قومی زبان

عذر ہوا نے کیا رکھا ہے

عذر ہوا نے کیا رکھا ہے کیسا شور مچا رکھا ہے اک بے نام تعلق میں بھی خوف بچھڑنے کا رکھا ہے دیکھو ہم نے اس لمحے کا کتنا بوجھ اٹھا رکھا ہے اس کی آنکھیں دیکھ رہا ہوں جس نے جال بچھا رکھا ہے دھوپ میں اس نے کس کی خاطر چھت پر چاند اگا رکھا ہے تم پاگل ہو تم کیا جانو کس کے دل میں کیا رکھا ...

مزید پڑھیے

چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے

چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے تجھ کو دیکھا ہے تو تجھ سا نہیں دیکھا میں نے حادثہ جو بھی ہو چپ چاپ گزر جاتا ہے دل سے اچھا کوئی رستہ نہیں دیکھا میں نے پھر دریچے سے وہ خوشبو نہیں پہنچی مجھ تک پھر وہ موسم کبھی دل کا نہیں دیکھا میں نے موم کا چاند ہتھیلی پہ لیے پھرتا ہوں شہر میں ...

مزید پڑھیے

غم ترا غم بھی ہے تسکین کا پیغام بھی ہے

غم ترا غم بھی ہے تسکین کا پیغام بھی ہے ہے اگر عشق میں تکلیف تو آرام بھی ہے آمد و رفت کا ہے کھیل تماشا سارا زندگی بھی ہے نفس موت کا پیغام بھی ہے یاد محدود نہیں روزہ نمازوں پہ فقط دن بھی ہے رات بھی ہے صبح بھی ہے شام بھی ہے یہ بتاتے ہیں لفافے پہ ہمارے آنسو جذبۂ عشق میں ڈوبا ہوا ...

مزید پڑھیے

یقیں سب کچھ گماں کچھ بھی نہیں ہے

یقیں سب کچھ گماں کچھ بھی نہیں ہے جہاں میں جاوداں کچھ بھی نہیں ہے فرائض ہیں عمل ہے یا خدا ہے سوا اس کے جہاں کچھ بھی نہیں ہے عقیدت راہ دکھلاتی رہی ہے نشان بے نشاں کچھ بھی نہیں ہے زمیں تیری فلک تیرا خدایا ہمارا تو یہاں کچھ بھی نہیں ہے دل پر درد پہلو میں لئے ہیں کہیں کیسے کہ ہاں ...

مزید پڑھیے

سارا عالم تیرا مرکز کس کو مے خانہ کہیں

سارا عالم تیرا مرکز کس کو مے خانہ کہیں کس کو ساقی کس کو ساغر کس کو پیمانہ کہیں شمع ہم کس کو کہیں اور کس کو پروانہ کہیں کون ہیں اہل خرد اور کس کو دیوانہ کہیں محو حیرت ہی رہیں ہم یا کہ جاناناں کہیں غیر کا شکوہ کریں یا اپنا افسانہ کہیں گر کوئی بدلے میں دل مانگے تو دیوانہ کہیں ہم ...

مزید پڑھیے

مخاطب چشم ساقی ہو تو پھر آرام ملتا ہے

مخاطب چشم ساقی ہو تو پھر آرام ملتا ہے نگاہیں منتظر ہیں دیکھیے کب جام ملتا ہے خودی کو چھوڑ دیتا ہے مٹاتا ہے جو ہستی کو اسی کو چین اطمینان اور آرام ملتا ہے محبت میں بہت آسان ہے بدنام ہو جانا بڑی مشکل سے دنیا میں کسی کو نام ملتا ہے چھلک جاتے ہیں پیمانے پتہ چلتا نہیں دل کا نظر سے جب ...

مزید پڑھیے

دے کے دل اپنا کسی قلب میں گھر پیدا کر

دے کے دل اپنا کسی قلب میں گھر پیدا کر بے زباں بن کے خموشی میں اثر پیدا کر آتش عشق میں انداز شرر پیدا کر غم کے تاریک اندھیروں میں سحر پیدا کر آرزو یار کے جلووں کی اگر پیدا کر تاب جلوہ ہو جسے ایسی نظر پیدا کر وقت برباد نہ کر زاد سفر پیدا کر دور آغاز میں انجام کا ڈر پیدا کر بحر ...

مزید پڑھیے

یہ عقیدہ ہے مرا غیب سے ساماں ہوگا

یہ عقیدہ ہے مرا غیب سے ساماں ہوگا درد کی ٹھیس لگی درد ہی درماں ہوگا آسماں بدلے زمیں بدلے زمانہ بدلے عشق آسان نہ تھا اور نہ آساں ہوگا روشنی تیری جھلکتی ہی رہے گی اے دوست کبھی آنکھوں میں کبھی دل میں چراغاں ہوگا دیکھ تو لوں میں تصور میں تجھے بھی لیکن اور حیران یہ آئینۂ حیراں ...

مزید پڑھیے

قلم میں روشنی کم اور دھواں زیادہ ہے

قلم میں روشنی کم اور دھواں زیادہ ہے غزل لکھی تو طبیعت رواں زیادہ ہے مجھے تو علم نہیں تو کوئی حساب لگا کہاں پہ کم ہے محبت کہاں زیادہ ہے فقیر لڑکی ہوں میرے لیے مرے خالق جو سچ کہوں جو دیا تو نے ہاں زیادہ ہے مرے مکان کا صحرا سے کیا موازنہ ہے یہاں پہ شور زیادہ زیاں زیادہ ہے ہمارے ...

مزید پڑھیے

یوں شب ہجر بتائی میں نے

یوں شب ہجر بتائی میں نے نیند طاقوں میں جلائی میں نے چھوڑ جاؤں گی قسم سے تجھ کو اور قسم بھی تری کھائی میں نے اوس کی آنکھوں سے چرا کر کچھ اشک رات کی پہلی کمائی میں نے اس کا غم سرد کیا آہوں سے دھوپ میں چھاؤں ملائی میں نے جانے کیوں روح کی دیوار پہ آج زرد سی بیل چڑھائی میں نے نام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1446 سے 6203