قومی زبان

تیری آنکھوں سے دوستی ہوئی ہے

تیری آنکھوں سے دوستی ہوئی ہے تب کہیں جا کے روشنی ہوئی ہے اب تجھے عذر کیا ہے آنے میں دیکھ برسات بھی تھمی ہوئی ہے یہ خسارہ تو میں اٹھا چکی ہوں یہ محبت تو میں نے کی ہوئی ہے صرف یہ شام ہی نہیں ہے سرد برف باتوں میں بھی جمی ہوئی ہے تم سے اتنا بھی کہہ نہیں پائی تم سے مل کر مجھے خوشی ...

مزید پڑھیے

نظم گنتی

جاتی ہوئی محبت آتی ہوئی موت کی طرح لگتی ہے جاتی ہوئی محبت نے گھر کو مکان میں تبدیل کر دیا ہے گھر میں آدمی سانسیں جیتا ہے مکان میں آدمی سانسیں گنتا ہے یوں سانسوں کی گنتی میں آخر کار گنتی کی سانسیں رہ جاتی ہیں

مزید پڑھیے

راستہ

میں جانتی ہوں کہ موت کے کئی راستے ہیں جیسے ریل کی پٹری سمندر اور تیری بدلی ہوئی جھیل سی آنکھیں مگر زندگی کا ایک ہی راستہ ہے خاموشی فاصلہ ضروری ہے میں روزانہ دفتر میں تاخیر سے پہنچتی ہوں اور اپنی زنجیر پہن کر بیٹھ جاتی ہوں میں ٹائپ رائیٹر پر ہاتھوں کا غلط استعمال نہیں کرتی چھ ...

مزید پڑھیے

کٹھ پتلی

جیتی جاگتی عورت کو کٹھ پتلی بنانے میں تمہیں کافی وقت لگ گیا لیکن تمہاری محنت رائیگاں نہیں گئی اب وہ تمہارے تھپڑ نہیں گنتی مگر تم اس کی روٹیاں گنتے ہو اب وہ تمہارے ہونٹوں کی جنبش تمہارے انکھوں کے اشارے پہ رہتی ہے اور تمہاری خاموشی میں اپنا ڈر بناتی رہتی ہے اور تمہیں لگتا ہے کہ وہ ...

مزید پڑھیے

معصومیت

ہمارے یہاں بچے کو جو ابھی پوری طرح کھڑا ہونا بھی نہ سیکھا ہو پستول ہاتھ میں دے دی جاتی ہے دو چار بار اسے زمین پر گرا کر اسے پستول سنبھالنا اور پھر ہات کو ذرا سی جنبش سے اسے انگلیوں کے درمیان پھر کی کی طرح بھی آ جاتا ہے لڑکپن پھلانگنے سے پہلے اسے دو ایک آدمی گرانا ہوتے ہیں بڑے ہونے ...

مزید پڑھیے

درباری مغنی

میں ایک دھتکارا ہوا درباری مغنی ہوں دربار سے دھتکار دئے جانے سے پہلے میرے حلق میں سیندور کی ایک پوری شیشی الٹ دی گئی ہے اب میرا گلا محض غذا کی نالی بن کر رہ گیا ہے مجھے اپنے گلے کے سوز و ساز سے محروم کیے جانے سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ میں اپنے معدے میں اتری ہوئی ...

مزید پڑھیے

تنکا

یہ چھوٹی سی ندی تو محض ندی کی ہلکی سی جھلک ہے ندی کا پورا پاٹ دیکھنا ہو تو میرے دل میں اتر کر دیکھو جہاں سے اس کے سوتے پھوٹتے ہیں لیکن میرے دل سے ایک نہیں کئی ندیوں کے سوتے پھوٹتے ہیں کبھی کبھی یہ سوتے خشک بھی ہو جاتے ہیں اور دل میں دھول سی اڑنے لگتی ہے دل ایک ریت کے ٹیلے کی طرح ...

مزید پڑھیے

کٹی پہاڑی

ہمارے شہر کی آبادی کے درمیان کسی بھی سمجھوتے کے امکان کو مسترد کرتے ہوے شہر کے شمال مغرب میں دور تک پھیلی ہوئی پہاڑی میں ایک شگاف ڈال دیا گیا ہے پہاڑی کو کاٹنے کا یہ اچھوتا خیال شہر کے کچھ معماروں کے ذہن میں کیا آیا شہر کے مکانوں کے در و دیوار اس نئی تفریق کے شور و شر سے تپ کر سرخ ...

مزید پڑھیے

الگ الگ اکائیاں

صبح سے میں اس گھڑی کی ٹک ٹک سن رہا ہوں جو دیوار سے اچانک غائب ہو گئی ہے لیکن ہر گھنٹے کے اختتام پر الارم دینے لگتی ہے اور پھر ٹک ٹک ٹک کبھی کبھی یہ ٹک ٹک مجھے اپنے سینے میں سنائی دیتی ہے کبھی کلائی کی نبض میں پھر تو جس چیز کو اٹھا کر کان سے لگاتا ہوں وہ ٹک ٹک کرنے اور الارم دینے لگتی ...

مزید پڑھیے

نظم

میں اسے بلاتا ہوں اور وہ آ جاتا ہے میری کتابوں کے ورق الٹ پلٹ کرتا ہے پھر وہ میری میز پر پاؤں رکھ کر اس کی ماں نے بھی اس کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا اور اس کی ماں کے ساتھ اور اس کی ماں نے بھی تو کیا تم نے اپنی ماں کو معاف کر دیا تھا؟ اور کیا لوٹ کے آنے والی ماں پہلے والی ماں ہی تھی؟ میرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1398 سے 6203