قومی زبان

کیوں ہر عروج کو یہاں آخر زوال ہے

کیوں ہر عروج کو یہاں آخر زوال ہے سوچیں اگر تو صرف یہی اک سوال ہے بالائے سر فلک ہے تو زیر قدم ہے خاک اس بے نیاز کو مرا کتنا خیال ہے لمحہ یہی جو اس گھڑی عالم پہ ہے محیط ہونے کی اس جہان میں تنہا مثال ہے آخر ہوئی شکست تو اپنی زمین پر اپنے بدن سے میرا نکلنا محال ہے سورج ہے روشنی کی ...

مزید پڑھیے

ایک رہنے سے یہاں وہ ماورا کیسے ہوا

ایک رہنے سے یہاں وہ ماورا کیسے ہوا سب سے پہلا آدمی خود سے جدا کیسے ہوا تیرے بارے میں اگر خاموش ہوں میں آج تک پھر ترے حق میں کسی کا فیصلہ کیسے ہوا ابتدا میں کیسے صحرا کی صدا سمجھی گئی آخرش سارا زمانہ ہم نوا کیسے ہوا چند ہی تھے لوگ جن کے سامنے کی بات تھی میں نے ان لوگوں سے خود جا ...

مزید پڑھیے

تیسری بیٹی

میں نے جب جنم لیا تو میری ماں مجھے چھاتی سے لگائے رو رہی تھی میری بھوک نے چلانا شروع کیا میں نے دودھ کی بجائے اپنی ماں کے آنسوؤں کا نمک چکھا پھر میں آنسو پیتے پیتے جوان ہو گئی اور آنسو پی کر جوان ہونے والی لڑکیوں کو اگر سانپ بھی کاٹ لے تو وہ مر جاتا ہے

مزید پڑھیے

نیک پروین

یہ ضروری نہیں تم جس پروین کی تلاش میں ہو وہ نیک بھی ہو اکثر زندگی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے والی لڑکیاں پیچھے رہ جاتی ہیں اور چھپکلی اور کاکروچ سے ڈرنے والی لڑکیاں محبت کی دوڑ میں اول آ جاتی ہیں عجیب شہر ہے دشمن تو ہنس کے ملتا ہے یہ مرے دوست ہیں جو بے رخی سے ملتے ہیں تمہارے ...

مزید پڑھیے

خیال

تم ایک خوب صورت خیال ہو جسے میں ہمیشہ سنبھال کر رکھتی ہوں اور اکثر تنہائی میں تھک کر تمہارے خیال سے سراپا سوال بن کر لپٹ جاتی ہوں

مزید پڑھیے

لمس اپنی کہانی نہیں بھولتا

دل نہیں مانتا مجھ کو سچ سچ بتا آج بھی تیرے کمرے کی کوری مہک ڈھونڈھتی ہے مجھے تیرے سونے دریچے کی بیکل ہوا جس نے پکڑا تھا اک روز دامن مرا جب ترے پاس آئی وہ جان وفا تجھ سے پوچھا مرا شیلف میں رکھی ساری کتابوں کے اوپر جمی دھول میں ان میں رکھے ہوئے کاسنی پھول میں تیرے معمول میں اب بھی ...

مزید پڑھیے

حوصلہ

یوں ہی گم صم کھڑی تھی میں اسے اذن سفر دے کر ہزاروں بار خود سے ہی لڑی تھی میں کسی کو لوٹ جانے کی خبر دے کر فقط اک پل لگا اس کو مری دہلیز کی حد پار کرنے میں مجھے صدیاں لگیں خود کو مگر تیار کرنے میں

مزید پڑھیے

کوئی دشمن نہیں ہوتا برے حالات کے پیچھے

کوئی دشمن نہیں ہوتا برے حالات کے پیچھے کوئی اپنا ہی ہوتا ہے کسی بھی گھات کے پیچھے فقط اتنا کہا تھا نا ہمیں تم سے محبت ہے ہماری جان لو گے کیا ذرا سی بات کے پیچھے تجھے معلوم ہے گوری کہ بارش کیوں ہوئی اس دن کوئی اشکوں سے رویا تھا تری بارات کے پیچھے شکست فاش دشمن نے ہمیں ایسے نہیں ...

مزید پڑھیے

زاویے بہاروں کے سب حسین ہوتے ہیں

زاویے بہاروں کے سب حسین ہوتے ہیں جھوٹ کے سبھی موسم بے یقین ہوتے ہیں ہم بھی جان کر ان سے عہد و پیماں کرتے ہیں اس کے جھوٹے وعدے بھی دل نشین ہوتے ہیں جھیلتے ہیں سارا دکھ لب پہ کچھ نہیں لاتے درد کی رفاقت کے جو امین ہوتے ہیں سیپ میں ہی رہتے ہیں صورت صدف بن کر دل میں یاد کے موتی یوں ...

مزید پڑھیے

جس میں دل کش وفا کا پھول نہیں

جس میں دل کش وفا کا پھول نہیں ایسی چاہت مجھے قبول نہیں تو جسے روند کے گزر جائے میں تری راہ کی وہ دھول نہیں کیوں ہو لاحق مجھے پشیمانی عشق کرنا تو کوئی بھول نہیں میری خوشیاں بھی اس کے ساتھ گئیں کون کہتا ہے میں ملول نہیں وہ محبت کا راستہ کب ہے جس میں پتھر نہیں ببول نہیں جیسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1397 سے 6203