قومی زبان

وہ اس ادا سے دعا کرے گا

وہ اس ادا سے دعا کرے گا ہمارا ہو کر رہا کرے گا عطا کرے گا اگر وہ مالک وہ دل کی دھک دھک ہوا کرے گا ہے راس دل کو اداس موسم کہ دکھ کو دل ہی سہا کرے گا وصال کا لمحہ لوٹ آئے ملول ہو کر کہا کرے گا اٹھی ہو سسکی کسی کے دل سے ڈرو کہ وہ دل صدا کرے گا کسک اٹھے گی ہمارے دل سے کسی سے گر وہ ملا ...

مزید پڑھیے

جو با کردار ہو اس کو سیانی کون کہتا ہے

جو با کردار ہو اس کو سیانی کون کہتا ہے کسی مزدور کی بیٹی کو رانی کون کہتا ہے بجٹ جب سارے لگ جائیں وزارت کی ہی کرسی پر تو اس طرز معیشت کو گرانی کون کہتا ہے محبت کے فسانے آج بھی تحریر ہوتے ہیں بہار زندگانی کو پرانی کون کہتا ہے مری نانی سناتی تھی حکایت سات پریوں کی وہ سچے پیار کی ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں وہ آئیں تو ہنساتے ہیں مجھے خواب

آنکھوں میں وہ آئیں تو ہنساتے ہیں مجھے خواب ہر روز نئے باغ دکھاتے ہیں مجھے خواب اب پیار کے موسم کا ہے آغاز یقیناً نغمات نئے خوب سناتے ہیں مجھے خواب ہو نیند پہ چھایا ہوا جب فکر کا بادل اک سیر نئی سمت کراتے ہیں مجھے خواب اس زیست کی تلخی سے تو اچھی ہے مری نیند تتلی کبھی پھولوں سے ...

مزید پڑھیے

مستقر کی خواہش میں منتشر سے رہتے ہیں

مستقر کی خواہش میں منتشر سے رہتے ہیں بے کنار دریا میں لفظ لفظ بہتے ہیں سب الٹ پلٹ دی ہیں صرف و نحو دیرینہ زخم زخم جیتے ہیں لمحہ لمحہ سہتے ہیں یار لوگ کہتے ہیں خواب کا مزار اس کو از رہ روایت ہم خواب گاہ کہتے ہیں روشنی کی کرنیں ہیں یا لہو اندھیرے کا سرخ رنگ قطرے جو روزنوں سے بہتے ...

مزید پڑھیے

ہماری بے چینی اس کی پلکیں بھگو گئی ہے

ہماری بے چینی اس کی پلکیں بھگو گئی ہے یہ رات یوں بن رہی ہے جیسے کہ سو گئی ہے دیے تھے کالی گھٹا کو ہم نے ادھار آنسو کسے کہیں اب کہ ساری پونجی ڈبو گئی ہے ہم اس کی خاطر بچا نہ پائیں گے عمر اپنی فضول خرچی کی ہم کو عادت سی ہو گئی ہے وہ ایک ساحل کہ جس پہ تم خود کو ڈھونڈتے ہو وہیں پہ اک ...

مزید پڑھیے

نیا سورج نیا دریا نئی کشتی بناتے ہیں

نیا سورج نیا دریا نئی کشتی بناتے ہیں نئی تصویر میں دنیا ذرا میلی بناتے ہیں ذرا سا کیوٹ کر دیتے ہیں اندیشوں کے بھوتوں کو مگر امید کی پریاں ذرا اگلی بناتے ہیں مکمل سوچ لیتے ہیں چلو اس بار پھر تجھ کو چلو اس بار بھی صورت تری آدھی بناتے ہیں یقینی بات ہے باطن کی تاریکی نہ کم ...

مزید پڑھیے

کبھی سحر سے کبھی تیرگی سے شکوہ ہے

کبھی سحر سے کبھی تیرگی سے شکوہ ہے کبھی خدا سے کبھی آدمی سے شکوہ ہے خود اپنی ذات سے جو آشنا نہیں اس کو بس ایک اپنے سوا ہر کسی سے شکوہ ہے مجازی عشق کسی کو سکوں نہیں دیتا جسے بھی دیکھو اسے دل لگی سے شکوہ ہے وفا اس عہد جفا میں ہے اک فریب نظر بساط وقت کی جادوگری سے شکوہ ہے کرے جو کھل ...

مزید پڑھیے

جب سے جانا ہے کہ دنیا میں وفا کوئی نہیں

جب سے جانا ہے کہ دنیا میں وفا کوئی نہیں پھر کسی سے بھی رہا ہم کو گلہ کوئی نہیں ہر طرف جھوٹ ہے دھوکا ہے بے ایمانی ہے اور اخلاص و محبت کا صلہ کوئی نہیں ہر زباں پر گلے شکوے تو بہت ہیں لیکن حرف تحسین نہیں لفظ دعا کوئی نہیں اجنبی ہو گئے وہ لوگ جو اپنے تھے کبھی ہم سے از راہ مروت بھی ملا ...

مزید پڑھیے

یہ دل فریب تمنا میں بے قرار کیا

یہ دل فریب تمنا میں بے قرار کیا یہی ہے جرم جسے ہم نے بار بار کیا نہ ہم نے سود و زیاں دیکھ کر محبت کی نہ نفرتوں کا کبھی ہم نے کاروبار کیا شکستہ روح سلگتی نگہ دل مہجور نہ پوچھ کیسے ہر اک زخم کا شمار کیا ترے جمال نظر نے دیا فریب ہمیں اسی فریب نظر نے ہے اشک بار کیا نوائے صبح ازل تیری ...

مزید پڑھیے

مختصر ہی سہی میسر ہے

مختصر ہی سہی میسر ہے جو بھی کچھ ہے نہیں سے بہتر ہے دن دہاڑے گناہ کرتا ہوں معتبر ہو نہ جاؤں یہ ڈر ہے منچ پر کامیاب ہو کہ نہ ہو مجھ کو کردار اپنا ازبر ہے سب کو پتھرا دیا پلک جھپکے ہم نہ کہتے تھے شعبدہ گر ہے عین ممکن ہے وہ پلٹ آئے میرا ایمان معجزوں پر ہے پہلے موسم پہ تبصرہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1484 سے 6203