رسم دنیا تو کسی طور نبھاتے جاؤ
رسم دنیا تو کسی طور نبھاتے جاؤ دل نہیں ملتے بھی تو ہاتھ ملاتے جاؤ کبھی چٹان کے سینے سے کبھی بازو سے بہتے پانی کی طرح راہ بناتے جاؤ تیغ اٹھتی نہیں ہے تم سے جو ظالم کے خلاف حق میں مظلوم کے آواز اٹھاتے جاؤ لوگ سمجھیں گے کہ ہے شخص بڑا شائستہ تم ہر اک بات پہ بس ناک چڑھاتے جاؤ تم ...