قومی زبان

جہاں میں جس کی شہرت کو بہ کو ہے

جہاں میں جس کی شہرت کو بہ کو ہے وہ مجھ سے آج محو گفتگو ہے رہا آباد خوابوں میں جو اب تک خوشا قسمت کہ اب وہ روبرو ہے کبھی وہ پیار سے اک پھول لائے بہت دن سے مری یہ آرزو ہے نہیں آتا غزل میں نام کوئی تعلق اس قدر با‌ آبرو ہے مرا احساس جس سے ہے معطر وہی خوشبو تو میرے چار سو ہے سراپا ...

مزید پڑھیے

اداکار چہرے

یہاں ہر طرف ہیں اداکار چہرے میں روداد دل کی کسے کیا بتاؤں جو خواب مسلسل ہی ارماں ہے مرا وہی خواب ٹوٹا وہی پیار روٹھا مناظر نے رنگ اپنے سب کھو دئے ہیں وہ جب سے خفا ہے کسے کیا بتاؤں زباں چپ ہے لیکن سراپا بیاں ہوں یہ دل کی لگی ہے کسے کیا بتاؤں

مزید پڑھیے

بے خیالی میں تخلیق

خیالات و احساس جو بے ساختہ لکھ دیے ہیں نہ جانے وہ کب سے دل و جاں کے اندر چھپے تھے کسی راز جیسے قلم بند ہونے کو بے چین تھے کئی درد الجھے سوالات جو صفحے پہ سجنے کو بیتاب تھے وہ سب قلم سے مرے موتیوں کی طرح اب برسنے لگے ہیں سبھی رقص کرنے لگے ہیں مری چشم پر نم جو سیلاب روکے ہوئے ہے ستارے ...

مزید پڑھیے

ہم سفر ایسا ملے جو ہم نوا بھی ہو مرا

خوب صورت ہو اضافہ زیست کے اوراق میں ہم سفر ایسا ملے جو ہم نوا بھی ہو مرا روح کو سیراب کر دے ساتھ اس کا ایسا ہو شبنمی قطرات ہوں جیسے بیاباں کے لئے قربتیں ہوں اس کی مرہم غم کے درماں کے لئے مشکلیں آساں ہوں کچھ قلب پریشاں کے لئے یوں قدم باہم اٹھیں جیسے رہ منزل کی سمت ہم سفر ایسا ملے جو ...

مزید پڑھیے

بس انا کو بحال رکھنا ہے

اپنے اپنے ہی خول میں ہم تم کیسے خود کو چھپا کے بیٹھ گئے ہم کو اپنی انا کا پاس رہا اور سارے خیال بھول گئے خواب جو ہم نے ساتھ دیکھے تھے سارے وہ کیسے تار تار ہوئے سارے وعدے وفا کے ٹوٹ گئے اور ارمان سب ہی خاک ہوئے دیکھنے میں تو میں شگفتہ ہوں تم بھی شاداب سب کو لگتے ہو اک حقیقت مگر میں ...

مزید پڑھیے

بگڑنے والا کسی دن سنور ہی جائے گا

بگڑنے والا کسی دن سنور ہی جائے گا مزاج دوست بالآخر سدھر ہی جائے گا مریض عشق ابھی بیکلی میں ہے لیکن بخار ایک دن اس کا اتر ہی جائے گا جو پھول آج سر شاخ ہے مہکتا ہوا وہ ایک موج صبا میں بکھر ہی جائے گا گزر رہی ہے پریشان زندگی لیکن چلے چلو کہ یہ رستہ گزر ہی جائے گا اسی خیال سے نیکی ...

مزید پڑھیے

اسے بیتاب ہو کر سوچتی ہوں

اسے بیتاب ہو کر سوچتی ہوں میں اک گلفام اکثر سوچتی ہوں ہوئی حائل کچھ ایسی بد گمانی میں اک ہیرے کو پتھر سوچتی ہوں وہ اک لمحہ جو بیتا کل ہے میرا میں ہر لمحہ وہ منظر سوچتی ہوں ہوں جس کی ذات سے وابستہ کب سے اب اس کو اپنا محور سوچتی ہوں مری ڈولی جہاں سے سج کے نکلی میں بابل کا وہی گھر ...

مزید پڑھیے

وہ عالم تشنگی کا ہے سفر آساں نہیں لگتا

وہ عالم تشنگی کا ہے سفر آساں نہیں لگتا بظاہر تو مجھے بارش کا بھی امکاں نہیں لگتا یہ دل جاگیر ہے جس کی اسی کے نام کر دی ہے جو میرے دل کے آنگن میں مجھے مہماں نہیں لگتا شعور و آگہی کیسی کوئی وحشی کوئی سرکش یہ کیسا دیش ہے جس میں کوئی انساں نہیں لگتا نئی قدریں نئی تہذیب کا آغاز ہوتا ...

مزید پڑھیے

بھیگا ہوا ہے آنچل آنکھوں میں بھی نمی ہے

بھیگا ہوا ہے آنچل آنکھوں میں بھی نمی ہے پھیلا ہوا ہے کاجل آنکھوں میں بھی نمی ہے برسے گا آج کھل کر بے چین و مضطرب ہوں چھایا ہے غم کا بادل آنکھوں میں بھی نمی ہے کیسی عجیب حالت طاری ہوئی ہے دل پر ہوں منتظر مسلسل آنکھوں میں بھی نمی ہے مدت کے بعد آیا دنیائے دل میں کوئی صحرا ہوا ہے جل ...

مزید پڑھیے

باد صرصر بھی قربت کی چلتی رہے دن نکلتا رہے شام ڈھلتی رہے

باد صرصر بھی قربت کی چلتی رہے دن نکلتا رہے شام ڈھلتی رہے زلف ہاتھوں سے تیرے سنورتی رہے دن نکلتا رہے شام ڈھلتی رہے تیری چاہت گلابوں کی خوشبو بنے میرے دیوار و در میں کچھ ایسی بسے تیری مہکار کمرے سے آتی رہے دن نکلتا رہے شام ڈھلتی رہے تیرے احساس کی تن پہ چادر لیے تیرے ہم راہ رقصاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1482 سے 6203