قومی زبان

نیا عالم نظر آتا جو میں محو فغاں ہوتا

نیا عالم نظر آتا جو میں محو فغاں ہوتا زمیں زیر قدم ہوتی نہ سر پر آسماں ہوتا چمن میں برق بھی گرتی تو کیا اے باغباں ہوتا یہی ہوتا مری آنکھوں میں میرا آشیاں ہوتا تری تلوار کے منہ بوالہوس اغیار کیا آتے گلے وہ خود لگا لیتی جو میرا امتحاں ہوتا فلک اس کو مٹاتا کیا کوئی اس کو اٹھاتا ...

مزید پڑھیے

ذرا بھی دم ترے بیمار ناتواں میں نہیں

ذرا بھی دم ترے بیمار ناتواں میں نہیں مکاں میں یوں ہے کہ جیسے کوئی مکاں میں نہیں وہ چھیڑ چھیڑ کے پوچھیں نہ دل کے درد کا حال کہو زباں سے یہ طاقت مری زباں میں نہیں چمن میں کس کے لیے بجلیاں تڑپتی ہیں گل آشیاں میں نہیں شاخ آشیاں میں نہیں تمہارے در سے اٹھاتا ہے کیوں ہمیں درباں کچھ ...

مزید پڑھیے

جب سے آباد کیا قیس نے ویرانے کو

جب سے آباد کیا قیس نے ویرانے کو چھیڑنے آتی ہے لیلیٰ ترے دیوانے کو پوچھ صیاد نہ کچھ روح کے گھبرانے کو قفس تن سے یہ کہتی ہے نکل جانے کو دیکھ مستانہ گھٹاؤں کو ذرا اے ساقی دوش پر آج صبا لاتی ہے میخانے کو ہوش تو گم تھے گئی شرم بھی رسوائی بھی کون ہے اب جو سنبھالے ترے دیوانے کو داغ ...

مزید پڑھیے

کس کے کھوئے ہوئے اوسان چلے آتے ہیں

کس کے کھوئے ہوئے اوسان چلے آتے ہیں وہ جو یوں بے سر و سامان چلے آتے ہیں غیر کے ملنے کی تاکید ہے ہر خط میں مجھے کس قیامت کے یہ فرمان چلے آتے ہیں تم جو نازک ہو تو کیا آ نہیں سکتے دل میں آنکھ کی راہ بھی انسان چلے آتے ہیں گھر سے باہر نکل آیا نہ ہو وہ پردہ نشیں لوگ کیوں چاک گریبان چلے ...

مزید پڑھیے

کلیجہ منہ کو آتا ہے کریں تم سے بیاں کیونکر

کلیجہ منہ کو آتا ہے کریں تم سے بیاں کیونکر نہ پوچھو ہم صفیرو ہم سے چھوٹا آشیاں کیونکر ذرا دیکھیں بدل جاتا ہے دور آسماں کیونکر کسی کے حال پر ہوتا ہے کوئی مہرباں کیونکر ہمیں تو غم سے اتنی بھی نہیں فرصت کہ یہ سوچیں محبت میں ہوا کرتا ہے کوئی شادماں کیونکر کسی پر عمر بھر کی کس طرح ...

مزید پڑھیے

عنایت اس قدر اللہ اکبر اپنے بسمل پر

عنایت اس قدر اللہ اکبر اپنے بسمل پر کلیجے پر کبھی وہ ہاتھ رکھتے ہیں کبھی دل پر مجھے وہ ذبح کر کے اس لئے منہ کو چھپائے ہیں قیامت ہو کہیں گر چاندنی پڑ جائے بسمل پر در دولت پہ دوں چل کر فقیرانہ صدا اک دن سنا ہے در تک آ جاتے ہیں وہ آواز سائل پر تسلی اور چٹکی لے گی بے تابی کے پہلو ...

مزید پڑھیے

اس قدر دور سمجھنے لگے وہ دل سے مجھے

اس قدر دور سمجھنے لگے وہ دل سے مجھے موت کیا نیند بھی اب آئے گی مشکل سے مجھے دی حیات ابدی اس نے گلے سے مل کر مل گئی داد وفا خنجر قاتل سے مجھے دے چکے غیر کو دل ان سے کچھ امید نہیں اپنے پہلو میں جگہ دیں گے وہ کس دل سے مجھے دل بیتاب سنبھالے سے سنبھلتا ہی نہیں یہ نکلوا کے رہے گا تری ...

مزید پڑھیے

دیکھا ادھر کسی نے ادھر میں نے آہ کی

دیکھا ادھر کسی نے ادھر میں نے آہ کی تڑپا رہی ہے قلب کو بجلی نگاہ کی بن آئے پھر تو حشر میں ہر عذر خواہ کی دو اپنے ہاتھ سے جو سزا تم گناہ کی اب میں یوں ہی لحد میں بھی بدلوں گا کروٹیں میرا تو دم نکلتا تھا کیوں تم نے آہ کی سمجھے نہ بچپنے سے کہ کس پر پڑے گا تیر آئینہ دیکھنے میں بھی ...

مزید پڑھیے

جلوہ اس بت کا چراغ رہ عرفاں نکلا

جلوہ اس بت کا چراغ رہ عرفاں نکلا دیر سے ہو کے برہمن بھی مسلماں نکلا بیٹھ کر دل سے نہ پھر تیر کا پیکاں نکلا ہائے اک پردہ نشیں جان کا خواہاں نکلا اف رے شوخی کی ادا بزم عزا سے میری مسکراتا ہوا وہ فتنۂ دوراں نکلا کس کی زلفوں کا تصور تھا دم فکر سخن دل سے مضمون جو نکلا وہ پریشاں ...

مزید پڑھیے

کوئی تو بات ہے یا رب ہوائے کوے جاناں میں

کوئی تو بات ہے یا رب ہوائے کوے جاناں میں اسیروں کو ذرا تسکین ہو جاتی ہے زنداں میں یہاں کی خاک خون بے گنہ کا رنگ لاتی ہے ذرا دامن بچا کر آئیے گور غریباں میں یہ قد بوٹا سا گل سے گال آنکھیں نرگس شہلا جوانی تم پہ کیا آئی بہار آئی گلستاں میں زمانہ کی دو رنگی دیکھ کر جلتا ہے جی کیسا کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1406 سے 6203