ہی ساتھ ساتھ چلے چلے گا ہی ابھی یہ سوچ کے میں ظلم سہتی جاتی ہوں کبھی تو ہاتھ ترے ظلم کا رکے گا ...

مزید پڑھیے

ہے ترجمان الم اور ادیب ہے سردی

ہے ترجمان الم اور ادیب ہے سردی تبھی تو نوک قلم سے قریب ہے سردی دماغ عرش پہ ہے کانپتا زمین پہ ہے اے بندے درس لے عمدہ خطیب ہے سردی میں شال اوڑھ کے جو بام پر ٹہلتی ہوں پیام دوست کی شاید نقیب ہے سردی لرزتی کانپتی میں خود سے کہتی رہتی ہوں میں ملنے جاؤں تو کیسے رقیب ہے سردی ہوا بھی ...

مزید پڑھیے

میں دریا ہوں مگر دونوں طرف ساحل ہے تنہائی

میں دریا ہوں مگر دونوں طرف ساحل ہے تنہائی تلاطم خیز موجوں میں مری شامل ہے تنہائی محبت ہو تو تنہائی میں بھی اک کیف ہوتا ہے تمناؤں کی نغمہ آفریں محفل ہے تنہائی بہت دن وقت کی ہنگامہ آرائی میں گزرے ہیں انہیں گزرے ہوئے ایام کا حاصل ہے تنہائی ہجوم زیست سے دوری نے یہ ماحول بخشا ...

مزید پڑھیے

اگر الفاظ سے غم کا ازالہ ہو گیا ہوتا

اگر الفاظ سے غم کا ازالہ ہو گیا ہوتا حقیقت تو نہ ہوتی بس دکھاوا ہو گیا ہوتا اگر اپنا سمجھ کر صرف اک آواز دے جاتے یقیں مانو کہ میرا دل تمہارا ہو گیا ہوتا شب فرقت میں جتنے خواب بھی ملنے کے دیکھے تھے اگر تعبیر ملتی تو اجالا ہو گیا ہوتا نہ کرتے منقطع گر تم مراسم کی حسیں راہیں تو ...

مزید پڑھیے

تم دل کی دل میں رکھو بتایا نہیں کرو

تم دل کی دل میں رکھو بتایا نہیں کرو یوں کہہ کے داستان رلایا نہیں کرو مجھ سے بچھڑ کے رہتا ہے دل شاد ایک شخص یہ من گھڑت کہانی سنایا نہیں کرو آنکھوں کے گرد حلقے پڑے جاگ جاگ کر نیندوں کو میری ایسے اڑایا نہیں کرو میری غزل کا طول تمہارے سبب سے ہے تم سوچ بن کے شعر میں آیا نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1483 سے 6203