بات کیا ہے یہ بتائیں تو سہی
بات کیا ہے یہ بتائیں تو سہی گفتگو آگے بڑھائیں تو سہی جان جائیں گے کھرا کھوٹا ہے کیا آپ مجھ کو آزمائیں تو سہی انگلیاں اٹھیں گی چاروں آپ پر آپ اک انگلی اٹھائیں تو سہی بندہ پرور ناامیدی کفر ہے اک دیا پھر سے جلائیں تو سہی چاند تارے منتظر ہیں آپ کے آسماں تک آپ جائیں تو سہی وصل کر ...