مجھ کو یہ چھیڑ کہ تم سے بھی حسیں ہوتے ہیں
مجھ کو یہ چھیڑ کہ تم سے بھی حسیں ہوتے ہیں ان کو یہ ضد کہ دکھا دو جو کہیں ہوتے ہیں ان کو ہم سے ہے تعلق نہ ہمیں ان سے غرض اب یہیں ہوتے ہیں شکوے نہ وہیں ہوتے ہیں ان سے بچ جائے جو ایماں تو غنیمت سمجھو خوش نگاہوں میں بہت رہزن دیں ہوتے ہیں لاکھ وہ ناز سے ٹھکرائیں عدو کی تربت یہ عجب بات ...