عذر ہوا نے کیا رکھا ہے
عذر ہوا نے کیا رکھا ہے کیسا شور مچا رکھا ہے اک بے نام تعلق میں بھی خوف بچھڑنے کا رکھا ہے دیکھو ہم نے اس لمحے کا کتنا بوجھ اٹھا رکھا ہے اس کی آنکھیں دیکھ رہا ہوں جس نے جال بچھا رکھا ہے دھوپ میں اس نے کس کی خاطر چھت پر چاند اگا رکھا ہے تم پاگل ہو تم کیا جانو کس کے دل میں کیا رکھا ...