اس کی جانب یوں موڑ دی آنکھیں
اس کی جانب یوں موڑ دی آنکھیں اس کے چہرہ پہ چھوڑ دی آنکھیں پھر ترے خواب دیکھنے کے لیے ہم نے بستر پہ چھوڑ دی آنکھیں وہ جو آئے تو جاگ جاتی ہیں اس کی آہٹ سے جوڑ دی آنکھیں اب کے بالکل بھلا دیا اس کو اب کے بالکل نچوڑ دی آنکھیں
اس کی جانب یوں موڑ دی آنکھیں اس کے چہرہ پہ چھوڑ دی آنکھیں پھر ترے خواب دیکھنے کے لیے ہم نے بستر پہ چھوڑ دی آنکھیں وہ جو آئے تو جاگ جاتی ہیں اس کی آہٹ سے جوڑ دی آنکھیں اب کے بالکل بھلا دیا اس کو اب کے بالکل نچوڑ دی آنکھیں
کیسے کیسے منظر میری آنکھوں میں آ جاتے ہیں یادوں کے سب خنجر میری آنکھوں میں آ جاتے ہیں میری پیاسی آنکھیں پھر بھی رہ جاتی ہیں پیاسی ہی یوں تو سات سمندر میری آنکھوں میں آ جاتے ہیں کس کی یاد کی خوشبو سے میں دن بھر مہکا رہتا ہوں کس کے خواب سنور کر میری آنکھوں میں آ جاتے ہیں کس ...
کیسے کیسے منظر میری آنکھوں میں آ جاتے ہیں یادوں کے سب خنجر میری آنکھوں میں آ جاتے ہیں میری پیاسی آنکھیں پھر بھی رہ جاتی ہیں پیاسی ہیں یوں تو سات سمندر میری آنکھوں میں آ جاتے ہیں کس کی یاد کا دریا میرے دل سے ہو کر بہتا ہے کس کے درد پگھل کر میری آنکھوں میں آ جاتے ہیں کس کی یاد کی ...
وو جو مجھ سے ملتا نہیں شاید مجھ کو سمجھا نہیں اس کا غم ہے میرا غم میرا غم کیوں اس کا نہیں اب تو ایسا لگتا ہے سچ بھی جیسے سچا نہیں اس کو کیسے بھولوں میں اب یہ میرے بس کا نہیں اب تو سب ہی کرتے ہیں پیار کسی کو ہوتا نہیں مجھ کو زندہ رکھتا ہے وو جو مجھ پہ مرتا نہیں
گیا اب آفتاب حشر کا بھی جلوہ گر ہونا شب فرقت ہماری ہے یہ کیا جانے سحر ہونا وہاں جا کر مرے نالوں کا یا رب بے اثر ہونا قیامت تھا کسی کا رات کو دشمن کے گھر ہونا بہت اچھے ہیں جن پر ظلم ہوتے ہیں زمانے کے اسی کو اہل دل کہتے ہیں منظور نظر ہونا خیال اک نازنیں کا دل میں پھر رہ رہ کے آتا ...
پوچھتے ہیں تری حسرت کیا ہے آج مجھ پر یہ عنایت کیا ہے کیا کہوں رنگ طبیعت کیا ہے ایک آفت ہے محبت کیا ہے ذبح کرتے ہو جو منہ پھیر کے تم ایسی بھی میری مروت کیا ہے جس میں تم خوش اسی میں میں خوش ہوں رنج کیا چیز ہے راحت کیا ہے بولتی ہی نہیں تصویر تری پھر مرے جینے کی صورت کیا ہے کسی ...
میں جو مر جاؤں عجب عالم رہے غم کو بھی مرنے کا میرے غم رہے آرزوئے وصل میں کیا دم رہے خون دل آ کر لبوں پر جم رہے چوڑیوں کی ہائے وہ دل کش صدا حشر تک یا رب مرا ماتم رہے بے خودی ہے خود فراموشی نہیں ہم نہیں ہیں آپ میں گر ہم رہے جب کسی کی بے کسی یاد آ گئی قتل میں دست ستم گر تھم رہے سامنے ...
دور مجھ تک نہیں آتا کبھی پیمانے کا کچھ عجب رنگ ہے ساقی ترے میخانے کا روشنی برق فلک لے کے دکھانے کو چلی رنگ دیکھا نہ گیا میرے سیہ خانے کا یاد آئیں کسی کافر کی گلابی آنکھیں رنگ دیکھا جو چھلکتے ہوئے پیمانے کا وہ ہوا خاک یہ جل جل کے گھلی جاتی ہے شمع نے چھین لیا سوز بھی پروانے ...
وعدہ رہا نہ یاد مرے مست خواب کو اب کیا جواب دوں دل پر اضطراب کو زیبا غرور و ناز تھا تیرے شباب کو ٹھکرا دیا مرے دل خانہ خراب کو چمکے جو داغ دل مرے روز سیاہ میں تارے دکھائی دینے لگے آفتاب کو میدان حشر میں نہ قیامت بپا ہو اور میں دل سنبھالوں آپ سنبھالیں نقاب کو لاکھوں میں چن لیا ...
وہ چل کے ناز سے اے دل ادھر کو دیکھتے ہیں ہم ان کی چال کو ان کی نظر کو دیکھتے ہیں ہم ان کی آنکھ کو ان کی نظر کو دیکھتے ہیں وہ بزم غیر میں دیکھیں کدھر کو دیکھتے ہیں سمجھ میں کچھ نہیں آتا یہ کیا قیامت ہے سب اہل حشر اسی فتنہ گر کو دیکھتے ہیں نہ اس نے جان چرائی نہ اس نے منہ موڑا ہم ان کی ...