قومی زبان

مطمئن ہوں کہ مجھے چھوڑ کے اتنا خوش ہے

مطمئن ہوں کہ مجھے چھوڑ کے اتنا خوش ہے وہ جسے دیکھ کے لگتا ہے کہ بچہ خوش ہے کتنا خوش ہے وہ محبت سے رہائی پا کر جب سے روٹھا ہے ضرورت سے زیادہ خوش ہے میں نہ ہوتا تو اسے نیند نہیں آتی تھی میں تو حیران ہوں وہ شخص اکیلا خوش ہے ایسی حالت ہے ترے ہجر میں دیوانے کی وہ تماشہ ہے کہ ہر دیکھنے ...

مزید پڑھیے

میری آنکھوں سے نہیں لگتا کہ میں کس جا سے ہوں

میری آنکھوں سے نہیں لگتا کہ میں کس جا سے ہوں دیدۂ حیران والے میں شب یلدا سے ہوں جو بھی لگتا ہوں کسی کو ٹھیک لگتا ہوں میاں میں کسی بھی روپ میں ہوں یار کی منشا سے ہوں اس تعلق نے بھرم رکھا ہوا ہے دوستا میں تو اس کے قرب کی پوشاک کی شو شا سے ہوں میں تجھے کیسے یہ سمجھاؤں ذرا سی دیر ...

مزید پڑھیے

نہیں رہو گے تو کچھ نبھانا نہیں پڑے گا

نہیں رہو گے تو کچھ نبھانا نہیں پڑے گا یہ سر کٹا لو کہ پھر اٹھانا نہیں پڑے گا یہ جنگ ہوگی تمام غازی شہید ہوں گے کسی کو میداں سے لوٹ جانا نہیں پڑے گا خدا کی مانو تو دال روٹی ملا کرے گی کسی کو مٹی میں ہل چلانا نہیں پڑے گا کہیں رہوں گا تو چھت ضرورت رہے گی میری سفر کروں گا تو گھر بنانا ...

مزید پڑھیے

میری تھوڑی آنکھ لگی تو جانے کیا کیا باندھ لیا

میری تھوڑی آنکھ لگی تو جانے کیا کیا باندھ لیا جادوگر نے اک رومال میں پورا صحرا باندھ لیا آخر میں خیرات بٹی تو سارے گتھم گتھا تھے میں نے پیچھے بیٹھے بیٹھے جو دل چاہا باندھ لیا یہ جو یار میسر ہے ناں سارا میرا اپنا نئیں ساون کا یہ مطلب نئیں کہ جو کچھ برسا باندھ لیا منظر ہی کچھ ...

مزید پڑھیے

میرا کتنا خیال کرتے ہو

میرا کتنا خیال کرتے ہو سانس لینا محال کرتے ہو ہو وہاں بھی جہاں نہیں موجود تم یہ کیسا کمال کرتے ہو عشق میں ہجر و وصل بے معنی کس لیے تم ملال کرتے ہو جانتے ہو کہ ہم تمہارے ہیں پھر بھی دل پائمال کرتے ہو ہم نے دیکھا ہے اک زمانے کو زندگی کیوں وبال کرتے ہو میرے اخلاص کا کرشمہ ہے جسم ...

مزید پڑھیے

مگر

میں حسیں ہوں مگر اس قدر بھی نہیں مجھ کو معلوم ہے جانتی ہوں کہ میں تیرے الفاظ کی سب ہے جادوگری تیرے الفاظ نے اور جنوں نے ترے اپنے شعروں میں کر کے بیاں میرا حسن دل کشی کو مری شاعری کو مری ایک پہچان دی ہر زباں پر مرا تذکرہ ہے مگر مجھ کو سچ سچ بتا اے سخنور مرے اے مرے جادوگر تیرے اشعار ...

مزید پڑھیے

اس دور کے آقاؤں کی عادت نہیں بدلی

اس دور کے آقاؤں کی عادت نہیں بدلی ہم جیسے فقیروں کی بھی فطرت نہیں بدلی مسجد بھی گئے اور شوالہ بھی گئے ہم اس دل نے مگر تیری عبادت نہیں بدلی تدبیر سے تقدیر نے پائی ہے بلندی ہاتھوں کی لکیروں سے تو قسمت نہیں بدلی صدیوں سے اسے دیکھ رہا ہے یہ زمانہ کیا بات ہے آئینے کی صورت نہیں ...

مزید پڑھیے

میسر آ گئی ہے آگہی کیا

میسر آ گئی ہے آگہی کیا رکے ہیں لوگ منزل آ گئی کیا تمہارے ساتھ ہے سارا زمانہ ہماری دوستی کیا دشمنی کیا مروت جب دلوں سے کھو چکی ہو قرابت کیا محلہ کیا گلی کیا طبیعت درد کی جب ہم سفر ہو پڑاؤ کیا سفر کیا خوش دلی کیا میں دل کو کتنی وسعت دے سکوں گا خفا ہو جائیں گے مجھ سے سبھی کیا یہ ...

مزید پڑھیے

رخ حیات نکھرتا ہے حادثات کے بعد

رخ حیات نکھرتا ہے حادثات کے بعد خوشی کی صبح بھی آئے گی غم کی رات کے بعد بس اس خطا پہ ہیں میرے خلاف سارے لوگ مرا یقین خدا پر ہے اپنی ذات کے بعد مری طرف نگہ مہر یوں ہی رہنے دے ستم نہ کر میری ہستی پہ التفات کے بعد ہزار طرح کے الزام دیں گے لوگ تجھے پڑیں گے سب ترے چہرے کو تیری بات کے ...

مزید پڑھیے

موسم ہرا بھرا ہے یہ منظر بھی دیکھ لے

موسم ہرا بھرا ہے یہ منظر بھی دیکھ لے کچھ دیر تازگی میں سنور کر بھی دیکھ لے سچ بات کہنے کے لئے اپنی زباں تو کھول پھر کس طرف سے آتے ہیں پتھر بھی دیکھ لے مانا کہ تشنگی کسی صحرا کی دین ہے فیاض کس قدر ہے سمندر بھی دیکھ لے تو نے بلا کی دھوپ میں کاٹی تمام عمر اب سرد شب کی اوڑھ کے چادر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1469 سے 6203