ہجر تنہائی کے لمحوں میں بہت بولتا ہے
ہجر تنہائی کے لمحوں میں بہت بولتا ہے رنگ اس کا کئی رنگوں میں بہت بولتا ہے میں اسے چپ کے حوالے سے بھی کیسے لکھوں وہ تو ایسا ہے کہ حرفوں میں بہت بولتا ہے ایک لو ہے کہ سر بام تھرکتی ہے بہت اک دیا ہے کہ دریچوں میں بہت بولتا ہے اپنی آواز سنائی نہیں دیتی مجھ کو ایک سناٹا کہ گلیوں میں ...