قومی زبان

خاک میں ملتی ہیں کیسے بستیاں معلوم ہو

خاک میں ملتی ہیں کیسے بستیاں معلوم ہو آنے والوں کو ہماری داستاں معلوم ہو جو ادھر کا اب نہیں ہے وہ کدھر کا ہو گیا جو یہاں معدوم ہو جائے کہاں معلوم ہو مرحلہ تسخیر کرنے کا اسے آسان ہے گر تجھے اپنا بدن سارا جہاں معلوم ہو جو الگ ہو کر چلے سب گھومتے ہیں اس کے گرد یوں جدا ہو کر گزر کہ ...

مزید پڑھیے

فقط زمین سے رشتے کو استوار کیا

فقط زمین سے رشتے کو استوار کیا پھر اس کے بعد سفر سب ستارہ وار کیا بس اتنی دیر میں اعداد ہو گئے تبدیل کہ جتنی دیر میں ہم نے انہیں شمار کیا کبھی کبھی لگی ایسی زمین کی حالت کہ جیسے اس کو زمانے نے سنگسار کیا جہان کہنہ ازل سے تھا یوں تو گرد آلود کچھ ہم نے خاک اڑا کر یہاں غبار کیا بشر ...

مزید پڑھیے

برائے نام سہی سائباں ضروری ہے

برائے نام سہی سائباں ضروری ہے زمین کے لیے اک آسماں ضروری ہے تعجب ان کو ہے کیوں میری خود کلامی پر ہر آدمی کا کوئی راز داں ضروری ہے ضرورت اس کی ہمیں ہے مگر یہ دھیان رہے کہاں وہ غیر ضروری کہاں ضروری ہے کہیں پہ نام ہی پہچان کے لیے ہے بہت کہیں پہ یوں ہے کہ کوئی نشاں ضروری ہے کہانیوں ...

مزید پڑھیے

کیسے جانوں کہ جہاں خواب نما ہوتا ہے

کیسے جانوں کہ جہاں خواب نما ہوتا ہے جبکہ ہر شخص یہاں آبلہ پا ہوتا ہے دیکھنے والوں کی آنکھوں میں نمی تیرتی ہے سوچنے والوں کے سینے میں خلا ہوتا ہے لوگ اس شہر کو خوش حال سمجھ لیتے ہیں رات کے وقت بھی جو جاگ رہا ہوتا ہے گھر کے بارے میں یہی جان سکا ہوں اب تک جب بھی لوٹو کوئی دروازہ ...

مزید پڑھیے

رات اندر اتر کے دیکھا ہے

رات اندر اتر کے دیکھا ہے کتنا حیران کن تماشا ہے ایک لمحے کو سوچنے والا ایک عرصے کے بعد بولا ہے میرے بارے میں جو سنا تو نے میری باتوں کا ایک حصہ ہے شہر والوں کو کیا خبر کہ کوئی کون سے موسموں میں زندہ ہے جا بسی دور بھائی کی اولاد اب وہی دوسرا قبیلہ ہے بانٹ لیں گے نئے گھروں ...

مزید پڑھیے

الگ ہیں ہم کہ جدا اپنی رہگزر میں ہیں

الگ ہیں ہم کہ جدا اپنی رہگزر میں ہیں وگرنہ لوگ تو سارے اسی سفر میں ہیں ہماری جست نے معزول کر دیا ہم کو ہم اپنی وسعتوں میں اپنے بام و در میں ہیں یہاں سے ان کے گزرنے کا ایک موسم ہے یہ لوگ رہتے مگر کون سے نگر میں ہیں جو در بدر ہو وہ کیسے سنبھال سکتا ہے تری امانتیں جتنی ہیں میرے گھر ...

مزید پڑھیے

گم نام ساحل

ملو اک دن کسی گم نام ساحل پر وہاں پر ہم قدم ہو کر چلیں گے دور تک یوں ہی ہم اپنے بھیگے پیروں کے نشاں کو ریت کے دامن سے چن کر منزلوں کے ہاتھ میں دے کر کوئی وعدہ کریں گے نیا سپنا بنیں گے اٹھا کر کوئی ارماں ریگ ساحل سے ہم اک دن سیپیوں کے دل میں رکھ دیں گے تاکہ ابر نیساں جب بھی برسے سیپیاں ...

مزید پڑھیے

خود سے نکلوں تو الگ ایک سماں ہوتا ہے

خود سے نکلوں تو الگ ایک سماں ہوتا ہے اور گہرائی میں اتروں تو دھواں ہوتا ہے اتنی پیچیدگی نکلی ہے یہاں ہونے میں اب کوئی چیز نہ ہونے کا گماں ہوتا ہے اک تسلسل کی روایت ہے ہوا سے منسوب خاک پر اس کا امیں آب رواں ہوتا ہے سب سوالوں کے جواب ایک سے ہو سکتے ہیں ہو تو سکتے ہیں مگر ایسا کہاں ...

مزید پڑھیے

پھر اس کے بعد راستہ ہموار ہو گیا

پھر اس کے بعد راستہ ہموار ہو گیا جب خاک سے خیال نمودار ہو گیا اک داستان گو ہوا ایسا کہ اپنے بعد ساری کہانیوں کا وہ کردار ہو گیا سایہ نہ دے سکا جسے دیوار کا وجود اس کا وجود نقش بہ دیوار ہو گیا آنکھیں بلند ہوتے ہی محدود ہو گئیں نظریں جھکا کے دیکھا تو دیدار ہو گیا وہ دوسرے دیار کی ...

مزید پڑھیے

کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے

کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے کبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جو واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1396 سے 6203