قومی زبان

بات کیا ہے یہ بتائیں تو سہی

بات کیا ہے یہ بتائیں تو سہی گفتگو آگے بڑھائیں تو سہی جان جائیں گے کھرا کھوٹا ہے کیا آپ مجھ کو آزمائیں تو سہی انگلیاں اٹھیں گی چاروں آپ پر آپ اک انگلی اٹھائیں تو سہی بندہ پرور ناامیدی کفر ہے اک دیا پھر سے جلائیں تو سہی چاند تارے منتظر ہیں آپ کے آسماں تک آپ جائیں تو سہی وصل کر ...

مزید پڑھیے

آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیں

آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیں میرے احساس میں سو درد اتر جاتے ہیں پاس آ کر بھی اگر پاس نہ آئے کوئی ہم شب وصل کی تنہائی میں مر جاتے ہیں کیا عجب دور پر آشوب ہے جس میں اے دوست لوگ دستار بچاتے ہیں تو سر جاتے ہیں جب پسینے کا خریدار نہ ہو تب مزدور شام کو نظریں جھکائے ہوئے گھر جاتے ...

مزید پڑھیے

روشنی بن کر بکھرنے کے لیے

روشنی بن کر بکھرنے کے لیے زندگی ہے عشق کرنے کے لیے انگلیوں کو ہم قلم کرتے رہے چاہتوں میں رنگ بھرنے کے لیے توڑ ڈالا ہے خود اپنے آپ کو ایک گھر تعمیر کرنے کے لیے آئینے میں روبرو تھا اجنبی آج جب سوچا سنورنے کے لیے میں وظیفہ پڑھ رہی ہوں رات دن آپ کے دل میں اترنے کے لیے جانتی ہوں اک ...

مزید پڑھیے

عشق نے میرے جسے القاب کا دفتر دیا

عشق نے میرے جسے القاب کا دفتر دیا اس نے سونے کو مجھے کانٹوں بھرا بستر دیا میری تحریروں سے خائف ہو کے پھر اغیار نے رنگ کوئی اور افسانوں میں میرے بھر دیا تیرے آنگن سے اترتی چاندنی نے اب تلک خوف بخشا سسکیاں دیں اور مجھ کو ڈر دیا جا تری جھولی میں میں نے اپنی خوشیاں ڈال دیں جا ترے ...

مزید پڑھیے

پوچھیے مت کیا ہوا کیسے ہوا

پوچھیے مت کیا ہوا کیسے ہوا بت کوئی میرا خدا کیسے ہوا آدمی بے حد برا تھا وہ مگر پھر اچانک وہ بھلا کیسے ہوا جس دئے کی آبرو تھی روشنی وہ طرف دار ہوا کیسے ہوا میں جسے سمجھی نہ تھی وہ عشق تھا ہاں مگر پھر وہ سزا کیسے ہوا آدمی سے پوچھتا ہے آدمی آدمی خود سے جدا کیسے ہوا مجھ کو آیا تھا ...

مزید پڑھیے

عمر بھر بوجھ اٹھایا تو نہیں جا سکتا

عمر بھر بوجھ اٹھایا تو نہیں جا سکتا ہر تعلق کو نبھایا تو نہیں جا سکتا آپ اس بار بھی دیوار میں چنوا دیں مجھے اب کے بھی سر یہ جھکایا تو نہیں جا سکتا روز مرنے کا ہنر جس نے سکھایا ہے مجھے اس کا احسان بھلایا تو نہیں جا سکتا چشم بینا ہے مگر عقل سے نا بینا ہیں آئنہ ان کو دکھایا تو نہیں ...

مزید پڑھیے

بدرؔ جب آگہی سے ملتا ہے

بدرؔ جب آگہی سے ملتا ہے اک دیا روشنی سے ملتا ہے چاند تارے شفق دھنک خوشبو سلسلہ یہ اسی سے ملتا ہے جتنی زیادہ ہے کم ہے اتنی ہی یہ چلن آگہی سے ملتا ہے دشمنی پیڑ پر نہیں اگتی یہ ثمر دوستی سے ملتا ہے یوں تو ملنے کو لوگ ملتے ہیں دل مگر کم کسی سے ملتا ہے بدرؔ آپ اور خیال بھی اس کا سایہ ...

مزید پڑھیے

بدرؔ یوں تو سبھی سے ملتا ہے

بدرؔ یوں تو سبھی سے ملتا ہے بے غرض کب کسی سے ملتا ہے خود کو گم کر کے ڈھونڈیئے اس کو یہ گہر بے خودی سے ملتا ہے وہ کوئی ہو کہیں بھی ہو لیکن ہو بہو آپ ہی سے ملتا ہے جان بھی ساتھ چھوڑ دیتی ہے یہ سبق زندگی سے ملتا ہے چھاؤں میں زلف کے دھنک کے رنگ سایہ یوں روشنی سے ملتا ہے آستاں کھنچ کے ...

مزید پڑھیے

اک بے ہنر ہوں اور ہنر چاہتی ہوں میں

اک بے ہنر ہوں اور ہنر چاہتی ہوں میں اب دھوپ کے سفر میں شجر چاہتی ہوں میں تنہائیوں کا خوف ہے گھیرے ہوئے مجھے اپنی گلی سے اس کا گزر چاہتی ہوں میں لکھا ہے اپنے نام سے اپنے پتے پہ خط مدت کے بعد اپنی خبر چاہتی ہوں میں یہ ٹھیک ہے کہ تم سے محبت نہیں مجھے یہ بھی ہے ٹھیک تم کو مگر چاہتی ...

مزید پڑھیے

تمہارے خواب کی تعبیر ہو جاؤں اجازت ہے

تمہارے خواب کی تعبیر ہو جاؤں اجازت ہے محبت کی میں اک تصویر ہو جاؤں اجازت ہے کہیں جانے نہ دوں تم کو اگر تم میرے ہو جاؤ تمہارے پاؤں کی زنجیر ہو جاؤں اجازت ہے کسی کے ہو گئے ہو تم مجھے شکوہ نہیں کوئی کسی کی میں بھی اب جاگیر ہو جاؤں اجازت ہے وہ اک تعویذ جو تم نے گلے میں ڈال رکھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1470 سے 6203