قومی زبان

رسم دنیا تو کسی طور نبھاتے جاؤ

رسم دنیا تو کسی طور نبھاتے جاؤ دل نہیں ملتے بھی تو ہاتھ ملاتے جاؤ کبھی چٹان کے سینے سے کبھی بازو سے بہتے پانی کی طرح راہ بناتے جاؤ تیغ اٹھتی نہیں ہے تم سے جو ظالم کے خلاف حق میں مظلوم کے آواز اٹھاتے جاؤ لوگ سمجھیں گے کہ ہے شخص بڑا شائستہ تم ہر اک بات پہ بس ناک چڑھاتے جاؤ تم ...

مزید پڑھیے

منظر رخصت دل دار بھلایا نہ گیا

منظر رخصت دل دار بھلایا نہ گیا دل کئی روز تلک راہ پہ لایا نہ گیا خانۂ دل کی تباہی کا دیں الزام کسے آپ کے بعد یہاں کوئی بھی آیا نہ گیا خاک تصویر مصور سے بنے گی تیری دوسرا تجھ سا خدا سے بھی بنایا نہ گیا دے گیا خوب سزا مجھ کو کوئی کر کے معاف سر جھکا ایسے کہ تا عمر اٹھایا نہ گیا لاکھ ...

مزید پڑھیے

سونے کے دل مٹی کے گھر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

سونے کے دل مٹی کے گھر پیچھے چھوڑ آئے ہیں وہ گلیاں وہ شہر کے منظر پیچھے چھوڑ آئے ہیں اپنے آئینوں کو ہم نے روگ لگا رکھا ہے کیا کیا چہرے ہم شیشہ گر پیچھے چھوڑ آئے ہیں تم اپنے دریا کا رونا رونے آ جاتے ہو ہم تو اپنے سات سمندر پیچھے چھوڑ آئے ہیں دیکھو ہم نے اپنی جانوں پر کیا ظلم کیا ...

مزید پڑھیے

وہم کیسا گمان میں بھی نہیں

وہم کیسا گمان میں بھی نہیں تم فقیروں کے دھیان میں بھی نہیں ہم دل دوستاں میں رہتے ہیں تم تو اپنے مکان میں بھی نہیں اب وہ پتھر کہاں سے آئے گا اب ترا گھر چٹان میں بھی نہیں ورنہ تم کو فروخت کر دیتے تم ہماری دکان میں بھی نہیں لوگ روشن ہیں اپنی مٹی سے تم کسی خاکدان میں بھی نہیں ہم ...

مزید پڑھیے

آرزوئے وصال یار کریں

آرزوئے وصال یار کریں کس کے آنے کا انتظار کریں درد کے کس مقام سے گزریں اپنا دریا کہاں سے پار کریں کس سے کس موڑ پر بچھڑ جائیں کون سا ہجر اختیار کریں یہ جو اک زخم جاں پس جاں ہے کس کے سینے کے آر پار کریں فرصت شوق عمر آوارہ آ تجھے آج شرمسار کریں دل کی اونچی مچان پر بیٹھیں اور کوئی ...

مزید پڑھیے

ضرب حالات کچھ نہیں ہوتی

ضرب حالات کچھ نہیں ہوتی رنج کی بات کچھ نہیں ہوتی جس میں دل کا زیاں نہیں ہوتا وہ ملاقات کچھ نہیں ہوتی وہ جو شایان شان فقر نہ ہو ایسی خیرات کچھ نہیں ہوتی بد سرشتی لہو میں ہوتی ہے بات میں بات کچھ نہیں ہوتی زعم تو آستیں کا ہوتا ہے سانپ کی ذات کچھ نہیں ہوتی لوگ جو با وفا نہیں ...

مزید پڑھیے

راہ کے پتھروں سے بھاری ہے

راہ کے پتھروں سے بھاری ہے ہم نے کیا زندگی گزاری ہے رات الٹی پہن کے سوتا ہوں ہجرتوں کا عذاب جاری ہے ہم تو بازی لگا کے ہار چکے دوستو اب تمہاری باری ہے مجھ پہ پھولوں کا قرض ہے میں نے زندگی شاخ سے اتاری ہے سوچتا ہوں کہ تھک گیا ہوں میں تیری جانب سفر بھی جاری ہے یہ جو ہم تم کو بھول ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب کی دنیا کہاں ہے

خیال و خواب کی دنیا کہاں ہے تری آنکھیں ترا چہرا کہاں ہے ہم اپنے شوق میں ڈوبے ہوئے ہیں ہمارے شہر میں دریا کہاں ہے تو ساری جستجو ہی رائیگاں تھی وہ اک لمحہ رفاقت کا کہاں ہے ہر اک تارے سے جا کر پوچھتا ہوں یہ سورج رات کو جاتا کہاں ہے یہ کیسا شور ہے دیوار و در کا ہمارے گھر میں وہ رہتا ...

مزید پڑھیے

نظر میں رنگ سمائے ہوئے اسی کے ہیں

نظر میں رنگ سمائے ہوئے اسی کے ہیں یہ سارے پھول اگائے ہوئے اسی کے ہیں اسی کے لطف سے بستی نہال ہے ساری تمام پیڑ لگائے ہوئے اسی کے ہیں اسی کے حسن کی پرچھائیاں ہیں پتوں پر زمیں نے بوجھ اٹھائے ہوئے اسی کے ہیں وہ جس کے قرب سے حرف وصال ہے روشن مرے چراغ جلائے ہوئے اسی کے ہیں یہ بارشیں ...

مزید پڑھیے

شور کیسا ہے مبتلا مجھ میں

شور کیسا ہے مبتلا مجھ میں کون رہتا ہے دوسرا مجھ میں میں کسی جبر کے حصار میں ہوں اک سفر ہے رکا ہوا مجھ میں جانے کیا تھا کہ رات اس کا خیال راستہ ڈھونڈھتا رہا مجھ میں ٹمٹماتے رہے گلی کے چراغ رقص کرتی رہی ہوا مجھ میں کب سے اپنی تلاش ہے مجھ کو تو نے کیا کیا چھپا دیا مجھ میں کتنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1444 سے 6203