قومی زبان

میرے شاعر زندہ رہنا

مرا دل کچھ ڈوب رہا ہے جب سے میں نے نم پلکوں کی اوس میں ڈوبی ڈوبی سی اک نظم پڑھی ہے چپ چپ بیٹھی سوچ رہی ہوں تم نے آخر یہ کیوں سوچا تم تنہا ہو میری آنکھ کا سارا افسوں میرا کومل کومل سایہ نرم ہوا میں شامل ہو کے پاس تمہارے نہ آیا کیا چپ چپ بیٹھی سوچ رہی ہوں تم نے آخر یہ کیا لکھا ٹوٹا ...

مزید پڑھیے

نیا جنم

تمام معصوم آرزوئیں جو میرے بچپن کی ہم سفر تھیں اب اک نیا رنگ روپ لے کر مرے لبوں پر مچل رہی ہیں دعا کی صورت ابھر رہی ہیں

مزید پڑھیے

نظم

سورج کتنا پیارا ہے بادل کتنے اجلے ہیں چاروں اور دمکتے چہرے کومل کلیاں ننھے پودے نرم ہوائیں بہتا پانی روتی ہنستی ساری آنکھیں رنگ برنگے سارے نغمے کتنا من کو بھاتے ہیں سچ مچ دیکھو زندہ رہنا کتنا اچھا لگتا ہے

مزید پڑھیے

من میں خوشبو

کان میں بالا اور گلے میں ایک اچھوتی زرد بسنتی مالا نینن میں اک جوت انوکھی میں ہوں سجنی اپنے پیا کی (۲) وہ تو میرا اک اک آنسو پیار سے پونچھا کرتا ہے بنسی گیت سناتا ہے ہاتھ پکڑ کے میرا وہ تو بادل بادل پھرتا ہے تم تو مجھ سے ہر دم ہر پل ملنے سے کتراتے ہو بات ادھوری سنتے ہو خود میں الجھے ...

مزید پڑھیے

دشمن کے لئے دعا

خدائے برتر ہماری چیخیں ہمارے سینوں میں جم گئی ہیں تمام ساتھی تمام گھائل ہمارے قاتل بنے ہوئے ہیں کبھی تو ان کے تمام چھالے ہمارے خوں کو جلا رہے ہیں کبھی یہ سارے علیل انساں گریز و طنز و جفا کے آرے چلا رہے ہیں جواب کیا دیں خدائے برتر انہیں شفا دے کہ ہم وہ اپنے تمام رنگوں کی ...

مزید پڑھیے

آنسو

میں کانپتا آنسو ہوں بس یہ میری ہستی ہے پل بھر کے لئے میری پلکوں پہ بسیرا ہے اب یہ تری مرضی ہے مٹی میں ملا دے یا آنکھوں میں جگہ دے دے

مزید پڑھیے

گھٹن

دور تک فضاؤں میں جب گھٹن کا پہرہ ہو زرد رو بگولے ہوں منجمد سا دریا ہو پیڑ سوکھے سوکھے ہوں پھول لو میں جلتے ہوں سب مکان ویراں ہوں شہر سونا سونا ہو جب بھی ایسا موسم ہو مجھ کو یاد کر لینا کھلکھلاتے ساون کا کچھ خیال کر لینا

مزید پڑھیے

زندگی سے حسیں اداسی ہے

زندگی سے حسیں اداسی ہے یہ مری ہم نشیں اداسی ہے کب سے پندار میں مقید ہے کیسی پردہ نشیں اداسی ہے لحظہ لحظہ اسے کشید کرو کہ مے انگبیں اداسی ہے جرعہ جرعہ پلا مجھے ساقی من ہرن ساتگیں اداسی ہے کعبۂ دل میں ہے جو محو طواف جہاں تاب جبیں اداسی ہے پربتوں وادیوں میں بستی ہے جنگلوں کی ...

مزید پڑھیے

کیوں آنکھ سے سرخی اب چھلکی ہوئی لگتی ہے

کیوں آنکھ سے سرخی اب چھلکی ہوئی لگتی ہے یہ نیند کی رانی بھی روٹھی ہوئی لگتی ہے یادوں کا تسلسل ہے گھنگھور جدائی ہے ساون کی طرح یہ بھی چھائی ہوئی لگتی ہے سوجھے نہ مداوا کیوں خود میرے مسیحا کو زخموں کی طرح چاہت رستی ہوئی لگتی ہے آواز یہ کس نے دی پھر یاد یہ کون آیا بے تابئ دل کچھ ...

مزید پڑھیے

مجھ کو آواز دے

سونا سونا ہے گھر بے اثر بام و در یوں نہ ہوگی بسر مجھ کو آواز دے روح گھبرائی ہے تیرگی چھائی ہے اے دمکتی سحر مجھ کو آواز دے اشک بہنے لگے زخم کھلنے لگے اے مرے چارہ گر مجھ کو آواز دے زندگی کچھ نہیں روشنی کچھ نہیں بن ترے ہم سفر مجھ کو آواز دے آرزو کے لئے جستجو کے لئے ہر نئے موڑ پر مجھ کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1341 سے 6203